Thursday , August 17 2017
Home / مضامین / زوال کا نقطۂ آغاز

زوال کا نقطۂ آغاز

کے این واصف
قارئین کرام ! گزشتہ ہفتہ ہم نے حیدرآباد میں ایک ماہ قیام کا آنکھوں دیکھا حال تو نہیں بلکہ اپنی آنکھوں کا حال پیش کیا تھا لیکن اس ایک ماہ کے عرصہ میں کانوں نے جو سنا اس کا ذکر اس تحریر میں نہیں تھا ۔ پچھلے ایک ماہ میں ہم اور آپ نے جو خبریں سنی یہ وہ خبریں ہیں جس نے دنیا بھر میں ہندوستان کو رسواء کیا ۔ یہ وہ خبریں تھیں جنہوں نے ہندوستان کے ہر شریف النفس انسان کو دکھی کیا ۔ یہ وہ خبریں تھیں جنہوں نے ہندوستان کی برسر اقتدار پارٹی کی گردن شرم سے جھکادی۔ یہ وہ خبریں تھیں جنہوں نے ملک کے انتظامی ڈھانچہ پر سوالیہ نشان لگادیا۔ یہ وہ خبریں تھیں جنہوں نے ملک کے کروڑہا عوام کو کفِ افسوس ملنے پر مجبور کیا جنہوں نے ملک میں ’’اچھے دن آئیں گے‘‘ کے فریبی نعرے پر اپنے بھروسہ کی مہر لگائی تھی ۔ یہ وہ خبریں تھیں جنہوں نے ملک کے سیکولر چہرے پر کالک پوت دی ۔ یہ وہ خبریں تھیں جنہوں نے مسلمانوں کے دستور ہند میں اعتماد کو متزلزل کیا ۔ یہ وہ خبریں تھیں جنہوں نے ملک کے ذی شعور ہندوؤں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا ہمارے دھرم کی یہ تعلیمات ہیں۔ جی ہاں ! یہ وہ خبریں تھیں جس میں گائے کاٹنے یا گائے کے گوشت کھانے کے شک پر انسانی جانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

گائے ہندوستان میں سینکڑوں برس سے کاٹی اور کھائی جارہی تھی۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والے لاکھوں افراد گائے کا گوشت کھاتے رہے ہیں۔ پھر گائے کا ٹنے ، گائے کا گوشت کھانے پر اچانک یہ واویلا کیوں مچایا جارہا ہے۔ اصل میں جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے تب سے سنگھ پریوار سے جڑے افراد کے ذہنوں میں یہ بات سما گئی ہے کہ آر ایس ایس کے ایوان اعلیٰ میں وہی افراد سرخرو ہوتے ہیں یا پارٹی میں ترقی پارہے ہیںجوسب سے زیادہ اقلیتوںاور خصوصاً مسلمانوں پر ظلم کریں گے یا اسلام کے خلاف زہر اگلیں گے ۔ یہی وجہ ہے سنگھ پریوار کے بڑے قائدین سے چھوٹے کارندے تک مسلمانوں اور اسلام کے خلاف بیانات دینے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ میں ہیں۔ عوامی جلسوں کے علاوہ یہ لوگ اپنے شر انگیز بیانوں کو Youtube پر لوڈ بھی کرتے ہیں اور ان بیانوں سے شہہ پاکر غنڈہ عناصر قتل و غارت گیری کا بازار گرم کرکے پارٹی میں اپنا قد اونچا کرنے کی کوشش کرر ہے ہیں۔ پچھلے ایک ماہ میں اترپردیش ، کشمیر اور دہلی کے مضافات میں گائے منتقلی ، گائے کا گوشت گھر میں رکھنے اور کھانے کو شاخسانہ بناکر قتل اور زندہ جلانے کی وارداتیں ہوئی ہیں۔ بے وجہ قتل کی ان وارداتوں پر قومی ٹیلی ویژن چیانلس پر بڑے مباحث ہوئے ، ان واقعات نے ملک بھر کے اخباروں میں سرخیاں حاصل کیں مگر عدل و انصاف کے ایوانوں اور قانون کے محافظین کی جانب اپنے ہاتھ میں قانون لینے والوں کیلئے کوئی سخت اقدام کی بات سامنے نہیں آئی جبکہ اس سلسلے  میں سنگھ  پریوار کے کئی قائدین ملک کے دستور کو چیالنج کرنے والے بیانات ریکارڈ کرکے ڈنکے کی چوٹ پر Youtube اور whatsapp وغیرہ پر جاری کر رہے ہیں ۔ مجرم اپنے جرم کے ثبوت خود پیش کر رہے ہیں لیکن اس شر انگیزی کے خلاف قانون کے محافظین ہاتھ پرہاتھ دھرے خاموش بیٹھے ہیں۔

اس درمیان بی جے پی کے ذمہ داران اور سنگھ پریوار کی دیگر تنظیموں کے اراکین کے اس سلسلے میں نت نئے بیان بھی سامنے آئے ۔ مثلاً کسی نے کہا کہ ویدوں کے مطابق گاؤ کشی کرنے والوں کو قتل کردیا جانا چاہئے ۔ کسی نے مانگ کی کہ گاؤ کشی پر امتناع عائد کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں سخت قانون منظور کیا جانا چاہئے ۔ کسی نے مشورہ دیا کہ گائے کشی کرنے والوں کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جانا چاہئے ۔ مسلمان قوم پیش نظر رکھ کر اس قسم کے بیانات اورمشورے دینے والوں پر یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ گائے کاگوشت کھانے کو اسلام میں صرف جائز قرار دیا ہے ۔ مسلمانوں پر فرض نہیں کیا گیا  اور اگر ہندوستان گائے کا گوشت دستیاب ہو تو مسلمان ،  غیر مسلم ، امیر ، غریب سب ہی کھانا چاہیں گے ۔ ایسا نہیں کہ صرف مسلمان ہی گائے کاگوشت کھانا پسند کرتے ہیں جو کوئی بھی بڑے جانور کا گوشت کھاتے ہیں ، چاہے ان کا تعلق کسی بھی فرقہ سے ہو ، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ گوشت سستے داموں پر ملتا ہے ، بنسبت چھوٹے جانور کے گوشت کے لیکن پچھلے کئی برس سے ہندوستان بھر میں لوگ امتناع کے قانون کی پابندی میں اور اپنے ہم وطنوں کے جذبات کے احترام کرتے ہوئے گائے کا ذبح کرنا اور گوشت کھانا بند کردیا ہے ۔ اب ملک میں صرف گائے ذبح کئے جانے کی جھوٹی یا من گھڑت خبر کے تحت وبال مچایا جاتا اور بغیر کسی شبہات و ثبوت کے انسانوں کا قتل کردیاجاتا ہے ۔

اب سوال یہ ہیکہ کیا ویدوں میں یہ لکھا ہے کہ گائے اگر کوئی مسلمان کاٹے تو وہ قتل کی سزا کا مستحق ، جبکہ خود ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے یہ کام کرتے ہیں ۔ اگرچہ کہ وہ خود گائے کا گوشت نہ کھاتے ہوں گے مگر اسکا کاروبار تو کرتے ہیں۔ ہندوستان دنیا کا دوسرا بڑا بیف اکسپورٹر ہے اور اس میں بشمول گائے دیگر بڑے جانور ذبح کر کے دنیا بھر میں فروخت کیا جاتا ہے اور ہندوستان کی جو بڑے پیمانہ پر بڑے جانور کا گوشت درآمد کرنے والی کمپنیاں ہیں ، ان کے مالکان یا بڑے حصہ دار ہیں ان کا تعلق ہندو مذہب سے ہے ۔ چلئے آج اگر ہندوستان کے سارے مسلمان اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے سارے لوگ، یہ عہد کرلیتے ہیںکہ وہ کبھی گائے کا گوشت نہیں کھائیں گے تو کیا آرایس ایس یا سنگھ پریوار ان سارے افرادکو سرے عام سولی پر لٹکا دیں گے جو گائے کا گوشت دنیا بھرمیں اکسپورٹ کرتے ہیں اور ان کی ساری فیکٹریاں بند کروادیں گے ؟ اور اگر اس کا جواب نہیں میں ہے تو اس کا مطلب یہ ہیکہ آپ کے پاس گائے کا مذہبی طورپر کوئی احترام نہیں۔ آپ صرف گائے سے اظہار محبت کا بہانہ بناکر آئے دن قتل و غارت گیری کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ ان کا مقصد صرف مسلمانوں کا جانی ومالی نقصان کرنا ہے ۔ انہیں ہراساں کرنا ، ان کی معیشت تباہ کرنا، ان کا جینا محال کرناہے ۔ ان ملک دشمن انتہا پسند عناصر کو یہ سوچنا چاہئے کہ اول تو ملک عالمی سطح پر بدنام ہورہا ہے ۔ دوسرے یہ کہ تم کس کو مٹانے کی کوشش کر رہے ہو۔ کیا ہندوستان میں مسلمان ہزار دو ہزار یا لاکھ دو لاکھ ہیں جنہیں دنگے فسادات کے ذریعہ ختم کردو گے اور اس کم عقل زعفرانی بریگیڈ کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اس طرح کی حرکتوں سے نہ ہندوستان ’’ہندو راشٹرا‘‘ بنے گا نہ ملک کا سیکولر ڈھانچہ ٹوٹے گا ۔ ہندوستان کی اکثریت ’’خاکی نیکر‘‘ کے ایجنڈے پرکبھی اپنے اتفاق کی مہر نہیں لگائے گی۔ یہ غنڈہ گردی ، ظلم و بربریت صرف ملک کی ترقی میں رکاوٹ بنے گی ۔ معیشت کی تباہی کا باعث بنے گی، ملک میں بے چینی اور افراتفری کا ماحول پیدا کرے گی ۔نیز بی جے پی اب عوام کو مزید بیوقوف نہیں بناسکے گی ۔ اس کو چاہئے کہ وہ یہ دنگے فساد کا کھیل ختم کرے کیونکہ دنگے فساد کی سیاست کی عمر لمبی نہیں ہوتی۔ ویسے اب بہار کی شکست بی جے پی کے زوال کا نقطۂ آغاز لگتا ہے اور ایسا ہونا ملک و قوم کے مفاد میں بھی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT