Monday , September 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / سب کچھ سہی ، تیری بات رکھ لی میں نے

سب کچھ سہی ، تیری بات رکھ لی میں نے

حیات دراصل اﷲ تعالی کی صفات میں سے ایک صفت کا نام ہے ۔ قرآن حکیم کی ایک بڑی دلچسپ اور معرکۃ الآراء ایت ہے : ہم نے اک خاص امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو انھوں نے اس بارِ امانت کو اُٹھانے سے انکار کردیا اور وہ اُس سے ڈر گئے، اور انسان نے اس بار امانت کو اُٹھالیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ظالم اور نہایت نادان ہے ۔
(الاحزاب۳۳:۷۳)
اس آیت کریمہ میں کئی اُمور تنقیح طلب ہیں ۔ مثلاً
(۱) یہ خاص امانت کیا تھی یعنی الامانۃ سے کیا مراد ہے ؟
(۲) عرض امانت کا یہ واقعہ کب پیش آیا؟
(۳) سماوات و ارض اور جبال سے کیا واقعی آسمان و زمین اور پہاڑ ہی مراد ہیں یا ان کے باشندے ؟
(۴) زمین و آسمان اور پہاڑوں نے یہ بار امانت اُٹھانے سے کیوں انکار کیا ، وجہ خوف کیا تھی ؟
(۵) انسان نے کیا سمجھ کر یہ بار امانت اُٹھالیا؟
(۶) یہ عرض امانت حکم الٰہی تھا یا امر اختیاری؟
اگر ہم ان تمام اُمور کی چھان پھٹک میں پڑگئے تو اپنے اصل موضوع سے بہت دور ہوجائیں گے ۔ اس لئے ان اُمور پر   انشاء اﷲ پھر کسی وقت گفتگو ہوگی ۔ فی الحال ہم صرف ایک امر پر غور کرتے ہیں کہ ’’الامانۃ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ اس سلسلہ میں مفسرین اور علماء میں بڑا اختلاف پایا جاتا ہے ۔ مثلاً کسی نے اطاعت اور اﷲ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرائض مراد لیے ہیں تو کسی نے اوامر ونواہی مراد لیے ہیں۔
کسی نے ارکان اسلام مراد لیے ہیں تو کسی نے عام امانات اور ایفائے عہد مراد لیا ہے ۔کسی نے اخلاق باطنی مراد لیے ہیں تو کسی نے حواس خمسہ اور شرمگاہ کی حفاظت مراد لی ہے اور بعض حضرات نے اس سے خلافت و حکومت مراد لے لی ہے ۔ غرض ان تمام اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’الامانۃ‘‘ سے مراد اپنی آزاد مرضی سے اﷲ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی ذمہ داری قبول کرنا ہے ۔اﷲ تعالیٰ کے احکام دو طرح کے ہیں۔
ایک تکوینی : جن کے ماننے پر مخلوقات مجبور ہیں اور وہ ان کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے ، مثلاً موت و حیات وغیرہ ، ان احکام میں انسان بھی دیگر مخلوقات کی طرح ان کو ماننے پر مجبور ہے ، جن میں اس کے اختیار کا دخل نہیں ہے ۔

دوسرے تشریعی: اﷲ تعالیٰ کے یہ وہ احکام ہیں جن میں مخلوقات کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی آزاد مرضی سے چاہیں تو مانیں اور اس پر عمل کریں یا چاہیں تو ان پر عمل نہ کریں۔ اگر عمل کریں گے تو انہیں اجر دیا جائے گا اور انھیں نعمتیں حاصل ہوں گی اور عمل نہ کریں تو دوزخ کا عذاب دیا جائے گا ۔ یہ پیشکش آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کو کی گئی تو انھوں نے اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے انکار کردیا جس میں دوزخ کاخطرہ ، جوکھم تھا لیکن یہ خطرہ مول لے کر انسان نے اس بار امانت کو اُٹھالیا ، اس لئے یہ ظالم کہلایا کہ اپنی طاقت سے زیادہ بوجھ صرف عزم و ہمت سے اُٹھالیا اور یہ اس کی نادانی تھی کہ اس کی اہمیت کو سمجھ نہ سکا اسی لئے جاہل اور نادان کہلایا۔ بہرحال بار امانت اُٹھالینے کے بعد انسان کو تشریعی احکام دے دیئے گئے جن میں اس کو ارادے اور اختیار کی آزادی حاصل ہوگئی ۔ اس کے برخلاف دیگر مخلوقات کو صرف تکوینی احکام ملے ہیں جن میں انھیں ارادے اور اختیار کی آزادی دی ہی نہیں گئی۔
جس طرح تھوڑے تھورے لفظی فرق کے ساتھ علماء نے امانت کی تعبیر میں اختلاف کیا ہے اسی طرح صوفیہ نے بھی اس کی تعبیر میں اختلاف کیا ہے ، بعض صوفیہ اس سے مراد ’نورِعقل ‘ لیتے ہیں اور بعض اس سے مراد ’نارِعشق‘ لیتے ہیں ۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اﷲ علیہ نے امانت سے مراد تجلیات ذات کو قبول کرنے کی استعداد لی ہے لیکن سلسلہ عالیہ قادریہ ملتانیہ کے مشائخ کرام کے نزدیک امانت سے اﷲ تعالیٰ کی ’صفات ذاتیہ‘ مراد ہیں، جنھیں امہات الصفات کہا جاتا ہے ان کی تعداد سات ہونے کی وجہ ان کو سبعہ صفات بھی کہتے ہیں۔ یہ اﷲ تعالیٰ کی ذاتی صفات ہیں اور ان کے علاوہ باقی صفات ، افعالی ہیں۔ بہرحال اﷲ تعالیٰ کی صفات ذاتیہ ہیں جنھیں انسان نے بار امانت کے طورپر اُٹھالیا ہے ۔
اﷲ (ذات)
حیات
علم
ارادہ
قدرت
سماعت
بصارت
کلام
صوفی منش رباعی گو شاعر حضرت امجد حیدرآبادی فرماتے ہیں :
اس سینہ میں کائنات رکھ لی میں نے
کیا ذکرِ صفات ، ذات رکھ لی میں نے
ظالم سہی ، جاہل سہی ، نادان سہی
سب کچھ سہی ، تیری بات رکھ لی میں نے

TOPPOPULARRECENT