Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / سائبرآباد میں خواتین کے خلاف جرائم میں 8فیصد اضافہ

سائبرآباد میں خواتین کے خلاف جرائم میں 8فیصد اضافہ

مسروقہ اشیاء برآمد کرنے کا ریکارڈ، کمشنرسی وی آنند نے ایک سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کی
حیدرآباد ۔ 29 ڈسمبر (سیاست نیوز) سائبرآباد پولیس نے مسروقہ اشیاء کو ضبط اور برآمد کرنے میں ریاستی سطح پر ریکارڈ قائم کیا ہے۔ تاہم جاریہ سال 2015ء میں خواتین پر مظالم، سرقہ، قتل، ڈکیتی اور سائبر کرائم میں اضافہ کو روکنے میں ناکام رہی۔ باوجود اس کے ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ کرتے ہوئے عوام کے مزید قریب پہنچنے کا نیا منصوبہ تیار کیا ہے۔ یہ بات کمشنر پولیس سائبرآباد مسٹر سی وی آنند نے بتائی۔ انہوں نے آج یہاں سائبرآباد کمشنریٹ میں منعقدہ اجلاس میں پولیس کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ کمیونٹی پولیسنگ اور عوام سے خوشگوار تعلقات قائم کرنے میں سائبرآباد پولیس نے کامیابی حاصل کی ہے اور آئندہ سال جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے عوام کو پولیس کے مزید قریب کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 3700 مربع کیلو میٹر کے احاطہ پر محیط سائبرآباد پولیس کمشنریٹ مسرقہ اشیاء کو ضبط کرنے میں پولیس نے 79 فیصد کا نشانہ عبور کرتے ہوئے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عوام کی بڑھتی آبادی اور ترقیاتی پراجکٹ اور سرمایہ داروں کی دلچسپی کے پیش نظر سائبرآباد میں مزید بہتر خدمات کو انجام دیا جائے گا اور بہت جلد عطا پور اور بنڈلہ گوڑہ، مولیٰ علی اور دیگر علاقوں میں پولیس اسٹیشنوں کو قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ نئے سال میں سائبرآباد پولیس کمشنریٹ کے احاطہ میں کنٹرول کمانڈ سنٹر کو قائم کیا جائے گا اور ایک ساتھ 60 پولیس اسٹیشنوں میں ویڈیو کانفرنس کی سہولت کو فراہم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کرائم ڈیٹا ایتالائیٹک سنٹر کو قائم کیا جائے گا جس سے پولیس کو کارکردگی میں کافی مدد حاصل ہوگی جوکہ ابھی تک خانگی کمپنیوں اور فارسنگ پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس سنٹر کے قیام کے بعد پولیس کو رابطہ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جاریہ سال سائبرآباد پولیس کمشنریٹ میں 30527 ایف آئی آر درج کئے گئے اور ایل بی نگر میں 8670 اس کے علاوہ سب سے زیادہ ایل بی نگر پولیس اسٹیشن میں 1590 اور سب سے کم کندکور پولیس اسٹیشن میں 269 ایف آئی آر درج کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ سائبرآباد پولیس کے اقدامات اور دلچسپی کے سبب بہت سے واقعات کی یکسوئی عمل میں آئی۔ رہزنوں اور سارقوں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی اور بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ شیوا انکاونٹر کے علاوہ 200 لڑکیوں کا استحصال کرنے والے عبدالماجد کو بھی گرفتار کیا گیا اور سائبر کرائم نے دہلی سے نائجیریا کی باشندوں کو گرفتار کرتے ہوئے عوام بڑی کامیابی حاصل ہوئی جس سے عوام کو کافی راحت حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اراضیات کے معاملات کی یکسوئی اور انصاف رسانی کو آسان بناتے ہوئے پولیس کو الزامات سے دور کرنے کیلئے ایس او پی کے تحت کارروائی کی گئی۔ سائبرآباد پولیس کمشنر نے بتایا کہ ٹریفک کے مؤثر انتظامات کے باوجود سڑک حادثات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے ٹریفک حادثات میں روک تھام کیلئے مؤثر عملہ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جرائم پر قابو پانے کیلئے بی ڈی ایکٹ کے تحت 60 افراد کے خلاف کارروائی کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ سائبرآباد حدود میں کریمنل سروے انجام دیا گیا اور حاصل شدہ ڈیٹا کو تیار کرتے ہوئے خصوصی اپلیکیشن تیار کی گئی جس کی مدد سے تمام عہدیداروں اور پولیس اسٹیشنوں کو ریکارڈ کے حصول میں آسانی فراہم کی جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ جاریہ سال چند افراد کو جو مجرمانہ ریکارڈ رکھتے تھے، انہیں بہتر زندگی گذارنے کا موقع فراہم کرتے ہوئے ان کی بازآباد کاری کی گئی اور آئندہ سال 100 افراد کی بازآباد کاری انجام دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے طریقہ کار کو رائج کیا گیا ہے جس میں ایس ایم ایس کی مدد سے کسی کی تفصیلات حاصل کی جاسکتی ہیں اور بہت جلد پولیس اسٹیشنوں میں بھی سی سی ٹی وی کیمرے عہدیدار کے چیمبر سے لیکر لاک اپ (حوالات) میں بھی کیمرے نصب کئے جائیں گے اور انہیں اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس، ڈپٹی کمشنر آف پولیس اور کمشنر پولیس کے دفاتر سے جوڑ دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے جو اقدامات کئے گئے تھے، ان میں واٹس اپ پر عوام نے غیرمعمولی ردعمل ظاہر کیا اور 15 ماہ کے عرصہ میں 3481 شکایتیں موصول ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ جاریہ سال 402239 پاسپورٹ درخواستوں کی انکوائری کی گئی اور سائبرآباد کا پاسپورٹ نظام پورے ملک کیلئے بہترین مثال بن گیا ہے۔ انہوں نے حادثات اور ان حادثات میں اموات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 18 فیصد اضافہ ہوا ہے اور 40 فیصد پیدل چلنے والے افراد کی اموات اور 42 فصد موٹر سیکل رانوں کی اموات واقع ہوئی ہیں جبکہ آوٹر رنگ روڈپر کل 40 حادثات پیش آئے اور 48 اموات ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سائبرآباد پولیس کمشنریٹ کے تحت 10ہائی ویز پائی جاتی ہیں جن میں 5 قومی اور 5 ریاستی شاہراہیں ہیں ان کا احاطہ 166 کیلو میٹر پایا جاتا ہے اور کل ایک ہزار ٹریفک جنکشن میں صرف 118 ہی ٹریفک عملہ کی نگرانی ممکن ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹریفک چالانات کے ذریعہ 55.46 کروڑ روپئے حاصل ہوئے اور 13,56,099 مقدمات درج کئے گئے۔ ہر دن 600 تا 700 آٹوز کو جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ سال 2016ء میں 10 ہزار سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کارڈن سرچ آپریشن اور ناکہ بندی کے ذریعہ جرائم پیشہ افراد کو قابو میں کرنے مؤثر اقدامات انجام دیئے جارہے ہیں۔ کمشنر پولیس سائبرآباد نے بتایا کہ آئندہ سال سائبرآباد پولیس کیلئے ٹیکنالوجی کا سال رہے گا اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور ریالیوں سے عوام دوست پالیسیوں پر عمل کیا جائے گا۔ اس موقع پر جوائنٹ کمشنر ششی دھر ریڈی کے علاوہ ڈپٹی کمشنرس آف پولیس مسٹر تفسیر اقبال، مسٹر کارتکیہ، مسٹر ایوناش موہنتی، مسٹر نوین و دیگر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT