Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / سارک کانفرنس کے بائیکاٹ سے مثبت نتائج متوقع

سارک کانفرنس کے بائیکاٹ سے مثبت نتائج متوقع

حیدرآباد میں عنقریب افغانستان کے قونصل خانہ کا قیام، افغان سفیر برائے ہند شائدا محمد ابدالی کا خطاب
حیدرآباد 14 اکٹوبر (سیاست نیوز) افغانستان نے آج توقع ظاہر کی کہ اسلام آباد میں منعقدہ سارک چوٹی کانفرنس سے 5 ممالک کا بائیکاٹ مثبت نتائج برآمد کرے گا۔ عدم تعاون رکن ممالک نے امن کی راہ پر چلتے ہوئے یہ قدم اُٹھایا ہے۔ ہندوستان اور دیگر 4 سارک ممالک افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان اور سری لنکا نے نومبر چوٹی کانفرنس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ بالواسطہ طور پر پاکستان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اِس چوٹی کانفرنس کے انعقاد کے لئے خوشگوار فضاء قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ 18 ستمبر کو کشمیری کے اُری دہشت گرد حملے کے فوری بعد یہ تبدیلی آئی تھی۔ افغانستان کے سفیر برائے ہند شائدا محمد ابدالی نے کہاکہ افغانستان اور ہندوستان سارک کی حمایت کرنے والے اول دستہ ممالک ہیں۔ سارک چوٹی کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہونے والی تھی لیکن دہشت گرد حملے کے بعد ہندوستان کے بشمول دیگر 4 ممالک نے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ اِس فیصلہ سے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ افغانستان کے سفیر برائے ہند آج یہاں ہندوستانی صنعتی ادارے فیکی اور FTAPCCI کی جانب سے منعقدہ مشاورتی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ سارک کو اُس کے اصل مقصد کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سارک کا مطلب تمام ممالک کو ایک دوسرے سے جوڑ کے رکھنا ہے۔ سارک کا مطلب امن اور استحکام بھی ہوتا ہے لیکن واقعات اس کے برعکس رونما ہورہے ہیں۔ اُنھوں نے اپنی تقریر میں کسی ملک کا نام نہیں لیا۔ ہندوستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو نہایت ہی منفرد قرار دیا اور کہاکہ حیدرآباد میں بہت جلد افغانستان کا قونصل خانہ قائم کیا جائے گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو وسعت دینے کی سمت ایک اہم قدم ہوگا۔ ہم تجارت اور صنعت کے شعبہ کو وسعت دے رہے ہیں۔ حیدرآباد میں ہمارے قونصل خانہ کے قیام کے ساتھ ہی تعلیم، کامرس اور عوام سے عوام تعلقات کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

TOPPOPULARRECENT