Sunday , October 22 2017
Home / ہندوستان / ساہتیہ اکیڈیمی کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے: چیرپرسن تیواری

ساہتیہ اکیڈیمی کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے: چیرپرسن تیواری

ادیبوں کو احتجاج کا متبادل طریقہ اختیار کرنے کا مشورہ ، ایوارڈس کی واپسی پر ردعمل

نئی دہلی۔ 7 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) مصنفہ نین تارا سہگل اور شاعر اشوک واجپائی کی جانب سے ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈس کی واپسی کے اعلان کے پس منظر میں اس ادبی ادارہ کے صدر نے کہا کہ ادیبوں کو اپنے احتجاج کی مختلف راہ اختیار کرنی ہوگی اور وہ اس خودمختار ادارہ کو سیاسی رنگ نہ دیں۔ ساہتیہ اکیڈیمی کے چیرپرسن وشواناتھ پرساد تیواری نے کہا کہ یہ اکیڈیمی کوئی سرکاری تنظیم نہیں ہے بلکہ یہ ایک خودمختار ادارہ ہے۔ ادیب، مصنف، شاعر کو یہ ایوارڈ ان کے پسندیدہ کام کے عوض دیا جاتا ہے۔ اس کو واپس کرنے کوئی منطق نہیں ہے کیونکہ یہ کوئی پدم ایوارڈس کی طرح نہیں ہے۔ ہندی شاعر اشوک واجپائی نے بھی آج 1994ء میں دیئے گئے ساہتیہ ایوارڈ کو واپس کردیا۔ انہیں یہ ایوارڈ ان کے شعری مجموعہ ’’کہیں نہیں وہیں‘‘ پر دیا گیا تھا۔ انہوں نے یوپی کے ٹاؤن دادری میں ایک مسلم شخص کے قتل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے یہ ایوارڈز واپس کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ زندگی اور اظہار احساسات کی آزادی کے حق پر حملے کے خلاف احتجاج کیا جاسکے۔ انہوں نے ساہتیہ اکیڈیمی پر الزام عائد کیا کہ وہ ملک میں رونما ہونے والے واقعات پر خاموش ہے۔ کل ہی مصنفہ نین تارا سہگل نے اپنے ایک کھلے مکتوب میں ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اپنے اس اقدام کو دادری میں ایک مسلم شخص کے قتل کو وجہ بتائی تھی۔

اس کے علاوہ انہوں نے کرناٹک کے کنڑ ادیب ایم ایم کلبرگی اور حقیقت پسند نریندر دھابولکر اور گووندپنسرے کے قتل پر بھی احتجاج کیا۔ اپنے ردعمل میں تیواری نے کہا کہ ان کی اکیڈیمی ہندوستان کی قومی اکیڈیمی ہے جو مختلف زبانوں میں ہونے والے کامیاب کاموں کی ستائش کرتی ہے اور انہیں ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ مصنفین اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے اعزاز حاصل کرتے ہیں، اس لئے ان کو دیا جانے والے اعزاز واپس نہیں کئے جانے چاہئیں۔ مصنفین کو اپنے احتجاج کا متبادل طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ آخر ساہتیہ اکیڈیمی کو موردالزام کس طرح ٹھہرایا جاسکتا ہے جو 60 سال سے موجود ہے۔ ایمرجنسی کے دور میں بھی اکیڈیمی نے اپنا موقف ظاہر نہیں کیا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ادبی حلقوں میں ہونے والی بات چیت کے مطابق یہ اکیڈیمی ترجمے کے کاموں میں مصروف ہے۔ مختلف زبانوں میں ہونے والے کاموں کو ایوارڈس دیا جاتا ہے۔ اکیڈیمی کے چیرپرسن ازخود بھی نامور ہندی شاعر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اکیڈیمی اظہار خیال کی آزادی پر پابندیوں کے خلاف احتجاج میں شامل ہوجائے تو وہ اپنے ابتدائی کام سے روگردانی نہیں کرے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ مصنفین اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کررہے ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT