Friday , July 28 2017
Home / شہر کی خبریں / سانپ اور بچھو کے زہر سے تیار منشیات کے استعمال میں اضافہ

سانپ اور بچھو کے زہر سے تیار منشیات کے استعمال میں اضافہ

منشیات کی لعنت ، زہریلی زندگی اور نشیلی موت
سانپ اور بچھو کے زہر سے تیار منشیات کے استعمال میں اضافہ
چھوٹے سانپ اور بچھو کی جوڑی کی قیمت 25 لاکھ روپئے ، بنکاک سے اسمگلنگ

حیدرآباد /14 جولائی ( سیاست نیوز ) تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں حالیہ عرصہ کے دوران منشیات کے منظم اور خطرناک ریاکٹس منظر عام پر آنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تلنگانہ منشیات کا قومی صدر مقام کی حیثیت سے ابھر رہا ہے ۔ محکمہ اکسائز عہدیداروں کی جانب سے جاری تحقیقات میں روزانہ انتہائی چونکا دینے والے واقعات سامنے آرہے ہیں ۔اب یہ ایک حیرت انگیز انکشاف ہوا ہے کہ نشہ کے عادی فلم انڈسٹری کی شخصیتیں اور بڑے گھرانوں کے بچے ہمہ اقسام کی نشیلی ادویات استعمال کرتے ہیں بلکہ اپنے نفسیاتی جنون کی تسکین کیلئے سانپ اور بچھو کا زہر پینے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں ۔ سانپ اور بچھو کا زہر انتہائی خطرناک نشہ ہوتا ہے جو جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے ۔ نشہ کے عادی افراد اپنی زبان پر کم زہریلی سانپ اور بچھو کے ہلکے ڈنک سے خوب نشہ پاتے ہیں ملٹی بلین ڈرگس انڈسٹری میں ان دونوں زہروں کی بہت مانگ ہے ۔ لیکن یہ ہندوستان میں بہ آسانی دستیاب نہیں ہوتے ۔ چنانچہ انہیں تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک اور دوسرے مقامات سے ہندوستان میں اسمگل کیا جاتا ہے ۔ زہریلی نشہ کے عادی افراد کیلئے مخصوص سانپوں اور چھوٹے بچھو کی ایک جوڑی 20 تا 25 لاکھ روپئے میں دستیاب ہوتی ہے ۔ جس کو کانچ کے ایک مرتبان میں رکھا جاسکتا ہے ۔ انہیں گھر یا دفتر کے کسی کونے میں یا میز پر بھی رکھا جاسکتا ہے ۔ نشے کے عادی افراد کی زبان کو سانپ یا بچھو ایک مرتبہ ڈستا ہے تو وہ 10 تا 12گھنٹے مست نشے میں ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد سانپ یا بچھو کے ایک مرتبہ ڈسنے سے وہ مزید 6 تا 7 گھنٹے تک نشہ میں رہتے ہیں بلکہ بغیر پَر کے آسمان میں خود کو اڑتا ہوا محسوس کرتے ہیں ۔ اس عادت سے چھٹکارا پانا ان کیلئے بے حد مشکل کام ہے ۔ اس قسم کی نشہ کا ساری دنیا میں نیٹ ورک پھیلا ہوا ہے ۔ تلگو مووی آرٹسٹ اسوسی ایشن نے منشیات کی لعنت سے چھٹکارا دلانے انسداد منشیات سیل قائم کیا ہے ۔ لیکن اس پر عمل آوری ممکن نہیں ہے ۔ کیونکہ کوئی بھی اداکار اس سنٹر سے رجوع ہونے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ فلم انڈسٹری کے ناکام اور فلاپ اداکار غفلت کی زندگی گذار رہے ہیں کہ وہ سدا بہار ہیں جبکہ حقیقت مختلف ہے ۔ وہ اس حقیقت کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں اور وہ نشہ آور اشیاء کا استعمال کرتے ہوئے خوش ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT