Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / سال 2011 تا 2014 کے دوران 2715 فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات

سال 2011 تا 2014 کے دوران 2715 فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات

انتخابات سے قبل فسادات کی نشاندہی، وزارت داخلہ کے اعداد و شمار میں انکشاف

حیدرآباد 11 اکٹوبر (سیاست نیوز) ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات و تشدد کے واقعات انتخابات کے قریب ہوا کرتے ہیں۔ اس کا اندازہ حالیہ دنوں میں منظر عام پر آئی ایک رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہندوستان بھر میں ہر ماہ تقریباً 57 فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ گزشتہ 4 برسوں کے دوران ہندوستان کی آٹھ ریاستوں میں 85 فیصد فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ جن میں بہار، گجرات، کرناٹک، کیرالا، مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا، راجستھان اور اترپردیش شامل ہیں۔ وزارت داخلہ کی جانب سے فراہم کردہ ایک ڈیٹا میں اِس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ 2011 ء تا 2014 ء کے دوران 2715 فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات پیش آئے ہیں۔ اس کا اگر جائزہ لیا جائے تو سالانہ 680 واقعات پیش آرہے ہیں۔ 2011 ء میں 580 فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات پیش آئے جبکہ 2013 ء میں سب سے زیادہ 823 واقعات پیش آئے ہیں۔ 2014 ء میں ہندوستان بھر میں عام انتخابات کا انعقاد عمل میں آیا تھا۔ 2012 ء میں 668 واقعات پیش آئے جبکہ 2014 ء میں 644 واقعات درج کئے گئے۔ 2013 ء میں بہار اور اترپردیش میں فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ہندوستان بھر میں فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات میں ہورہے اضافہ کے متعلق ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ جب کبھی ایسے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے تو ریاستی یا ملکی سطح پر انتخابات کا دور ہوا کرتا ہے۔ ہندوستان میں فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات میں ہونے والے اضافہ کے متعلق رپورٹ میں دی گئی تفصیلات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہار میں اس طرح کے واقعات 2013 ء سے قبل سالانہ 20 ریکارڈ کئے جاتے تھے لیکن 2013 ء اور 2014 ء کے درمیان اِن واقعات میں زبردست اضافہ ہوا اور یہ تعداد 61 تک پہونچ گئی۔ اسی طرح گجرات میں فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے اور 2011 ء تا 2014 ء کا جائزہ لینے پر یہ بات واضح ہوئی ہے کہ فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات میں گجرات میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ کیرالا میں 2014 ء کے دوران صرف 4 فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات پیش آئے جبکہ اِن میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ کرناٹک میں فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات 2011 ء تا 2014 ء کے درمیان سالانہ تقریباً 70 ریکارڈ کئے گئے تھے جبکہ 2012 ء میں مدھیہ پردیش میں فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات میں زبردست اضافہ ہوا۔ اسی طرح اترپردیش میں 2013 ء میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا لیکن 2012 ء میں یہ صورتحال کافی حد تک کنٹرول میں ہوا کرتی تھی۔ ملک میں فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات کو روکنے کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں پر ہوا کرتی ہے اِسی لئے ریاستوں میں موجود حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو متحرک رہتے ہوئے تشدد برپا کرنے والے عناصر کی سرکوبی کے لئے تیار رہنا چاہئے چونکہ جب کبھی اس طرح کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے تو ریاست میں شبیہ متاثر ہونے کے علاوہ معاشی حالات بھی عدم استحکام کا شکار ہوتے ہیں جس کے راست اثرات عوام پر مرتب ہونے لگتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT