Sunday , August 20 2017
Home / جرائم و حادثات / سب انسپکٹر پولیس کی ایک ملزم کے افراد خاندان سے بدسلوکی

سب انسپکٹر پولیس کی ایک ملزم کے افراد خاندان سے بدسلوکی

خود کو ضرر پہونچانے بھائی کی کوشش ،مائلاردیوپلی میں خواتین کا احتجاج
حیدرآباد /4 مئی ( سیاست نیوز ) ایک سب انسپکٹر پولیس کے ہاتھوں پولیس کی فرینڈلی پولیسنگ پالیسی کو شدید دھکہ پہونچا ۔ پولیس حالانکہ ایک ملزم کی تلاش میں اس کے مکان پہونچی تھی۔ تاہم سب انسپکٹر کی مبینہ ہراسانیاں پولیس کی پالیسی کو عیاں کر گیں۔ یہ  واقعہ مائیلاردیوپلی پولیس اسٹیشن حدود میں پیش آیا ۔ اس پولیس اسٹیشن سے وابستہ سب انسپکٹر لکشمی کانت ریڈی پر الزام ہے کہ اس عہدیدار نے عوام اور پولیس کے درمیان خوشگوار تعلقات کی پالیسی کو شدید نقصان پہونچایا ہے ۔ ایک قتل کیس کے معاملہ میں ملزم عرفان کی تلاش میں سب انسپکٹر لکشمی کانت ریڈی عرفان کے مکان پہونچے تھے ۔ اس عہدیدار نے اس پولیس اسٹیشن حدود کی عوام کو کافی شکایتیں ہیں خاصکر اس عہدیدار کا رویہ اور عوام سے بات کرنے کا لب و لہجہ پر سب اعتراض کرتے ہیں اور اس عہدیدار پر یہ بھی الزام ہے کہ یہ اعلی عہدیداروں کو تک پرواہ نہیں کرتا ۔ عرفان کی تلاش میں جب یہ عہدیدار اپنی ٹیم کے ہمراہ پہونچا تو ہاتھ میں بندوق تھامے ہوئے  زبردستی اسکے مکان میں داخل ہوگیا

اور بدسلوکی اور بدتمیزی کی انتہاء کردی ۔ اس عہدیدار کے رویہ پر برہم عرفان کے بھائی اظہر نے اپنے آپ پر وار کرلیا اور انتہائی اقدام کی کوشش کی ۔ اظہر اجو کا کہنا ہے کہ وہ ان کی والدہ اور بہن کے ساتھ بدسلوکی کر رہے تھے۔ اس وجہ سے اس نے بطور احتجاج اس طرح کا اقدام کرلیا۔ تاہم  بعد ازاں پولیس نے اسے گرفتار کرتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی درست اقدام ہے لیکن ملزم کے افراد خاندان کو سماج میں رسواء کرنا درست اقدام نہیں عوام نے پولیس کے اس رویہ پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور یہ تاثر پیش کیا ہے کہ پولیس کے اعلی عہدیدار کو عواو سے بہتر تعلقات بنائے ہوئے ہیں لیکن ان کے ماتحت عہدیداروں کی جانب سے ہراسانی میں کوئی کمی نہیں ہوئی ۔ اظہر کی طرح سب انپسکٹر لکشمی کانت ریڈی کے  خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT