Sunday , August 20 2017
Home / دنیا / ’سازش کا علم ہوتا تو میں خود اپنے بیٹے کو ہلاک کر دیا ہوتا‘

’سازش کا علم ہوتا تو میں خود اپنے بیٹے کو ہلاک کر دیا ہوتا‘

پیرس حملہ آور فواد2013 ء میں شام روانہ ہوا تھا، والد کا بیان
بشیم (فرانس) ۔ 9 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پیرس کے بٹاکلان کنسرٹ ہال میں حملہ کرنے والے تیسرے بندوق بردار کے والد نے آج کہا کہ اگر انہیں اپنے بیٹے کے منصوبوں کا علم ہوتا تو وہ خود ہی اس کو ہلاک کردیئے ہوتے۔ 23 سالہ فواد کے والد محمد اگاد نے اے ایف پی سے کہا کہ سارے ملک کے ساتھ انہیں بھی آج ہی اس بات کا پتہ چلا کہ ان کا بیٹا بھی ان تین بندوق برداروں میں شا مل تھا جنہوں نے کنسرٹ ہال پر گولیوں کی بوچھار کرتے ہوئے 13 نومبر کے بدترین حملہ میں 90 افراد کو ہلاک کردیا تھا ۔ محمد اگاد نے شمال مشرقی شہر اسٹراس برگ  کے مضافاتی علاقہ بشیم میں واقع اپنے گھر کے باہر اخباری نمائندوں سے کہا کہ ’’بیشک مجھے سخت حیرت ہوئی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر مجھے اس کا پہلے ہی علم ہوتا تو میں خود ہی اپنے بیٹے کو ہلاک کردیتا‘‘۔ فواد نے جہادیوں کی خود جنونی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا جس میں 130 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ محمد اگاد نے کہا کہ انہیں اس بات کا علم ہے کہ ان کا بیٹا بھی اسٹراس برگ کے چند نوجوانوں کے گروپ کے ساتھ 2013 ء میں شام کا سفر کیا تھا لیکن انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ آیا وہ واپس بھی ہوچکا ہے ۔ محمد اگاد نے کہا کہ ’’دو سال قبل میں نے اس کو آخری مرتبہ اس وقت دیکھا تھا جب وہ روانہ ہوا تھا ۔ میرے پاس کوئی الفاظ نہیں ہے، مجھے اس واقعہ کا صرف آج صبح ہی علم ہوا ہے جس سے مجھے کافی صدمہ پہنچا ہے‘‘۔ فواد محمد اگاد بٹاکلان حملہ کا وہ تیسرا اور آخری حملہ آور ہے جس کی آج شناخت ہوئی۔ تمام تینوں حملہ آور فرانسیسی ہے ۔ دیگر دو کی شناخت 29 سالہ عمر اسماعیل مصطفائی اور 28 سالہ سابق بس ڈرائیور سمیع امیمور کی حیثیت سے کی جاچکی تھی۔ یہ تینوں شام کا سفر کرچکے تھے۔ ان دونوں نے بٹاکلان حملہ کے بعد خود کو دھماکہ سے اڑا لیا تھا۔ تیسرے کو پولیس نے گولی ما رکر ہلاک کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT