Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / ساکشی مہاراج کیخلاف الیکشن کمیشن کی وجہ نمائی نوٹس جاری

ساکشی مہاراج کیخلاف الیکشن کمیشن کی وجہ نمائی نوٹس جاری

آج صبح تک جواب دینے کی مہلت، میں نے کسی طبقہ کا نام نہیں لیا، متنازعہ ایم پی کا ادعا
نئی دہلی 10 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) الیکشن کمیشن نے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج کو بادی النظر میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا ہے اور آبادی میں اضافہ کے لئے بالواسطہ طور پر مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرائے جانے پر ان کے خلاف وجہ نمائی نوٹس جاری کرتے ہوئے دریافت کیا ہے کہ ان متنازعہ ریمارکس پر ان کے خلاف کیوں نہ کارروائی کی جائے۔ نوٹس کا جواب دینے کے لئے ساکشی مہاراج کو کل صبح تک مہلت دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے چند روز قبل ہی مذہب یا ذات کے نام پر ووٹ مانگنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ ساکشی مہاراج کے خلاف ان کے متنازعہ ریمارکس کے ضمن میں میرٹھ پولیس نے دو دن قبل ہی مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کرنے سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے اسمبلی انتخابات کا سامنا کرنے والی ریاست اترپردیش کے حلقہ لوک سبھا اناؤ کے رکن پارلیمنٹ کے نام کل رات نوٹس جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ اُنھوں نے بادی النظر میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے جو اس ریاست میں 4 جنوری سے نافذ ہیں۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ان کے ریمارکس سے سماج کے مختلف طبقات میں دشمنی پیدا ہوسکتی ہے۔

ساکشی نے نوٹس موصول ہونے کی توثیق کرتے ہوئے کہاکہ جواب دینے کے لئے اُنھیں مزید وقت درکار ہے اور دعویٰ کیاکہ اُنھوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے جس کی پاداش میں نوٹس جاری کی جاسکتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ’’میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی ووٹ طلب کیا۔ میں نے کسی مذہب یا طبقہ کا نام نہیں لیا۔ میں نے صرف یہ کہا تھا کہ ملک کی آبادی میں ہونے والے اضافہ کو روکا جائے۔ پھر میرے تبصروں سے کسی مخصوص طبقہ کو کیوں مربوط کیا جارہا ہے‘‘۔ ساکشی نے کہاکہ اُنھیں آج نوٹس موصول ہوئی ہے اور وہ بھی انگریزی زبان میں ہے۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہاکہ ’’مجھے چونکہ انگریزی زبان نہیں آتی، میں نے اپنے دفتر سے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن سے ہندی زبان میں نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی جائے۔ ہندی میں ترجمہ کے بعد ہی میں نوٹس کا مواد سمجھ سکتا ہوں‘‘۔ ساکشی نے گزشتہ ہفتہ میرٹھ میں ہندو سنت سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ملک میں آبادی کے سبب مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ اس کے لئے ہندو ذمہ دار نہیں ہیں (بلکہ) ذمہ دار تو وہ ہیں جو چار بیویوں اور 40 بچوں کی باتیں کرتے ہیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT