Thursday , October 19 2017
Home / دنیا / سان برناڈینو حملے : متاثرہ خاندانوں کا فیس بک اور ٹوئیٹر پر مقدمہ

سان برناڈینو حملے : متاثرہ خاندانوں کا فیس بک اور ٹوئیٹر پر مقدمہ

لاس اینجلس، 5 مئی (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے کیلفورنیا کے سان برناڈینو میں دسمبر 2015میں فائرنگ میں ہلاک تین افراد کے رشتہ داروں نے فیس بک، گوگل(یو ٹیوب) اور ٹوئٹر پر دہشت گر دتنظیم دولت اسلامیہ کے دہشت گردوں کو سوشل میڈیا پر پھلنے پھولنے کا موقع دینے کا الزام لگاکر ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے ۔مہلوکین کے رشتہ داروں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو سوشل میڈیا کا حسب خواہش استعمال کرکے اپنا پروپیگنڈہ کرنے کی اجازت دے کر ان تینوں کمپنیوں نے دہشت گرد تنظیم کو مدد پہنچائی ہے جس کی وجہ سے سان برناڈینو جیسا واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے کہاکہ ا ن تینوں سائٹوں سے مدد کے بغیر آئی ایس کا اتنا پروپیگنڈہ ممکن نہیں تھا۔سانحہ میں مارے گئے سیرا کلے بورن ، ٹن گوین اور نکولس تھلاسینوس کے رشتہ داروں نے اپنے 32صفحات کے شکایت نامہ میں کہا کہ تینوں کمپنیوں نے کئی سال تک بلا سمجھے بوجھے جان بوجھ کر آئی ایس کو اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ سائٹس کا استعمال کرنے کی اجازت دی۔ آئی ایس نے ان سوشل سائٹس کا استعمال کرکے اپنی شدت پسندانہ نظریات پھیلانے ، پیسہ جمع کرنے ، نئے لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنے کا کام کیا ۔ ان لوگوں نے لاس اینجلس میں ایک عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے ۔ٹوئٹر کی ترجمان نے اس معاملے میں کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا ۔ فیس بک اور گوگل سے بھی اس سلسلے میں اب تک کوئی ردعمل نہیں ملا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT