Sunday , August 20 2017
Home / ادبی ڈائری / سادہ تھے بہت ، پہلا سبق دیر سے سمجھے

سادہ تھے بہت ، پہلا سبق دیر سے سمجھے

شبینہ فرشوری
کچھ عرصہ پہلے ہی میری ایک کتاب ’’شہر آرزو‘‘ میں میرا مضمون ’’شادی کی دعوت ڈنر کے بغیر‘‘ پڑھ کر لوگ چونک گئے تھے پھر اسی کتاب میں ’’بریانی کی کہانی میری زبانی‘‘ اور ’’دعوتیں کیسی کیسی‘‘ ۔ یہ سب مضامین ’’شہر آرزو‘‘ میں میرے اور قارئین کے بھی پسندیدہ مضمون ہیں مگر ان سب کا اتنا اثر ہوگا کہ شادی میں اب کھانے کم کردیئے جائیں اور صرف ایک بریانی اورمیٹھے پر اکتفا کیا جائے ۔ جب سیاست اخبار میں پڑھا تو نہ آنکھوں کو یقین آیا نہ کانوں کو مگر یقین کرنا ہی پڑا ۔ کیونکہ یہ آوازیں یک بہ یک بلند ہوتی جارہی ہیں ۔ پہلے نعرہ جہیز کے خلاف تھا اب کھانوں کے خلاف ۔ ارے بھئی ہمیں تو نہ کسی سے کھانا لینا ہے نہ جہیز ۔ ہم تو اپنے چاروں بچوں کی شادی کرکے دادی نانی بن چکے ہیں ۔ مگر ان پر دکھ ہورہا ہے جو کتنی امیدیں لگائے ہیں ۔ ہائے بیچارے مرزا صاحب کا کیا ہوگا جو ہفتے بھر گھر کے کھانوں سے محروم رہتے ہیں ۔ ان دعوتوں ، ولیموں کے چکر میں کئی کئی دن گھر کے کھانے نہیں کھاتے ۔ اگر لنچ یعنی ظہرانہ مندار ہوٹل میں ہے تو ڈنر paradiseمیں ۔ کبھی ہوٹل گولکنڈہ کے لان میں مدعو ہیں تو کبھی decent فنکشن ہال میں ۔ ہم تو ان کے رشتہ دار ہونے کے ناطے یہ سب روز ان کی زبانی سنتے رہتے تھے ۔ پچھلے دنوں تو وہ قئے دست میں گرفتار ہوگئے ۔ طرح طرح کے کھانے ان کو ہضم نہیں ہوئے ۔ گھر والوں نے بہت روکا ارے رحم کرو اپنی عمر پر اور کھانوں پر مگر وہ کہاں ماننے والے تھے ۔ جیسے ہی یہ خبر میں نے اخبار میں پڑھی کہ اب شادی میں بے جا خرچ سے بچا جائے گا ، ایک بریانی اور ایک میٹھا کھایا جائے گا یقین جانئے میری آنکھوں میں اپنی نہیں مرزا صاحب کی بے بسی گھوم رہی تھی ۔ ہائے ایسے شوقین لوگوں کا اب کیا ہوگا ۔
میں سیدھے مرزا صاحب کے گھر گئی اور بتایا کہ اب آپ کی طبیعت خراب نہیں ہوگی ۔ اب ہمارے شہر میں مختلف قسم کے کھانوں اور لوازمات سے دعوتوں میں پرہیز کیا جائے گا ۔وہ بھی بڑا حاضر جواب تھے ۔ انھوں نے کہا ہاں سن تو ہم بھی رہے ہیں مگر ہم تو ہر برائی میں بھی اچھائی کا پہلو نکال لیتے ہیں ۔ وہ کیسے مرزا صاحب ؟ ۔ دیکھو بی بی ، شادیوں میں سب سے زیادہ خرچ کھانوں ہی پر آتا ہے تو اب ہم کو بھی ایک دو شادیاں رچانے کا موقع مل جائے گا ۔ بھئی ثواب کا کام ہے جیسے کبھی کھانے کر ڈائریا ہوگیا تو کوئی دیکھ بحال کرنے والی تو ہوگی ۔ ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ بھی چوکھا آئے ، سستے میں چھوٹ جائیں گے ۔ گھر بھی آباد ہوجائے گا ۔ ہم تو ہر چیز میں فائدہ دیکھ لیتے ہیں ۔ ہم تو مرزا صاحب کی اتری ہوئی صورت دیکھنے گئے تھے مگر خود اپنا سا منہ لے کر واپس آگئے ۔ ادھر سے ناامید ہو کر ہم نے اپنی پڑوسن کے گھر کی راہ لی کیوں کہ اگلے مہینے ان کے گھر میں شادی ہونے والی تھی اور ہم ان کے گھر کی تیاریوں کی سدھ بدھ لینے اکثر و بیشتر چلے جاتے ہیں ۔ گھر میں گھستے ہی عجیب سی آوازیں آرہی تھیں ۔ ہم نے سوچا ضرور کچھ گڑبڑ ہے جلدی سے اندر گئے وہاں خاتون خانہ کو بڑے غصہ بھرے اور جذباتی انداز میں بیٹھے دیکھا ۔ میں نے ان کو اپنا کاندھا فوری رونے کے لئے پیش کیا کہ وہ اپنے دل کا غبار اور آنکھ کے آنسو جو ناک کے ذریعہ بہنے کو تیار تھے نکال سکتی ہیں ، وہ جو شروع ہوئیں تو یقین جانئے ہم بھی ان کی چادر کے کونے سے اپنی آنکھ ناک منہ سب پونچھ رہے تھے ۔ ہوا یہ تھا ان کی دونوں لڑکیوں نے بھائی کی شادی میں پہننے کے لئے پانچ پانچ بہت قیمتی جوڑے ، منجھے ، مہندی ، شادی ، ولیمہ ، چوتھی سب کے لئے پتھرگٹی جا کر بنوائے تھے ، پھر اس کی میچنگ چوڑیاں ، جوتے ، زیور سب تیار ہوگیا ۔ ادھر جوش ادی میں کھانوں پر بچت کا اعلان ہوا تو ان کی سمدھن نے اور بھی حد کردی ، کہا کہ وہ صرف چائے ناشتے پر نکاح کررہی ہیں آپ لڑکے والے ہیں ۔ ولیمہ میں جو چاہے کریں ۔ اب ان کا رونا بجا تھا کہ یہ فضول خرچی یعنی لڑکیوں کے اتنے بھاری جوڑے کیا شادی میں چائے ناشتے کے لئے تیار کررہے تھے ۔ اب بیوٹی پارلر جاکر لیپا پوتی کرانے ، ہزاروں کے زرق برق جوڑے خریدنا بیکار ہی ہوگیا ۔ ہم ان کی ہاں میں ہاں ملاتے واپس آگئے ۔
میں نے سوچا کہ بگڑے ہوئے سماجی نظام میں برائیوں کو کس قدر جلدی قبول کیا جاتا ہے اور اچھائیاں قبول کرنا کتنا کٹھن ہے ۔ حالانکہ ان تکلیف دہ رسموں سے جان چھڑانا ہر مسلمان شہری کے دل کی آواز ہے ۔ مگر ان خرافات سے بچنے کا تصور نہیں بن پارہا ہے ۔ حالانکہ دل سے سبھی چاہتے ہیں کہ ان طرح طرح کے کھانوں سے اور بے جا رسموں سے جہیز کے لین دین سے پرہیز ہو مگر اس دلدل سے باہر آنے کو کوئی تیار نہیں ہے ۔ کسی کو برادری کا ڈر ، خاندان کی ناک کٹ جانے کا خوف ، سمدھیانے کے طعنے ، سوسائٹی کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنانے یہ سب چیزیں لوگوں کے دلوں میں خوف کی وجہ بنی ہوئی ہیں ۔ کیونکہ لاکھوں روپیوں کا کھانا شادیوں میں کھلانا ، ہزاروں روپیوں کا کھانا ضائع یہ ایسی قوم کا اور سماج کا شکار بن چکا ہے جو فضولیات ہم سب نے اپنائی ہوئی ہیں ۔ حالانکہ ہم اس کے متحمل نہیں ہیں ۔ ادھر قرض لے کر یہ سب کرنا کہاں کی ذہانت ہے ۔ ابھی بھی وقت ہے سنبھل جاؤ مسلمانو ۔ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی ۔
شادی کی دعوتوں میں ، میں نے خواتین کو پلیٹوں میں بھر بھر کر کھانا نکالتے پھر ان کو برباد کرتے دیکھا ہے ۔ اپنی تقریبات میں کھانے کے مناظر دیکھ کر دل رونے لگتا ہے ۔ ان لوگوں کا مرغن کھانے کا انداز ایسا لگتا ہے جیسا کہ کہہ رہے ہوں کھالو آج ہی جتنا کھانا ہے ۔ کل شاید یہ حاصل نہ ہو ۔ اللہ کرے وہ دن جلد ہی آئے کہ ہم سب واقعی فضول حرچی سے بچیں اور شادیوں میں ایک کھانا ایک میٹھا کھا کر کھلانے والوں کو دعائیں دیں اور خوشی خوشی گھر واپس آئیں ۔
سادہ تھے بہت ، پہلا سبق دیر سے سمجھے
تھا وصل کا مطلب کہیں قربت سے زیادہ

TOPPOPULARRECENT