Tuesday , September 19 2017
Home / شہر کی خبریں / سالانہ 100 اقلیتی طلبا کے سیول سرویس کوچنگ اخراجات حکومت برداشت کریگی

سالانہ 100 اقلیتی طلبا کے سیول سرویس کوچنگ اخراجات حکومت برداشت کریگی

خانگی اداروں میں داخلہ دلایا جائیگا ۔ مزید 130 اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کرنے کا بھی اعلان ۔ سیکریٹریٹ میں تقریب سے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا خطاب
حیدرآباد۔/12جنوری، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کیلئے مزید 130 اقامتی اسکولس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس طرح ریاست میں اقلیتی اقامتی اسکولس کی تعداد 200 تک پہنچ جائے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر آج سکریٹریٹ میں اقلیتی طلبہ کو سیول سرویسیس کی کوچنگ سے متعلق تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس تقریب میں 100اقلیتی طلبہ کو مختلف خانگی کوچنگ سنٹرس میں داخلہ سے متعلق مکتوب حوالے کئے گئے۔ تلنگانہ حکومت نے ہر سال100 اقلیتی طلبہ کو سیول سرویسیس کی کوچنگ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور خانگی اداروں میں داخلہ دلا کر تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے سلسلہ میں سنجیدہ ہیں اور انہوں نے اقامتی اسکولس کی منفرد اسکیم شروع کی ہے۔ اس کے علاوہ سیول سرویسیس میں مسلم نمائندگی میں اضافہ کے مقصد سے ہر سال 100 طلبہ کو کوچنگ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی طلبہ کیلئے سیول سرویسیس میں بہتر مظاہرہ کا یہ نادر موقع ہے اور اس سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے طلبہ کو پوری سنجیدگی اور محنت کے ساتھ کوچنگ حاصل کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ خانگی اداروں کے انتخاب کے سلسلہ میں طلبہ کو مکمل اختیار دیا گیا اور ان کی فیس حکومت ادا کرے گی۔ فی طالب علم دیڑھ لاکھ روپئے تک کا خرچ آئے گا۔ حکومت اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو ماہانہ 5000/- اور شہر کے طلبہ کو 2500/- روپئے اسٹائیفنڈ ادا کرے گی۔ اس کے علاوہ کوچنگ میٹریل کیلئے 3500 روپئے ادا کئے جائیں گے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد اقلیتوں کی ترقی میں دلچسپی لینے والے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ حقیقی معنوں میں اقلیت دوست ہیں اور سیول سرویسیس میں اقلیتوں کی نمائندگی میں اضافہ کی مساعی کسی کارنامہ سے کم نہیں۔ 14 برسوں کی پُرامن جدوجہد کے بعد تلنگانہ ریاست حاصل کی گئی اور چیف منسٹر تمام طبقات کی ہمہ جہتی ترقی کے حق میں ہیں جس سے سنہری تلنگانہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی، ایس ٹی طلبہ کے مماثل اقلیتی طلبہ کو بھی اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کے تحت تعلیمی امداد کی رقم کو 10 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ کردیا گیا ہے۔ چیف منسٹر کو تجویز پیش کی گئی تھی کہ یہ رقم طلبہ سے دوبارہ واپس حاصل کی جائے تاہم چیف منسٹر نے اس کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی کہ اگر فیس واپسی کا فیصلہ کیا گیا تو طلبہ کی توجہ تعلیم سے زیادہ ملازمت پر ہوگی۔ محمد محمود علی نے کہا کہ تعلیم ہی حقیقی ترقی کی ضامن ہوتی ہے اور تعلیم کے بغیر دولت بھی کام نہیں آتی۔ اقلیتوں کا سرکاری ملازمتوں میں فیصد انتہائی کم ہے اور چیف منسٹر نے اس بات کو محسوس کرتے ہوئے اقامتی اسکولس اور سیول سرویسیس کوچنگ کا منصوبہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں عہدیداروں کی بہتر ٹیم ہے جو اسکیمات پر موثر عمل آوری کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے سیول سرویسیس کی کوچنگ حاصل کرنے والے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ کامیابی کے عزم اور محنت کے جذبہ کے ساتھ کوچنگ کا آغاز کریں تاکہ تلنگانہ سے کم از کم چند طلبہ سیول سرویسیس کیلئے منتخب ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 56 برسوں میں متحدہ آندھرا میں اقلیتوں کے ساتھ مسلسل ناانصافی کی گئی اور نئی ریاست میں اقلیتوں کی ترقی کا خواب پورا ہوگا اور کے سی آر جیسی شخصیت اسے عملی جامہ پہنائیگی۔ حکومت نے 31 ماہ کے قلیل عرصہ میں ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات کا عظیم ریکارڈ قائم کیا ہے جس کے نتیجہ میں تلنگانہ ملک کی نمبر ون ریاست بن چکی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کانگریس قائدین کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کانگریس دور حکومت میں فلاحی اقدامات کو نظر انداز کردیا گیا تھا۔انہوں نے کانگریس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ خود اپنا محاسبہ کریں۔ حکومت کے مشیر برائے اقلیتی بہبود اے کے خاں نے کہا کہ گذشتہ سال جب سیول سرویس کوچنگ کا جائزہ لیا گیا تو طلبہ کا معیار انتہائی کم تھا لہذا حکومت نے خانگی کوچنگ سنٹرس میں طلبہ کے داخلے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 9.63لاکھ طلبہ سیول سرویس پریلمیس امتحان کیلئے خود کو رجسٹرڈ کروایا جبکہ 5.5 لاکھ نے امتحان لکھا۔ 3000 طلبہ انٹرویو کے مرحلہ تک پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ سیول سرویسیس کیلئے سخت ترین مسابقت کو دیکھتے ہوئے طلبہ کو ابتدائی 300 رینک کیلئے جدوجہد کرنی چاہیئے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے سیول سرویسیس کوچنگ کی نگرانی کی جائے گی اور وقتاً فوقتاً اعلیٰ عہدیدار خانگی اداروں کا دورہ کریں گے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے طلبہ کو انتخاب پر مبارکباد پیش کی اور انہیں سخت اور مشقت کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ پہلی ریاست ہے جہاں 100 طلبہ کو کوچنگ فراہم کی جارہی ہے۔ کرناٹک میں 30 تا 40 طلبہ کو حکومت کی جانب سے کوچنگ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے خیرمقدم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ100 طلبہ کا اسکریننگ ٹسٹ کے ذریعہ انتخاب کیا گیا ہے اوران کی مرضی کے مطابق 3 خانگی اداروں آر سی ریڈی، حیدرآباد اسٹڈی سرکل اور برین ٹری میں کوچنگ دی جائے گی۔ اس اسکیم پر حکومت تقریباً ایک کروڑ 75 لاکھ روپئے خرچ کررہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT