Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / سال نو کے پروگرام میں راحت کی سانس

سال نو کے پروگرام میں راحت کی سانس

پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خاں کی آمد میں تاخیر
حیدرآباد۔یکم جنوری ( سیاست نیوز) پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خاں کو طیرانگاہ شمس آباد پر کل اس وقت عجیب و غریب صورت حال کا سامنا کرنا پڑا، جب ایمگریشن قواعد کی تکمیل نہ کرنے پر انھیں آمد کے ساتھ ہی واپس بھیج دیا گیا۔ سال کے موقع پر ہوٹل تاج فلک نما پیلس میں ایک پروگرام پیش کرنے کے لئے پاکستانی گلوکار ابوظہبی سے راست حیدرآباد پہنچے تھے۔ چوں کہ پاکستانی شہریوں کو دہلی اور ممبئی کے راستہ (انٹری پوئنٹ) ملک میں داخلے کی اجازت ہے، لہذا انھیں قواعد کے مطابق طیرانگاہ سے ہی واپس بھیج دیا گیا، جس کے بعد راحت فتح علی خاں دہلی روانہ ہو گئے اور پھر وہاں سے دوبارہ حیدرآباد پہنچے۔ 42 سالہ گلوکار نے اس قضیہ کے لئے ایرلائنز کو مورد الزام ٹھہرایا اور کہا کہ حکام نے تو صرف قواعد کی تکمیل کی ہے۔ ایمگریشن عہدہ داروں نے بتایا کہ خان صاحب کل صبح طیرانگاہ شمس آباد پہنچے تھے، لیکن ایمگریشن قواعد کی تکمیل نہ کرنے پر انھیں شہر میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مذکورہ تنازعہ سے متعلق دریافت کرنے پر پاکستانی گلوکار نے کہا کہ ہندوستانی حکام اور میں درست راستے پر تھے، لیکن ایرلائنز نے فاش غلطی کردی، جو کہ یہ جانتے تھے کہ پاکستانی شہریوں کو ہندوستان میں کس مقام پر اترنے کی مشروط اجازت ہے۔ ان کی غلطی کا خمیازہ مجھے 29 گھنٹے مسلسل سفر کرتے ہوئے بھگتنا پڑا۔ تاہم ایرلائنز کے ایک سینئر عہدہ دار نے یہ اعتراف کیا کہ پاکستانی شہری صرف دہلی اور ممبئی کے طیرانگاہوں سے ملک میں داخل ہو سکتے ہیں۔ مذکورہ پروگرام کے منتظمین نے بتایا کہ راحت فتح علی خاں کو شمس آباد طیرانگاہ سے دوبارہ ابوظہبی واپس جانا پڑا اور پھر وہاں سے براہ دہلی حیدرآباد پہنچے اور اپنا پروگرام کامیابی کے ساتھ پیش کرنے پر سامعین اور منتظمین نے راحت کی سانس لی۔ دریں اثناء سینئر پولیس عہدہ دار نے بتایا کہ ہندوستان میں داخل ہونے والے تمام پاکستانی شہریوں کا ریکارڈ نئی دہلی اور ممبئی کے انٹری پوائنٹ پر کیا جاتا ہے، جس کے پیش نظر انھیں مجبوراً واپس بھیج دینا پڑا اور انھیں متحدہ عرب امارات کے ایرلائنز میں ہی ابوظہبی۔ حیدرآباد۔ ابوظہبی۔ دہلی اور حیدرآباد شکر لگانا پڑا۔ واضح رہے کہ راحت فتح علی خاں اپنے تایا نصرت فتح علی خاں کی طرح ہندوستان میں مقبول ہیں، جنھوں نے صوفیانہ قوالیوں اور غزلیات کے علاوہ ہندی فلموں کے گیت ’’من کی لگن، جیا دھڑک دھڑک، بولنا ہلکے ہلکے اور دغا بازرے‘‘ گائے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT