Thursday , August 24 2017
Home / پاکستان / سائنس اور ٹکنالوجی میں تعاون میں اضافہ ‘پاک ۔چین اتفاق

سائنس اور ٹکنالوجی میں تعاون میں اضافہ ‘پاک ۔چین اتفاق

پاکستان اور چین ’’ آہنی بھائی‘‘ صدر پاکستان ممنون حسین کا پاک ۔ چین کمیٹی کے 18ویں اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 9جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان اور چین نے ایک دوسرے کو ’’ آہنی بھائی‘ ‘ قرار دیتے ہوئے صدر پاکستان ممنون حسین نے کہا کہ 50ارب ڈالر مالیتی چین ۔ پاکستان معاشی راہداری اس بہترین معاشی تعاون کی ایک اچھی مثال ہے ۔ دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ سائنس اور ٹکنالوجی کے شعبوں میں باہم اتفاق کریں گے ۔ چین اور پاکستان نے کل اتفاق کیا ہے کہ سائنس اور ٹکنالوجی کے شعبہ میں بیلٹ اور روڈ اقدام کے تحت اضافہ کیا جائے گا ۔ یہ اتفاق رائے دونوں ممالک کے صدور کے ایک اجلاس کے دوران کیا گیا ۔ چین کے وزیر برائے سائنس و ٹکنالوجی وانگ گانگ پاک ۔ چین مشترکہ کمیٹی برائے سائنس و ٹکنالوجی شعبوں میں تعاون کے 18ویں اجلاس میں شرکت کیلئے پاکستان آئے ہوئے ہیں ۔ اس اجلاس میں صدر پاکستان ممنون حسین نے کہا کہ عصری چینی ٹکنالوجی سی پی ٹی سی سے متعلق برقی توانائی پراجکٹس میں استعمال کرنے سے پاکستان کے بحران میں کمی ہوسکتی ہے اور یہ ملک کی طویل مدتی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا ۔ ہندوستان نے 50ارب ڈالر مالیتی چین۔ پاک معاشی راہداری پر اعتراض کیا ہے جو شاہراہ ریشم کا ایک حصہ ہے ۔ صدر پاکستان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ چین کے جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ سائنس و ٹکنالوجی میں شراکت کے پروگرام اور باہم معاشی تعاون میں ٹکنالوجی کی منتقلی کے ذریعہ پروگرام کا ایک حصہ ہے اور پاکستان اس سے استفادہ کرنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے ۔ چینی وزیر برائے سائنس وٹکنالوجی نے کہا کہ چین اور پاکستان کی باہم تعاون کے ساتھ تمام شعبوں بشمول سائنس و ٹکنالوجی میں کام کرنے کی ایک طویل تاریخ ہے ۔ صدر پاکستان نے اظہار اطمینان کیا کہ 17پروٹوکول اختتام پذیر ہوچکے ہیں اور تاحال کامیابی کے ساتھ ان کی تکمیل ہوئی ہے ۔ 18ویں پروٹوکول پر اس دورہ کے موقع پر دستخط کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین ’’ آہنی بھائی‘‘ ہیں ۔ دونوں دفاعی شراکت دار اور اچھے پڑوسی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ دوستی ہماری خارجہ پالیسی کا سنگ بنیاد ہے اور دفاعی شراکت داری علاقائی امن و استحکام کی بنیاد ہے ۔ انہوں نے پُرزور انداز میں کہا کہ اعلیٰ سطحی باہمی تبادلے اور عوام سے عوام کے روابط میں اضافہ ہوتا رہے گا ۔

TOPPOPULARRECENT