Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / سابق مجلس کارپوریٹر محمد غوث کانگریس میں شامل

سابق مجلس کارپوریٹر محمد غوث کانگریس میں شامل

٭مجلس پر بی جے پی سے سمجھوتہ اور ملت کا سودا کرنے کا الزام
٭چارمینار کے دامن میں کھلے مباحث کا اسد اویسی کو چیلنج
٭ سلطان صلاح الدین اویسی صاحب غریبوں کے قائد تھے
٭ اسد الدین اویسی صرف آل انڈیا مجلس کے صدر
٭ ریاستوں میں مجلس کا کوئی یونٹ اور صدر نہیں
حیدرآباد /15 جنوری (سیاست نیوز) مجلس کے سابق کارپوریٹر محمد غوث نے اپنے سیکڑوں حامیوں کے ساتھ گاندھی بھون پہنچ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ بعد ازاں مجلسی قیادت پر نریندر مودی اور امیت شاہ سے خفیہ ساز باز اور ملت اسلامیہ سے غداری کا الزام عائد کرتے ہوئے سابق کارپوریٹر نے کہا کہ مجلس نے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ پرانے شہر کے ہر گھر کے کم از کم دو افراد مجلس سے ناراض ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس کی کامیابی کے لئے میں ایک سپاہی کی طرح کام کروں گا۔ قبل ازیں وہ اپنے سیکڑوں حامیوں اور صدر گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس اقلیتی سیل شیخ عبد اللہ سہیل کے ساتھ گاندھی بھون پہنچے اور اس سے پہلے درگاہ یوسفین پر حاضری بھی دی۔ اس موقع پر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی، قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر، سکریٹری انچارج اے آئی سی سی تلنگانہ امور آر سی کنٹیا، صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیتی سیل محمد خواجہ فخر الدین، صدر نشین سٹ ون محمد مقصود احمد اور دیگر بھی موجود تھے۔

اتم کمار ریڈی نے محمد غوث کا کانگریس میں خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مجلس اپنے ذاتی مفاد کی تکمیل کے لئے خود غرضی پر اتر آئی ہے۔ مجلس، وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ سے خفیہ معاہدہ کرتے ہوئے بی جے پی کو فائدہ پہنچا رہی ہے اور ملک کو مذہبی بنیاد پر تقسیم کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مہاراشٹرا، بہار اور بنگلور میں بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لئے مجلس نے مقابلہ کیا، جس پر بطور احتجاج مجلس سے مستعفی ہوکر محمد غوث کانگریس میں شامل ہوئے ہیں۔ دریں اثناء محمد غوث نے کہا کہ وہ کسی لالچ میں کانگریس میں شامل نہیں ہوئے، بلکہ صدر مجلس اسد الدین اویسی کا اصلی چہرہ منظر عام پر لانا چاہتے ہیں، کیونکہ مجلسی قیادت بی جے پی صدر امیت شاہ اور نریندر مودی سے خفیہ معاہدہ کرکے ملت کا سودا کر رہی ہے، جس کی وجہ سے انھیں مجلس میں گھٹن محسوس ہو رہی تھی اور اب وہ مجلس سے مستعفی ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ مہاراشٹرا اور بہار میں مجلس کا کوئی یونٹ نہیں ہے اور نہ ہی بنگلور میں مجلس کی بنیاد ہے، لیکن بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لئے مجلس نے مقابلہ کیا، جس سے سیکولر جماعتوں اور مسلمانوں کو نقصان پہنچا۔ انھوں نے کہا کہ دہلی میں 12 فیصد اور جھار کھنڈ میں 18 فیصد مسلمان ہیں، مگر مجلس نے دونوں ریاستوں میں مقابلہ نہیں کیا، کیونکہ بی جے پی نے پہلے بتادیا تھا کہ ان ریاستوں میں ہم مضبوط ہیں، لہذا مجلس یہاں سے مقابلہ نہ کرے، جس کی وجہ سے مجلس مقابلہ سے دست بردار ہو گئی۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس مسئلہ پر صدر مجلس اسد الدین اویسی سے تاریخی چار مینار کے دامن میں کھلے مباحث کے لئے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سابق صدر مجلس سلطان صلاح الدین اویسی غریبوں کے قائد تھے اور سیکولر جماعتوں کو مستحکم کرتے تھے

، تاہم جب سے اسد الدین اویسی صدر بنے پارٹی کی پالیسی تبدیل ہو گئی اور موجودہ قیادت فرقہ پرستوں کو مضبوط کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں مجلس کے ناپاک عزائم سے مسلمانوں کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ مجلس صرف جذباتی اور مذہبی تقاریر کے ذریعہ مسلمانوں کو گمراہ کر رہی ہے۔ اس موقع پر مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ محمد غوث کا مجلس کے سینئر قائدین میں شمار ہوتا ہے۔ مجلسی قیادت قوم کی خدمت کی بجائے فرقہ پرستوں سے سودے بازی پر اتر آئی ہے، جس کی وجہ سے بطور احتجاج سابق کارپوریٹر معراج، سابق رکن اسمبلی کے فرزند ساجد شریف، طاہر غفاری اور عرفان مجلس سے دست بردار ہوکر کانگریس میں شامل ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ مجلسی قیادت مرحوم صدر سلطان صلاح الدین اویسی کی پالیسی سے منحرف ہوچکی ہے اور مسلمانوں کے حق کی لڑائی لڑنے کی بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دے رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجلس کو انتخابات کے موقع پر اسلام خطرے میں نظرآتا ہے اور اس کے بعد مسلمانوں کو فراموش کرکے صرف اپنے مفاد کو ترجیح دیتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجلس کے ہورڈنگس سے اردو غائب ہے، یعنی اب یہ انگریزوں کی جماعت بن گئی ہے، جب کہ مہاراشٹرا میں شیوسینا اور بی جے پی کو کامیاب بنانے میں اس نے اہم رول ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ مہاراشٹرا حکومت نے بیف پر امتناع عائد کیا اور بنگلور کے مسلمانوں کو نظرانداز کیا گیا، اس طرح اسد الدین اویسی نقاب اوڑھ کر جونیر مودی بنے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس ایک سیکولر جماعت ہے، جو سب کی ترقی چاہتی ہے۔ مجلس نے 4 فیصد مسلم تحفظات کی مخالفت کی، لیکن آج دس لاکھ طلبہ کو اس سے فائدہ پہنچا اور مسلمانوں کے گھروں میں روشنی پھیلی۔ مسٹر آر سی کنٹیا نے کہا کہ مجلس مسلمانوں کے اعتماد سے محروم ہوچکی ہے، جب کہ کانگریس سیکولر اور اقلیتوں کی جماعت ہے۔

TOPPOPULARRECENT