Monday , September 25 2017
Home / اداریہ / زوال پذیر سیاسی اقدار

زوال پذیر سیاسی اقدار

ماضی میں تھے اقدار سیاست کی اساس
اور آج ہیں متروک سیاسی اقدار
زوال پذیر سیاسی اقدار
ہندوستان کی جمہوریت اور یہاں کی سیاست کو روایتی طور پر اقدار پر مبنی کہا جاتا ہے ۔ یہاں اخلاق و اقدار کا خاص طور پر خیال رکھا جاتا رہا ہے ۔ ہماری تہذیب صدیوں پرانی رہی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ وقت کے ساتھ یہ روایت بھی بدل رہی ہے اور اب اقدار اور اخلاق کی کسی کو فکر نہیں رہ گئی ہے ۔ خاص طور پر سیاسی اقدار کی کسی کو پرواہ نہیں ہے اور کوئی بھی اس کی فکر کرنے اور اس کا پاس و لحاظ کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ گذشتہ دنوں بی جے پی کے لیڈر اور اترپردیش یونٹ کے اس کے نائب صدر دیا شنکر سنگھ نے اپنے تکبر میں مایاوتی کے خلاف ایسا ریمارک کردیا جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ حالانکہ ہندوستان میں سیاسی قائدین کی جانب سے وقفہ وقفہ سے جنسی امتیاز کے مسئلہ پر ایسے ریمارکس کئے جاتے رہے ہیں جنہیں افسوسناک کہا جانا چاہئے اور ان ریمارکس سے گریز کیا جانا چاہئے لیکن دیا شنکر سنگھ نے تو شخصی طور پر مایاوتی کو نشانہ بناتے ہوئے ایسا ریمارک کیا جو انتہائی ناذیبا کہا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے مایاوتی کی جانب سے انتخابات میں پارٹی امیدواروں میں ٹکٹوں کی فروخت پر تبصرہ کرتے ہوئے ضرورت سے زیادہ جوش و خروش کا مظاہرہ کرنے کے مقصد سے ایسا ریمارک کیا جو ان کیلئے مہنگا ثابت ہوگیا ۔ مایاوتی ہندوستان میں دلتوں کی لیڈر تسلیم کی جاتی ہیں اور انہوں نے ہمیشہ خود کو دلت کی بیٹی کے طور پر پیش کیا ہے ۔ وہ دلتوں میں انتہائی مقبولیت رکھتی ہیںاور ملک کی سب سے اہم اور سیاسی اعتبار سے اہمیت کی حامل ریاست اتر پردیش کی چار مرتبہ وزیر اعلی رہی ہیں۔ یہ ان کی عوامی مقبولیت کا ثبوت ہے ۔ اس کے باوجود دیا شنکر سنگھ نے ان کا تقابل ایک گرے ہوئے غیر مہذب پیشے سے کردیا ۔ اب انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے اور انہیں بی جے پی نے پارٹی سے چھ سال کیلئے معطل کردیا ہے اور انہیں عہدوں سے ہٹادیا گیا ہے ۔ دیا شنکر سنگھ کے یہ ریمارکس جہاں سیاسی اقدار و اخلاق کے مغائر ہیں وہیں ان سے بی جے پی کیلئے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیںاور بی جے پی خاص طور پر اتر پردیش میں جہاں آئندہ سال انتخابات ہونے والے ہیں ‘ ان ریمارکس کے اثر سے بچنا چاہتی ہے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ اس نے فوری حرکت میں آتے ہوئے انہیں پارٹیس ے خارج کردیا ۔
دیا شنکر سنگھ کے خلاف پارٹی نے جو کارروائی کی ہے یا پولیس ان کے خلاف جو کارروائی کریگی وہ اپنی جگہ الگ مسئلہ ہیں لیکن ان کے ریمارکس اس ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جو انتہائی پستی کی مثال بنتی جا رہی ہے ۔ ہندوستان میں سیاسی مخالفتیں اس حد تک شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں کہ انہیں ذات پات اور رنگ و نسل اور مذہب سے جوڑا جانے لگا ہے ۔ کسی بھی مسئلہ کو ایک الگ رنگ دیتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنا سیاسی جماعتوں کا وطیرہ ہوگیا ہے اور خاص طور پر اس ملک میں دلتوں اور اقلیتوں کو نشانہ بنانا ہر ایک کا محبوب مشغلہ ہوگیا ہے ۔ فسطائی ذہنیت رکھنے والے عناصرایسا لگتا ہے کہ ہندوستانی سیاست میں غلبہ حاصل کرتے جار ہے ہیں اور ان کے خلاف کسی کارروائی کا نہ ہونا بھی ان کیلئے حوصلہ افزائی کا کام کر رہا ہے ۔ کسی گوشے سے مسلمانوں کے خلاف ناذیبا ریمارکس ہوتے ہیں تو کوئی گوشہ عیسائیوں کو نشانہ بناتا ہے اور اب دلتوں کو تختہ مشق بنانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ یکا دوکا پیش آنے والے واقعات ہیں۔ یہ واقعات ایک تسلسل سے پیش آتے جا رہے ہیں اور اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ آیا یہ ایک منظم سازش کا حصہ تو نہیں ہیں؟ ۔ جو عناصر اس طرح کی عصبیت اور نفرت کا مظاہرہ کر رہے ہیں ان کو حکومتوں اور حکام کی خاموشی سے حوصلہ مل رہا ہے اور یہی حوصلہ ملک کے ماحول کو پراگندہ کرنے کا باعث بن رہا ہے ۔ ساتھ ہی اس ذہنیت کو دور کرنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا یہ اور ایسے حالات پیش آ رہے ہیں۔
اس ملک میں دلت اور اقلیتیں انتہائی پسماندہ ہیں اور ان کے حالات مسلسل دگرگوں ہوتے جا رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں دلتوں اور اقلیتوں کو فسطائی طاقتوں کے خلاف متحد ہوکر اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے ۔ یہ دونوں طاقتیں اگر مل جائیں تو پھر فسطائی طاقتوں کو حاشیہ پر لا کھڑا کرنا مشکل نہیں ہوگا ۔ جب تک یہ دونوں طاقتیں متحد نہیں ہوجاتیں اور متعصب ذہنیت کے حامل عناصر اور سیاسی اخلاق و اقدار سے عاری قائدین اسی طرح کے ناذیبا ریمارکس کرتے رہیں گے ۔ انہیں صرف سیاسی جماعتوں سے علیحدہ کرنا یا ان کو معطل کردینا مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔ ان کے خلاف باضابطہ کارروائی کرتے ہوئے اس ذہنیت سے اتفاق رکھنے والوں کو بھی یہ پیام دینے کی ضرورت ہے کہ ایسے ریمارکس کو کم از کم ہندوستانی معاشرہ میں برداشت نہیں کیا جائیگا ۔

TOPPOPULARRECENT