Friday , July 21 2017
Home / Mera Column / زینت ساجدہ

زینت ساجدہ

میرا کالم             مجتبیٰ حسین
ہم جمعرات کے دن اپنا کالم لکھتے ہیں۔ لہذا بُدھ کی شام ہی سے گڑگڑا کر دعا مانگنا شروع کردیتے ہیں کہ اے پروردگار ! اردو معاشرے پر کرم فرما اور اردو زبان و ادب کی درازی عمر کی خاطر اُن ادیبوں کی عمروں میں بھی اضافہ فرما جو اردو زبان میں لکھنے پڑھنے کا کام کرتے چلے جارہے ہیں، تاکہ اس طرح ہم ان کی رحلت پر تعزیتی کالم لکھنے سے محفوظ رہ سکیں۔ پچھلی جمعرات کو ہم نے رفعت سروشؔ کی یاد میں اپنا کالم لکھ کر اخبار کو روانہ کیا ہی تھا کہ ہم سب کی محبوب ہستی زینتؔ ساجدہ کے سانحہ ارتحال کی جاں سوز اطلاع آگئی ۔ بعض احباب کا خیال ہے کہ جس ر فتار سے ہم جانے والوں کی یاد میں تعزیتی کالم لکھتے چلے جارہے ہیں اگر یہی رفتار برقرار رہی تو ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ جب خود ہمارے گزر جانے کی صورت میں کوئی ڈھنگ کا ایسا لکھنے والا، جو ہم پر کچھ لکھ سکے، باقی نہ بچے گا ۔ مجید امجدؔ نے ایسی ہی صورتحال پر ایک خوبصورت شعر کہا تھا   ؎
میں روز اِدھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں کل اِدھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا

زینت آپا کے گزرجانے کا دھڑکا بارہ تیرہ دن پہلے سے لگا ہوا تھا جب انہیں مہاویر اسپتال کے آئی سی یو میں شریک کرایا گیا تھا ۔ ذہنی طور پر ہمیشہ چاق و چوبند اور مستعد رہنے والی زینت آپا اس سے پہلے کبھی اس قدر بیمار نہیں ہوئی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ صبح اٹھتے ہی ہم ان کی بہو شگفتہ شاہین یا اُن کی بیٹی آمنہ فردوس یا اُن کے داماد محبوبؔ مصطفیٰ فردوس سے اُن کی خیریت پوچھ لیا کرتے تھے ۔پچھلی جمعرات کی شام میں جب اچانک اپنے آپ ہی محمد محبوب مصفطی فردوس کا فون آیا تو ہم نے تاڑلیا کہ دکن دیس کی وہ سانولی سلونی ، نرم و ملائم اور خوشگوار تمازت رکھنے والی چمکدار دھوپ گزر گئی جو پچھلی چھ سات دہائیوں سے حیدرآبادی معاشرے ، یہاں کی تہذیب اور یہاں کی علمی و ادبی فضاء پر نہ صرف ضوفگن تھی بلکہ سایہ فگن بھی تھی ۔ اب ٹھیک سے یاد نہیں کہ زینت آپا کو پہلے پہل کہاں دیکھا تھا ۔ یہ ضرور یاد ہے کہ گلبرگہ انٹرمیڈیٹ کالج کے زمانہ طالب علمی میں اُن کے ’’جلترنگ‘‘ والے افسانے ضرور پڑھ رکھے تھے ۔ اب ان افسانوں کے کردار بھی یاد نہیں رہے۔ تاہم اوائل عمری میں پڑھے گئے ان افسانوں نے ایک ذہنی فضا بنادی تھی ۔ کانوں میں گھنٹیاں سی بج اٹھتی تھیں، دل میں جلترنگ کے تار جھنجھنا اُٹھتے تھے۔ اودے اودے بادلوں کے پس منظر میں رنگ برنگے پرندوں کی قطاریں محو پرواز ہوجایا کرتی تھیں۔ دکن کی سانولی سلونی شامیں عکس در عکس اپنے پیراہن بدلنے لگ جاتی تھیں۔ ساون کی گھنگھور گھٹائیں دل کی کھیتی میں امیدوں کے نئے نئے بیج بونے لگ جاتی تھیں اور محبوب کے خد و خال تو واضح طور پر دکھائی نہیں دیتے تھے ، البتہ اس کی دید کی آس میں پانچوں حواس ضرور مضطرب ہوجایا کرتے تھے۔ زینت آپا کو تو بہت بعد میں دیکھا۔ البتہ ان کی بعض چہیتی شاگردوں ناصرہ فضل اللہ ، آمنہ مینائی ، زیبا انصاری ، طیبہ رفعت ، رشید موسوی،عطیہ حفیظ، ذکیہ تقی، عفت موہانی ،شریف النساء ، صفیہ اریب ، لئیق صلاح ، آمنہ انصاری ، نسیمہ تراب الحسن وغیرہ کو گلبرگہ سے حیدرآباد آنے کے بعد دیکھا ۔ سب کی سب اپنی استاد کی چہیتی ، گرویدہ بلکہ دیوانی ۔ اپنی استاد کیلئے ایسی والہانہ وابستگی ، لگاوٹ ، احترام اور عقیدت بہت کم شاگردوں میں دیکھی ۔ زینت آپا ایک طویل عرصہ تک ویمنس کالج میں برسرکار رہیں اور اس طرح اُن کی خاتون شاگردوں کی اچھی خاصی تعداد سے ہماری ملاقات رہی ہے ۔ یوں بھی ان کی ہونہار طالبات ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ دنیا میں کوئی ملک ہمیں ایسا نہیں ملا جہاں ہم گئے ہوں اور وہاں زینت آپا کی کسی نہ کسی شاگرد نے اُن کی خیریت نہ دریافت کی ہو ، حالانکہ ان طالبات کی اکثریت اب نانیوں اور دادیوں میں تبدیل ہوچکی ہے لیکن زینت آپا کی خیریت کچھ ایسی سعادت مندی کے ساتھ پوچھیں گی جیسے ابھی ابھی زینت آپا کی کلاس اٹینڈ کر کے کالج سے لوٹی ہوں ۔ زینت آپا کیلئے اُن کے دل میں جو عقیدت ، جو خلوص اور احترام نظر آتا ہے ، اسے دیکھ کر ہمارے دل میں یہ قیاس اُبھرتا ہے کہ زینت آپا اپنی شاگردوںکو صرف سبق نہیں پڑھاتی تھیں بلکہ ضرور کوئی پٹّی بھی پڑھا دیتی تھیں۔ صرف علم کی دولت پاکر کسی طالب علم کو اس قدر والہانہ انداز میں اپنے استاد کا معتقد ، معترف ، ممنون اور مشکور ہوتے نہیں دیکھا ۔ بے شک ہم نے بھی اپنے استادوں کا احترام کیا۔ صرف اس لئے کہ بعض استادوں کے ہاتھوں میں چھڑی بھی ہوا کرتی تھی اور ایک زمانہ میں چھڑی کو بھی حصول علم کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا تھا ۔ صرف ایک استثنائی صورت آرٹس کالج کے پروفیسر دورائے سوامی کی تھی جو کسی بھی کلاس میں جب شکسپیئر کو پڑھاتے تھے تو ہم بے ساختہ اس کلاس میں جا کر بیٹھ جاتے تھے ۔ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے چار پانچ برس بعد ایک دن ہم اتفاق سے آرٹس کالج گئے تو ایک  کلاس روم میں سے پروفیسر دورائے سوامی کی آواز میں مارک انطونیؔ کی تقریر سنائی دی اور ہم بے ساختہ بروٹسؔ بن کر کلاس روم میں جا بیٹھے ۔ ہمیں دیکھ کر دورائے سوامی کی آنکھوں میں جو چمک پیدا ہوئی تھی وہ اب تک ہمیں یاد ہے۔ انہیں شکسپیئر کے سارے ڈرامے زبانی یاد تھے اور کسی کتاب کے بغیر جب وہ کوئی ڈرامہ پڑھاتے تھے تو سماں سا باندھ دیتے تھے ۔ زینت آپا کی شاگردوں کا بیان ہے کہ وہ جب غالب کو پڑھاتی تھیں تو غالب کو ہی پڑھاتی تھیں اور غالب کے سوائے کچھ نہیں پڑھاتی تھیں۔ آج کے اساتذہ کا سا حال نہیں تھا کہ ذؤقؔ کو پڑھائیں تو سودا کا اور سوداؔ کو پڑھائیں تو اس پر میر دردؔ کا گمان ہونے لگتا ہے ۔ وہ اردو کے ان اساتذہ میں سے نہیں تھیں جو کہیں لکچرر ہی لگ جاتے ہیں اور کسی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری کا پرزہ  حاصل کرلیتے ہیں تو فوراً نقاد، محقق ، پروفیسر اور دانشور وغیرہ بن جاتے ہیں۔ زینت آپا خالص استاد تھیں جیسے خالص شہد اور خالص دودھ ہوتا ہے بغیر ملاوٹ والا۔ اپنی چہیتی شاگردوں سے ان کا رشتہ صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہ جاتا تھا بلکہ ان کی شخصی زندگی کو سنوارنے اور خوشگوار بنانے کی خاطر وہ اپنی شفقتوں کے سائے کو حتی الامکان وسیع کرتی چلی جاتی تھیں۔

زینت آپا کو ہم نے پچاس کی دہائی کے آخری برسوں میں کسی تہذیبی پروگرام کے انعقاد کی تیاریوں میں مصروف دیکھا تھا ۔ حیدرآباد زبردست سیاسی ، سماجی اور معاشی تبدیلیوں سے گزر رہا تھا ۔ بائیں بازو کی تحریکات بھی زور پکڑتی جارہی تھیں۔ انہیں حیدرآبادی تہذیب ، حیدرآبادی رسومات ، حیدرآباد کے میلوں ، ٹھیلوں اور کھیلوں سے پیار تھا ۔ حیدرآبادی گیتوں کی وہ رسیا تھیں۔ حیدرآباد کے پھیری والوں اور سوئیاں پوت والیوں کی مخصوص آوازوں کو جمع کرنے کا بھی انہیں شوق تھا ۔ دکنی زبان اور دکنی ادب و تہذیب کے فروغ کیلئے ہمیشہ سرگرم عمل رہتی تھیں۔ زینت آپا اگرچہ محلہ فرحت نگر میں ہماری پڑوسن بھی رہیں اور ہمارے اوران کے گھر کے درمیان صرف ایک گھر کا فاصلہ تھا۔ وہ جس گھر میں رہا کرتی تھیں اب وہاں ہمارے دوست ڈاکٹر مشتاق کا مطب ہے ۔ تاہم انہیں ہم نے اپنے محلہ میں کھلے عام نہیں دیکھا ۔ ہمیشہ پردہ کے رکشا میں ویمنس کالج جایا کرتی تھیں۔ ابتداء میں وہ ہمیں ہمارے بھائیوں کی وجہ سے عزیز رکھتی تھیں۔ بعد میں جب ہم نے مزاح نگاری شروع کی تو ان کی شفقتوں میں مزید ا ضافہ ہوتا چلا گیا ۔ وہ خود بھی بے حد بذلہ سنج ، حاضر جواب اور فقرہ باز خاتون تھیں۔ کسی بھی محفل میں ہوتیں تو اپنی باتوں سے محفل کو زعفران زار بنادیتی تھیں۔ ہم جب بھی دہلی سے حیدرآباد آتے تو بسا اوقات حمایت اللہ کے ساتھ ان کے ہاں ضرور جاتے تھے ۔ حمایت بھائی کو وہ پیار سے چنو میاں پکارا کرتی تھیں۔ ہمیں یاد ہے کہ ستمبر 1969 ء میں ایک شام حیدرآباد میں یہ افواہ پھیل گئی کہ گنڈی پیٹ کا تالاب ٹوٹ گیا ہے ۔ سارے حیدرآباد میں کھلبلی اور کہرام سا مچ گیا ۔ محبوب حسین جگر نے اس خا کسار اور زینت آپا سے کہا کہ ہم دونوں مزاحیہ انداز میں اس افواہ سے وابستہ اوٹ پٹانگ حرکتوں کے بارے میں اپنے تاثرات ’’سیاست‘‘ کیلئے لکھیں۔ چنانچہ ہم دونوں کے تاثرات چھپے۔ دوسرے دن زینت آپا ملیں تو بولیں۔ ’’ابے لپوٹ ۔ تونے فرضی قصے خوب گھڑلئے اور نمک مرچ بھی خوب لگایا ‘‘۔ ہم نے نظریں نیچی کر کے کہا ۔ ’’زینت آپا ! مزاح نگار ہونے کی وجہ سے بسا اوقات زیب داستان کی خاطر کچھ نہ کچھ مبالغہ آرائی تو کرنی ہی پڑتی ہے ‘‘۔ بولیں۔ ’’مگر تو زیب داستان کے ساتھ کچھ ایسا سلوک کرتا ہے کہ داستان چھوٹی اور زیب بڑا ہوجاتا ہے‘‘۔ فقرہ بازی اور برجستہ گوئی کا جو ہنر زینت آپا کے پاس تھا ویسا ہنر ہم نے کسی اور خاتون کے ہاں نہیں دیکھا ۔ لوگوں کو آج بھی وہ محفل یاد ہے جب اردو ہال میں جشن مخدوم کے موقع پر زینت آپا نے اپنے مخصوص انداز میں مخدوم کا خاکہ پڑھا تھا اوران کے ہر جملہ پر محفل قہقہہ زار بن گئی تھی ۔ حد یہ ہوگئی کہ ہم نے اس دن پروفیسر ہارون خاں شروانی اور پروفیسر حبیب الرحمن جیسے بزرگوں تک کو پیٹ پکڑ کر ہنستے ہوئے دیکھا ۔ زینت آپا باتیں بھی بہت مزے کی کرتی تھیں۔ وہ کہے اور سنا کرے کوئی والا معاملہ ہوتا تھا ۔ ہم نے حمایت بھائی اور ڈاکٹر رشید موسوی سے کئی بار کہا بھی کہ حیدرآبادی کلچر کے بارے میں ان کی باتوں کو ریکارڈ کر کے رکھ لیا جائے کیونکہ ایسی باتیں کرنے والی کوئی اور ہستی ہمارے درمیان نہیں رہ جائے گی ۔ دکنی زبان اور دکن کی تہذیب کے بارے میں ان کی باتیں ایک انمول خزانے کی حیثیت رکھتی تھیں۔ اُن کا تعلق گلبرگہ سے تھا اور اُن کی ننھیال کا تعلق عادل شاہی سلطنت کے علاقوں بیجا پور ، رائچور اور گوگی شریف وغیرہ سے تھا ۔ ان کے خالہ زاد بھائیوں نذیر صدیقی (جو بعد میں کچھ عرصہ کیلئے کرناٹک کے وزیر بھی بنے) اور عبدالصمد ،سابق رکن پارلیمنٹ سے ہماری دوستی تھی ۔ نذیر صدیقی ، زینت آپا کے دودھ شریک بھائی بھی تھے ، بے حد پڑھے لکھے آدمی تھے ۔ اس حوالہ سے بھی وہ ہمیں بہت عزیز رکھتی تھیں۔ اگرچہ ان کی بینائی خاصی کمزور ہوگئی تھی مگر یہ ان کی شفقت تھی کہ ہر اتوار کوہمارا کالم بڑی پابندی سے اپنے ایک اسسٹنٹ سے پڑھواکر سنتی تھیں۔ آخر وقت تک ان کا حافظہ غضب کا رہا جس کی مدد سے جب وہ باتیں کرتی تھیں تو ذہن کی کھڑکیاں کُھل سی جاتی تھیں اور نئے نئے گوشے منور ہوجایا کرتے تھے ۔ ایسی من موہنی باتیں سننے کیلئے اب ہمارے کان ترستے ہی رہ جائیں گے ۔ استاد سخن میر تقی میر نے اپنے علاوہ غالباً زینت آپا جیسے ہی ہستی کے بارے  میں کہا تھا   ؎
باتیںہماری یاد رہیں ، پھر باتیںایسی نہ سنئے گا
پڑھتے کسی کو سنئے گا تو دیر تلک سر دھنئے گا
(14 ڈسمبر 2008 ء)

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT