Sunday , May 28 2017
Home / شہر کی خبریں / سال 2017-18 کا تلنگانہ کا عام بجٹ مایوس کن

سال 2017-18 کا تلنگانہ کا عام بجٹ مایوس کن

اندرون ڈھائی سال ریاست 70 ہزار کروڑ کے قرض کا شکار ، اتم کمار ریڈی
حیدرآباد ۔ 13 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی نے سال 2017-18 کے عام بجٹ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈھائی سال میں ریاست 70 ہزار کروڑ روپئے کی مقروض ہوگئی ہے ۔ اعداد و شمار میں الٹ پھیر کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے ۔ آج اسمبلی کے میڈیا پوائنٹ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیپٹن اتم کمار ریڈی نے کہا کہ بڑے پیمانے پر قرض حاصل کرنے کے معاملے میں تلنگانہ کو سارے ملک میں سرفہرست مقام حاصل ہوا ہے ۔ آزادی کے بعد علحدہ تلنگانہ ریاست حاصل کرنے تک تلنگانہ پر 70 ہزار روپئے قرض کا بوجھ تھا حالیہ ڈھائی سال میں چیف منسٹر نے مزید 70 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ہے ۔ جس سے ریاست کا قرض 1.40 لاکھ کروڑ ہوگیا ۔ اس کے علاوہ حکومت نے ریاست کے مختلف کارپوریشنس کو 45 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے میں ضمانت دی ہے ۔ اس طرح ریاست کا جملہ قرض 1.85 لاکھ کروڑ ہوگیا ۔ بڑے پیمانے پر قرض حاصل کرنے سے ریاست کے مستقبل پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ مشین بھگیرتا اور آبپاشی پراجکٹس سے کمیشن حاصل ہورہا ہے ۔ جس کی وجہ سے ان کے بجٹ میں غیر معمولی اضافہ کردیا گیا ہے ۔ فیس ری ایمبرسمنٹ اور دوسرے فلاحی اسکیمات میں کمیشن حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ان کے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ۔ دلت طبقہ کو 3 ایکڑ اراضی دینے کا وعدہ کیا گیا ۔ تین سال میں صرف تین ہزار دلت خاندان کو فی کس تین ایکڑ اراضی دی گئی ۔ اراضی دینے کا سلسلہ اس طرح سست رہا تو تمام دلت طبقات میں اراضی تقسیم کے لیے 100 سال درکار ہوں گے ۔ سرکاری ملازمین کو پے رویژن کمیشن کے بقایا جات ابھی تک جاری نہیں کئے گئے اور نہ ہی بجٹ میں اس کا کوئی احاطہ کیا گیا ۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کو دیا گیا ہیلت کارڈ قابل کارکرد نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ہاسپٹل میں اس کو قبول کیا جارہا ہے ۔ ڈبل بیڈ روم مکانات کے معاملے میں بھی حکومت عوام کو دھوکہ دے رہی ہے ۔ ابھی تک صرف 1400 مکانات تعمیر کئے گئے گذشتہ سال اس کے لیے جو بجٹ تھا دوبارہ اتنا ہی بجٹ مختص کیا گیا ۔ اس میں کسی طرح کا کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ۔ مکانات سے متعلق اسمبلی میں فنڈز جاری کرنے کا تیقن دیا گیا تھا مگر بجٹ میں کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ زرعی شعبہ کو نظر انداز کرنے اور کسانوں کے قرضہ جات کو معاف کرنے کے وعدے کو فراموش کردینے کا الزام عائد کیا ۔ فلاح و بہبود کے لیے مختص کردہ بجٹ میں نصف بجٹ بھی خرچ نہ کرنے کا حکومت پر الزام عائد کیا ۔ اہم شعبوں کی ترقی کے لیے بجٹ کی اجرائی میں ناکام ہوجانے کا چیف منسٹر پر الزام ، صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے بلند بانگ وعدے کئے گئے مگر صرف 30 کروڑ روپئے مختص کرتے ہوئے انہیں مایوس کیا گیا ۔ فیس ری ایمبرسمنٹ کے 3 ہزار کروڑ روپئے سے زائد کے بقایا جات ہیں مگر بجٹ میں صرف 1900 روپئے مختص کرتے ہوئے طلبہ کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا جارہا ہے ۔ ڈبل بیڈروم مکانات کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی مگر تین سال کے دوران صرف 1400 مکانات تعمیر کئے گئے ۔ تعجب کی بات ہے اس کے بجٹ میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ۔ سماجی بہبود کے بجٹ میں صرف 51 فیصد فنڈز خرچ کیے گئے ۔ زرعی پیداوار 50 فیصد گھٹ گئی ۔ بجٹ میں سماج کے کسی بھی طبقہ کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ہے ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT