Monday , August 21 2017
Home / کھیل کی خبریں / سابق افسانوی برازیلین فٹبالر پیلے کی کولکتہ آمد پر شاندار استقبال

سابق افسانوی برازیلین فٹبالر پیلے کی کولکتہ آمد پر شاندار استقبال

’ شکریہ کولکتہ ‘ اسٹار فٹبالر کا جواب۔ ائرپورٹ پر ایک جھلک دیکھنے سابق کھلاڑی اور عوام بھی امڈ پڑے
کولکتہ 11 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) آج صبح فٹبال کے بادشاہ سمجھے جانے والے سابق افسانوی کھلاڑی پیلے کولکتہ پہونچے اور ان کی آمد کے موقع پر ائرپورٹ پر پرجوش مناظر دیکھے گئے ۔ 74 سالہ پیلے تقریبا 38 سال کے وقفہ کے بعد کولکتہ پہونچے ہیں اور وہ بہت جذباتی بھی ہوگئے تھے ۔ انہوں نے اپنی گاڑی پر چڑھ کر وہاں ان کی تائید میں نعرے لگاتے ہوئے جمع ہوئے ہجوم کے خیر مقدم کا ہاتھ لہرا کر جواب دیا ۔ ائرپورٹ پر پیلے کی آمد کے موقع پر کچھ پرستار اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے کثیر تعداد میں وہاں جمع ہوئے تھے تاہم پیلے کی آمد کی اطلاع ملتے ہی اپنے عزیزوں کا استقبال کرنے وہاں موجود تقریبا 100 افراد بھی پیلے کے گرد جمع ہوگئے تھے ۔ صبح 8.07 بجے پیلے وہاں پہونچے تھے ۔ آدھے گھنٹے کے بعد پیلے اپنی ایمیگریشن کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد گیٹ نمبر 4B سے ائرپورٹ سے باہر آئے تھے ۔ وہ تقریبا 24 گھنٹوں تک مسلسل صفر کے بعد براہ دوبئی کولکتہ پہونچے ہیں۔ سیاہ رنگ کے سوٹ میں ملبوس تین مرتبہ کے ورلڈ کپ فاتح پیلے تاہم بہت فریش نظر آ رہے تھے ۔ انہیں وہاں سے ریاستی وزیر فرہاد حکیم اور آرگنائزرس فوری لے گئے ۔ پیلے نے ہجوم کا ہاتھ لہرا کر مسکراتے ہوئے جواب دیا اور ’’ شکریہ کولکتہ ‘‘ کہا ۔ وہاں جمع ہوئے پرستار بھی ’’ پیلے ۔ پیلے ‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے ۔ شائقین کا جوش و خروش اتنا تھا کہ پیلے ہی سخت ترین سکیوریٹی کو بھی ان کا راستہ صاف کرنے کیلئے مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ انہیں علی پور میں واقع فائیو اسٹار ہوٹل کو منتقل کیا گیا جہاں وہ تین دن تک قیام کرینگے ۔ پیلے 38 سال بعد کولکتہ آئے ہیں ۔

وہ 1977 میں اپنی ٹیم نیویارک کاسموس کے ساتھ نمائشی میچ کھیلنے کولکتہ آئے تھے ۔ یہ میچ 2 – 2 سے ڈرا رہا تھا ۔ ہندوستانی فٹبال کے معروف کھلاڑی چنی گوسوامی نے ہوٹل میں پیلے کا استقبال کیا جبکہ ایک اور سابق فٹبالر دیپیندو بسواس نے بھی ان کا خیر مقدم کیا ۔ اسکولی طلبا وغیرہ بھی وہاں جمع تھے ۔ گوسوامی نے بعد ازاں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پیلے سے مزاحیہ انداز میں سوال کیا تھا کہ کیا وہ فٹبال کھیل سکتے ہیں ۔ پیلے نے جواب دیا تھا کہ بالکل نہیں۔ وہ اب فٹ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب میسی کے معیار کے تعلق سے سوال کیا گیا تو پیلے نے کہا کہ وہ بہترین کھلاڑی ہے ۔ موہن بگان سے پیلے کی وابستگی صاف نظر آ رہی تھی کیونکہ سبز اور سرخ لباس میں ملبوس پرستار وہاں موجود تھے اور وہ ٹیم کا پرچم لہرا رہے تھے ۔ مقامی شائقین نے کہا کہ پیلے ہمارے لئے فٹبال کے خدا کے برابر ہے اور انہیں دیکھنا ایک خواب پورا ہونے کے برابر ہے ۔ وہ برازیل کا پرچم بھی لہرا رہے تھے ۔ شائقین میں سابق ایسٹ بنگال فٹبالر بھون متراب ھی موجود تھے جن کی عمر 80 سال ہوچکی ہے ۔ انہوں نے 1977 میں موہن بگان اور نیویارک کاسموس کا میچ دیکھا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پیلے کے تعلق سے معلوم ہوا اس لئے وہ یہاں چلے آئے ۔ ایک فوجی اہلکار بھی بگڈورا سے یہاں پہونچا تاکہ پیلے کو دیکھ سکے اور ان کا آ,و گراف لے سکے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خوش ہیں کہ پرتگالی زبان میں پیلے کو آواز دینے پر ان کا جواب دیا اور دو آٹو گراف دئے ۔ عوام کے ہجوم پر قابو پانے میں بعد میں سکیوریٹی عملہ کو مشکلات پیش آ رہی تھیں۔

TOPPOPULARRECENT