Thursday , September 21 2017
Home / اداریہ / سال 2022 کا ویژن

سال 2022 کا ویژن

نظریے شاندار ہوتے ہیں
عملی اقدام کیوں نہیں ہوتا
سال 2022 کا ویژن
ہندوستان کو سال 2022ء تک نئے ہندوستان کے نظریہ کے مطابق ترقی کی اعلی سطح کو لے جانے کا خواب دکھاتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی حکومت کی پالیسیوں اور ریاستوں کی ضروریات کے درمیان جس ویژن 2022ء کو پیش کیا ہے یہ ریاستوں کے تعاون کے بغیر ناممکن بھی قرار دیا ہے۔ملک کے کئی حصوں میں جب عوام کی بڑی تعداد سماجی و تعلیمی معاشی پسماندگی کی زندگی گزار رہی ہے تو ملک کو ایک ترقی یافتہ بنانے کی باتیں صرف سنتے ہیں اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ سال 2022ء کو ہندوستان کی آمادی کے 75 سال کے طور پر بھی منایا جانے والا ہے۔ وزیراعظم نے اس سال کو اپنے زمین میں رکھ کر تنہا ہندوستان کے خواب کی تعمیر کی جانب کوششوں پر توجہ دی ہے تو توقع ہے کہ اس میں کامیابی ملے گی۔ اس کے لیے وزیراعظم نے یہ بھی شرط رکھی ہے کہ نئے ہندوستان کا خواب تمام ریاستوں اور چیف منسٹروں کے تعاون و باہم کوشش سے ہی پورا ہوسکتا ہے۔ نیتی آیوگ کی انتظامی کونسل کے تیسرے اجلاس میں شریک ریاستی چیف منسٹروں کو ٹیم انڈیا سے بھی تعبیر کیا گیا۔ اس میں شک نہیں کہ تمام ریاستوں اور ان کے سربراہوں کی کوششوں سے ہی ہندوستان کو معاشی طو رپر مستحکم بنایا جاسکتا ہے۔ ٹیم انڈیا جب ایک پلیٹ فارم پر آکر عالمی رجحانات میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں ہندوستان کو ترقی دینے پر توجہ دیتے ہیں تو تیزی سے آگے بڑھنے سے کوئی مسئلہ حائل نہیں ہوسکتا۔ اس موضوع پر غور کیا جائے تو وزیراعظم نریندر مودی نے مرکزی حکومت کی جانب سے ریاستوں کے تعلق سے بنائی جانے والی پالیسیوں اور منصوبوں کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ آیا مرکزی حکومت ان تمام ریاستوں کے ساتھ یکساں رویہ اختیار کرتی ہے جہاں مرکزی حکمران پارٹی کی حکمرانی نہیں ہوئی۔ غیر بی جے پی حکمرانی ریاستوں کے سربراہوں کی مرکز سے جو شکایت رہتی ہے اس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اچھی بات تو یہ ہوگی کہ مرکز اپنے فرائص اور ذمہ داریوں کو یکساں طور پر ادا کرے لیکن بعض ریاستوں کے سربراہوں کی شکایات کا نوٹ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ان ریاستوں کے ساتھ نوآبادیات کی طرح رویہ اختیار کیا۔ بلکہ گورنرروں کیتقررات جیسے اہم امور کو بھی متعلقہ ریاستی حکومتوں سے مشاورت کے بغیر ہی انجام دیا اور یہ گورنرس سیاسی تعصب پسندی سے پاک نہیں ہوتے۔ مرکزی حکومت عالمی سطح پر تمام سارک ممالک کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کرتی ہے اور ریاستوں کے مفادات پر غور کرے بغیر ہی دیگر معاہدے بھی انجام دیتی ہے۔ عام طور پر مرکزی حکومت سے جب کسی ریاست کا چیف منسٹر اپنے مسائل کی یکسوئی کے لیے رجوع ہوتا ہے تو ریاست کی عام ضروریات کو پورا کرنے سے بھی مرکز قاصر رہتا ہے جبکہ حقیقت کو نظرانداز کیا جاتا ہے کہ ایک مضبوط مرکز اور خوشحال ریاستوں سے ہی وفاقی ڈھانچہ مضبوط ہوتا ہے۔ ریاستی اسمبلیوں کی جانب سے منظورہ قراردادوں کو بھی گورنرس اور صدر جمہوریہ کی جانب سے مسترد کردیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مرکز حکومت ریاستوں پر نئے قواعد بھی مسلط کردیتا ہے ایسے میں نیتی آیوگ سے ایجنڈہ کو پورا کرنے کے لیے ریاستوں سے تعاون کے لیے زور دینا خود مرکز کے لیے غور طلب ہونا چاہئے۔ ریاستوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے کا جب بھی سوال اٹھتا ہے تو اس پر مرکزی حکومت کا نظریہ مخالف سمت میں دکھائی دیتا ہے۔ اب اس موضوع پر مزید گہرائی سے غور کی جائے تو مرکز کی مودی حکومت کے لیے بات آزمائشی ہوگی کہ وہ تلنگانہ اسمبلی میں حالیہ منظورہ 12 فیصد مسلم تحفظات بل پر کیا موقف اختیار کرے گی اگر مرکزی حکومت نئے ہندوستان کے خواب کو لے کر آگے بڑھنا چاہتی ہے اور ریاستوں سے انفراسٹرکچر پر زائد مصارف کی توقع کرتی ہے تو اسے ریاستی حکومت اور اسمبلی سے منظورہ بلوں کی منظوری میں تنگ نظری سے گریز کرنا چاہئے جب ریاستی عوام خاص کر پسماندگی کا شکار طبقات کو ترقی و خوشحالی دی جائے تو ریاستوں میں خوشحالی آئے گی اور خوشحال ریاستیں ہی قومی ترقی کا ضامن ہوتی ہیں۔ توقع کی جاتی ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے نیتی آیوگ کے اجلاس کے دوران جن باتوں پر زور دیا ہے اس کو حتمی شکل پہونچانے کے لیے ریاستوں سے تعاون حاصل کرنے ہوئے ریاستوں کو بھی مرکز سے کوئی شکایات کا موقع نہیں دیں گے۔ نئے ہندوستان کے خواب کو پورا کرنے کی اجتماعی ذمہ داری ہے تو اس اجتماعی ضرورتوں کا بھی خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ نیتی آیوگ نے نئی توانائی سے ہندوستان کو بدلنے کے لیے اقدامات اٹھاتے ہیں تو قوی امید ہے کہ سال 2022ء تک اس ملک کی ہر ریاست خوشحال ہوجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT