Wednesday , May 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / سالک پیروی صرف اپنے شیخ کی کرے

سالک پیروی صرف اپنے شیخ کی کرے

…گزشتہ سے پیوستہ …
وَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ  : اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اُس پر جو آپ ﷺ پر نازل کیا گیاہے ( اس میں وحی متلو اور وحی غیرمتلو دونوں شامل ہیں) اور جو آپ ﷺ سے پہلے نازل کیا گیا ( خواہ وہ کسی زمانے میں کسی قوم اورکسی ملک میں ہو ) ۔
مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ حضور ﷺ کی تعلیمات پر ایمان رکھے اور آپ ﷺ کی اتباع کرے اور دیگر انبیائے کرام پر نازل ہونے والی کتابوں پر بھی ایمان رکھے صوفیہ کرام نے اس سے استنباط کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسی طرح سالک کے لئے ضروری ہے کہ وہ عقیدت تو تمام مشائخ سے رکھے لیکن پیروی صرف اپنے شیخ اور مرشد کی کرے ۔
یُخٰدِعُوْنَ اللّهَ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا : وہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں ۔ یہ عمل منافقوں کا بتایا جارہاہے ۔ صوفیہ کہتے ہیں کہ اﷲ والوں کے ساتھ دھوکہ اور فریب کامعاملہ کرنا بھی ایسا ہی ہے جیسے حق تعالیٰ کے ساتھ دھوکہ بازی کرنا ۔
فِي قُلُوْبِهِمْ مَرَضٌ  : ان کے دلوں میں ایک بیماری (نفاق) ہے۔ صوفیہ کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امراض قلب، معاصی اور گناہ ہیں ، لہذا ان سے بچنے اور محفوظ رہنے کی تدبیر کرنا ضروری ہے ، اور کسی کے ہاتھ پر بیعت ہونا اسی تدبیر کاایک حصہ ہے۔ کیوں کہ مرشد ، امراض قلبی کا معالج ہوتا ہے ۔
وَاللّهُ مُحِيْطٌ بِالْكَافِرِيْنَ : اﷲ منکرین حق کو گھیرے ہوئے ہے ۔ صوفیہ فرماتے ہیں یہ احاطہ صرف علمی ہی نہیں ،ذاتی بھی ہے لیکن ذاتی احاطہ بلاتکیف ہے یعنی یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ کیسے ؟ کیوں کہ احاطۂ ذاتی کی کیفیت ، لفظ و بیاں میں نہیں آسکتی ۔
کُلَّمَا أَضَاء لَهُمْ مَّشَوْاْ فِیْهِ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُواْ  :
جب انھیں روشنی محسوس ہوتی ہے تو وہ اس روشنی میں چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا چھاجاتا ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں۔ صوفیہ کرام فرماتے ہیں کہ یہی حال اُس سالک کا ہوتا ہے جو حالت بسط میں کام میں لگا رہتا ہے لیکن جب حالت قبض طاری ہوتی ہے تو کام چھوڑ بیٹھتا ہے ۔
قبض اور بسط یہ تصوف کی اصطلاحیں ہیں، یہ دو حالتیں ہیں جن سے تقریباً ہر سالک گزرتا ہے۔ ان دونوں حالتوں کاتعلق خوف و رجاء کے افراط سے ہے ۔ کبھی مستقبل کے اندیشوں سے یاکبھی تجلیات جلالیہ کے ظہور کی وجہ سے عظمت و استغناء کے آثار وارد ہونے سے سالک میں خوف کاافراط ہوتا ہے تو دل میں گرفتگی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے تو اس کو قبض کہا جاتا ہے ۔ اس کے برخلاف ، رجاء میں افراط سے مستقبل روشن اور تابناک نظر آتا ہے یا تجلیات جمالیہ کے ظہور آثار اور لطف و کرم کے وارد ہونے سے دل میں سرور و فرحت اور انبساط کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اس کو بسط کہتے ہیں۔ ان دونوں حالتوں میں سالک کو چاہئے کہ قبض کی حالت میں دل گرفتہ ہوکر اپنا کام نہ چھوڑے اور بسط کی حالت میں شاداں و فرحاں ہوکر لاپرواہی نہ کرے اور ہر دو حالتوں میں اپنا کام جاری رکھے۔
کُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْہَا مِنْ ثَمَرَۃٍ رِّزْقًا   ۙ قَالُوْا ہٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ ۙ وَاُتُوْابِہٖ مُتَشٰبِہًا (۳:۳۵):جب کوئی پھل انھیں دیا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اس سے پہلے دنیا میں ہم کو دیئے جاتے تھے۔
صوفیہ کرام کہتے ہیں کہ اہل جنت کے اعمال حسنہ ، جنت میں طرح طرح کی نعمتوں کی شکل اختیار کرلیں گے اور ان کو اپنی دنیاوی نیکیوں اور اُخروی ثمرات میں ایک خاص مشابہت نظر آئے گی ۔
وَلَا تَـقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِــمِيْنَ  ( بقرہ ۲:۳۵)  : اس درخت کے قریب بھی نہ جانا ، ورنہ ظالموں میں شمار ہوگے ۔
ممانعت دراصل درخت کے پھل کی کرنی تھی ، لیکن قرب شجر سے بھی روک دیا گیا ۔ صوفیہ کرام کہتے ہیں کہ مشائخ بعض اوقات مرید کو مباحات سے بھی روک دیتے ہیں ، اس کی اصل بھی یہی ہے ۔
وامنوا بما انزلت مصدقا ( بقرہ ۲:۴۱ تا ۴۳) ترجمہ : ( رسول اکرم ﷺ کے زمانے کے بنی اسرائیل سے خطاب ہے ) میں نے جو کتاب اب نازل کی ہے اس پر ایمان لاؤ ۔ یہ اُس کتاب کی تصدیق کررہی ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود ہے ۔ سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جانا ، تھوڑی قیمت پر میری آیات کو بیچ نہ ڈالو اور مجھ سے ڈرتے رہو، باطل کا رنگ چڑھاکر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو ۔ نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو اور جو لوگ میرے آگے جھک رہے یہں ان کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ ۔
ان آیات میں بنی اسرائیل کی تین قلبی بیماریوں کی نشاندہی کرکے ان بیماریوں کا علاج تجویز کیا گیا ہے ۔ ان کی قلبی بیماریاں یہ ہیں :

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT