Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو یونیورسٹی میں طلبہ، اساتذہ کی ہنگامہ آرائی

اردو یونیورسٹی میں طلبہ، اساتذہ کی ہنگامہ آرائی

 

سابق وائس چانسلر کی آمد کی مخالفت، احتجاجیوں پر بیرونی افراد کا لاٹھیوں سے حملہ

حیدرآباد۔1 1 اکٹوبر (سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو نیونیورسٹی میں آج اس وقت ہنگامہ ہوگیا جب طلبہ اور اساتذہ نے سابق وائس چانسلر محمد میاں کی آمد کے خلاف احتجاج منظم کیا۔ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف اسوسی ایشن کی جانب سے یونیورسٹی حکام کو سابق وائس چانسلر کے دورے کی مخالفت میں احتجاج کی نوٹس پہلے دے دی گئی تھی۔ انچارج وائس چانسلر ڈاکٹر محمد شاہد نے محمد میاں کو وی آئی پی گیسٹ ہائوز کی عمارت کے افتتاح کے لئے مدعو کیا تھا۔ طلبہ اور اساتذہ یونیورسٹی کے مین گیٹ پر بڑی تعداد میں جمع ہوگئے اور ’’محمد میاں واپس جائو‘‘ کے نعرے لگانے لگے۔ یونیورسٹی میں موجود محمد میاں کے حواریوں نے بعض طلبہ اور بیرونی غنڈوں کی مدد حاصل کرتے ہوئے احتجاجی طلبہ اور اساتذہ پر لاٹھیوں سے حملہ کردیا۔ اس حملہ میں بعض اساتذہ زخمی ہوگئے۔ محمد میاں کو خانگی گاڑیوں کے قافلے میں یونیورسٹی لایا گیا اور مین گیٹ پر اساتذہ زمین پر لیٹ گئے جس کے فوری بعد ان پر حملہ کردیا گیا۔ محمد میاں کی گاڑی سے ایک معذور اسسٹنٹ پروفیسر کی وہیل چیر کو ٹکر دے دی گئی۔ ہنگامہ آرائی اور احتجاج کے دوران محمد میاں نے اپنے حواریوں کی موجودگی میں عمارت کا افتتاح کیا اور افرا تفر ی کے عالم میں یونیورسٹی سے روانہ ہوگئے۔ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف اسوسی ایشن کے عہدیداروں نے اس واقعہ کے خلاف رائے درگ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی میں وائی فائی اور ویب سائٹ ڈیزائننگ کے کروڑہا روپئے کے اسکام میں ملوث شخص نے غنڈا عناصر کے ذریعہ اساتذہ پر حملے کی قیادت کی۔ محمد میاں نے اپنے دور میں جن افراد کے غیر قانونی تقررات اور ترقی کو یقینی بنایا تھا وہ افراد ان کے استقبال اور اساتذہ کے احتجاج کو ناکام بنانے میں پیش پیش تھے۔ احتجاجی اساتذہ نے پولیس سے اپنی شکایت میں کہا کہ منظم انداز سے غنڈا عناصر کے ذریعہ محمد میاں کے حواریوں نے ان پر حملہ کیا بتایا جاتا ہے کہ انچارج وائس چانسلر کے علاوہ رجسٹرار اور مختلف اداروں کے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ جن پر محمد میاں کی مہربانیاں رہیں ،وہ تقریب میں شریک تھے۔ یونیورسٹی نے اس تقریب کو انتہائی راز میں رکھا تھا اور محمد میاں کے حامیوں کو ہی شرکت کی شخصی طور پر دعوت دی گئی تھی۔ یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ طلبہ اور اساتذہ نے اس قدر شدید احتجاج کیا ہے۔ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف نے اس سلسلہ میں مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل اور یونیورسٹی کے چانسلر ظفر سریش والا سے شکایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT