Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / سائبر جرائم کے مجرمین کے ہاتھوں گداگروں کا استحصال

سائبر جرائم کے مجرمین کے ہاتھوں گداگروں کا استحصال

بینک کھاتے ، اے ٹی ایمس اور دیگر دستاویزات سے استفادہ ، رچہ کنڈہ پولیس کے خصوصی آپریشن میں کئی انکشافات
حیدرآباد ۔ 31 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : گداگروں کے تعلق سے کئی چونکا دینے والے انکشافات منظر عام پر آئے ۔ دوسروں کو ٹھگ لینے والے گداگروں کو سائبر جرائم سے وابستہ مجرمین نے فلمی انداز میں ان کا استحصال کرتے ہوئے ان کے ناموں سے بینک کھاتے ، اے ٹی ایم اور گھروں کو کرائے پر حاصل کرتے ہوئے آن لائن دھوکہ دینے کے کئی واقعات منظر عام پر آئے ہیں ۔ حال ہی میں رچہ کنڈہ سائبر کرائم پولیس کی جانب سے شروع کردہ خصوصی آپریشن میں سائبر مجرمین کی جانب سے فلمی انداز میں نئے نئے تجربات کے ساتھ ٹھگ لینے کے واقعات کا علم ہوا ہے ۔ سائبر مجرمین کی نظریں بینک کھاتوں پر مرکوز ہیں اور وہ ان پر چیل کی طرح جھپکتے ہوئے بینکوں کھاتوں میں موجود نقد رقم کو منٹوں میں نکال رہے ہیں پولیس کی تحقیقات میں اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ سائبر مجرمین کے بینک کھاتوں میں جمع کی جانے والی رقم کا پتہ چلانا اور اس کا نکالنا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ کیوں کہ فٹ پاتھ پر بھیک مانگنے والے عادی فقیروں کی نشاندہی کرتے ہوئے سائبر مجرمین ان کی ہزار ، 2 ہزار روپئے مالی امداد کرتے ہوئے ان کی تصاویر حاصل کررہے ہیں ۔ اہم شہروں کے مخصوص بستیوں میں مکان کرائے پر حاصل کرتے ہوئے ان مکانات کے پتہ پر گداگروں کی تصاویر کے ساتھ بینک کھاتے کھول رہے ہیں ۔ اے ٹی ایم کارڈس اور چیک بکس حاصل ہونے تک مکانات میں رہ رہے ہیں جیسے ہی اے ٹی ایم کارڈ اور چیک بکس حاصل ہورہے ہیں مکانات خالی کرتے ہوئے راہ فرار اختیار کررہے ہیں ۔ اس طرح اپنے اڈریس ( پتہ ) تک پہونچنے میں احتیاط سے کام لے رہے ہیں ۔ آن لائن دھوکہ دہی کے بعد سائبر مجرمین ان بینک کھاتوں میں نقد رقم جمع کرتے ہوئے صرف 15 منٹوں میں مختلف مقامات سے ان رقومات کو نکال لے رہے ہیں ۔ پولیس بینک کھاتوں کا پتہ چلانے کے باوجود ان کا صحیح پتہ لگانے سے قاصر ہے ۔ اگر اتفاق سے صحیح پتہ کی نشان دہی کر بھی لی جارہی ہے تو وہ وہاں دستیاب نہیں ہے ۔ بینک کھاتوں میں موجود تصاویر کے ذریعہ مجرمین کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو وہ گداگر نکل رہے ہیں ۔ جس سے کچھ کر نہیں پا رہے ہیں ۔ سائبر مجرمین نئی نئی منصوبہ بندی سے ملک کے مختلف ریاستوں میں پولیس کو پریشان کررہے ہیں ۔ ایک ریٹائرڈ سنٹرل گورنمنٹ کے ملازم کو درمیان میں روک دینے والے انشورنس پالیسی کو دوبارہ رینول کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے انہیں 70 لاکھ روپئے نقد رقم حاصل ہونے کا لالچ دیکھایا گیا اور انہیں دھوکہ دیتے ہوئے ان کے بینک اکاونٹ سے 42 لاکھ روپئے اڑالینے کی حال ہی میں رچہ کنڈہ سائبر کرائم پولیس سے کی گئی شکایت کی تحقیقات کرنے پر رچہ کنڈہ پولیس کو سائبر مجرمین کی جانب سے ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ٹھگ لینے کا نیا انکشاف ہوا ہے ۔ مجرموں کی اس ٹولی نے دہلی میں 24 رکنی اسٹاف کے ساتھ ’ اکیوریٹ سروسیس ‘ کے نام سے کال سنٹر قائم کرتے ہوئے ملک کے کئی ریاستوں کے عوام کو ٹھگ لینے کا انکشاف ہوا ہے ۔ گداگروں کی تصاویر سے 30 بینک کھاتے کھولتے ہوئے لاکھوں روپیوں کا غبن کرنے کا پتہ چلا ہے ۔ رچہ کنڈہ سائبر کرائم پولیس نے اس ٹولی کے سوفیندر سنگھ ، اندرا پرت کور ، اشوک کمار ، ہمانشو شرما ، نوجیت رائے ، وشنو کمار ، محمد سرفراز ، وجئے رائے کو گرفتار کرتے ہوئے آن لائن دھوکہ دہی کا پردہ فاش کیا ہے ۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ٹیلی فون پر مالی فائدوں یا دوسرے معاشی معاملت پر دی جانے والی اطلاعات کے بارے میں احتیاط سے کام لیں ۔ اپنے بینک کھاتوں ، اے ٹی ایم وغیرہ کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہ کریں ۔۔

TOPPOPULARRECENT