Monday , September 25 2017
Home / ہندوستان / سارک ممالک کو یوروپی یونین سے سبق لینے کا مشورہ

سارک ممالک کو یوروپی یونین سے سبق لینے کا مشورہ

The President, Shri Pranab Mukherjee delivering The Cavalry Memorial Lecture, Organised by the Indian Cavalry Association, in New Delhi on November 18, 2015.

ماضی کی تلخیوں کو فراموش کرتے ہوئے مستقبل پر توجہ کی ضرورت : پرنب مکرجی
نئی دہلی ۔ 18 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے آج کہا کہ ہندوستان اور دیگر سارک ممالک کو یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ آیا وہ حالت کشیدگی میں رہنا چاہتے ہیں یا پھر ماضی کے اختلافات اور تقسیم کو پیچھے چھوڑ کر امن و ہم آہنگی کی ایک فضاء کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ صدر پرنب مکرجی نے کسی بھی ملک کا نام لئے بغیر یوروپی یونین کی مثال پیش کی اور کہا کہ یوروپ کے کئی طاقتور ممالک صدیوں آپسی جنگوں میں الجھے رہے لیکن ایک مشترکہ یونین ، پارلیمنٹ اور کرنسی تشکیل دینے کیلئے متحد ہوگئے۔ کیوالیری آفیسرس اسوسی ایشن کے زیر اہتمام کیوالیری میموریل لکچر دیتے ہوئے صدر پرنب مکرجی نے 8 رکن جنوبی ایشیائی تنظیم برائے تعاون کے 1985 ء میں قیام کا حوالہ دیا جس کا مقصد امن ، ترقی اور خوشحالی کیلئے علاقائی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ صدر ہند نے کہا کہ ’’یوروپی یونین کے خطوط پر گزشتہ 30 سال کے دوران ہم بھی کئی میکانزم اور ادارہ جات قائم کئے ہیں لیکن یہ ایک متفقہ حقیقت ہے کہ سارک کے مقاصد سے ہنوز بھرپور استفادہ نہیں کیا جاسکا ہے‘‘۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ ’’جیسا کہ میں اکثر کہتا رہا ہوں ہم اپنے دوست کو بدل سکتے ہیں لیکن اپنے پڑوسی نہیں بدل سکتے۔ یہ فیصلہ ہم پر منحصر ہیکہ آیا ہم حالت کشیدگی میں رہنا چاہتے ہیں یا پھر امن و ہم آہنگی کی فضاء میں ترقی کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں ماضی کی تلخیوں اور اختلافات کو فراموش کرتے ہوئے مشترکہ مستقبل کی سمت دیکھنا چاہئے‘‘۔ یوروپ سے سبق حاصل کرنے کا اشارہ کرتے ہوئے صدر پرنب مکرجی نے کہا کہ یوروپ کے تمام ممالک متحد ہوگئے ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائیل فون بھی امن کے اہم ذرائع ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی مثال پیش کی اور کہا کہ اس پڑوسی ملک کے ساتھ اختلافات کی یکسوئی ہوچکی ہے اور دونوں ممالک ترقی و خوشحالی کی سمت گامزن ہیں۔ صدر جمہوریہ نے 1971 ء کی جنگ کے دوران اپنی جان قربان کرنے والے سپاہیوں کے علاوہ بانگا بندھو شیخ مجیب الرحمن کو پر اثر خراج عقیدت ادا کیا اور کہا کہ شیخ مجیب الرحمن کو دنیا ایک عظیم رحمن کے طور پر دیکھتی ہے۔ ان کی خدمات اور قربانیوں نے بنگلہ دیش کو جنم دیا اور آج ان کی دختر و وزیراعظم شیخ حسینہ بنگلہ دیش کی ترقی و خوشحالی کے کاروان کی قیادت کر رہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT