Tuesday , October 24 2017
Home / Top Stories / سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے: سماج وادی پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو

سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے: سماج وادی پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو

لکھنو 25 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) اپنے خاندان اور پارٹی میں گہرے انتشار کی پرواہ کئے بغیر سماج وادی پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو نے آج ’’سب کچھ ٹھیک ہے‘‘ کی شبیہہ پیش کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ اُنھوں نے کوئی قطعی بات نہیں کہی کہ اُن کے بھائی شیوپال کو اُن کے فرزند اکھیلیش یادو کی کابینہ میں بحال کردیا جائے گا جنھوں نے اُن کو برطرف کردیا تھا۔ تاہم اُنھوں نے کہاکہ پارٹی اور خاندان متحد ہیں۔ وہ ایک پریس کانفرنس سے شیوپال اور دیگر برطرف وزراء کے ساتھ خطاب کررہے تھے۔ چیف منسٹر اکھیلیش یادو کی غیر حاضری بُری طرح محسوس کی گئی۔ ایک دن قبل پارٹی کے جلسہ میں انتشار کے مناظر دیکھے گئے تھے۔ اکھیلیش اور شیوپال کے حامیوں نے سماج وادی پارٹی کے دفتر کے روبرو احتجاجی مظاہرے کئے تھے۔ اپنا غالب کردار ظاہر کرتے ہوئے ملائم سنگھ یادو نے کہاکہ 2012 ء میں یوپی میں سماج وادی پارٹی برسر اقتدار آئی تھی کیوں کہ یہی واحد پارٹی تھی اور اکھیلیش کو چیف منسٹر بنایا گیا تھا۔ تاہم اُنھوں نے اسمبلی انتخابات کے ساتھ ہی اُنھیں دوبارہ چیف منسٹر مقرر کرنے کا تذکرہ نہیں کیا۔ ملائم سنگھ یادو نے پارٹی کے رکن پارلیمنٹ امر سنگھ کا بھرپور دفاع کیا جن پر اکھیلیش کا گروپ خاندان میں مسائل پیدا کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ ملائم سنگھ یادو نے عجلت میں طلب کی ہوئی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ طریقہ کار میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور نہ ہمارے قائدین کے دلوں میں بغض و عناد ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر چیف منسٹر چاہیں تو یہ اُن کی مرضی پر منحصر ہے، ایک اور سوال پر کہ کیا وہ ریاست کا اقتدار اپنے بیٹے اکھیلیش سے حاصل کرلیں گے، سماج وادی پارٹی کے سربراہ نے کہاکہ مجھے اِس بات پر کیوں غور کرنا چاہئے جبکہ اسمبلی انتخابات کے لئے صرف چند ماہ باقی ہیں۔  2017 ء کے لئے پارٹی کے چیف منسٹری کے امیدوار کے بارے میں اُنھوں نے کہاکہ ہماری پارٹی ایک جمہوری پارٹی ہے۔ پہلے ہمیں اکثریت حاصل کرنے دیجئے اُس کے بعد چیف منسٹری کے لئے امیدواروں پر غور کیا جائے گا۔ فی الحال اکھیلیش چیف منسٹر ہیں۔ اکھیلیش یادو نے کہاکہ پارٹی اور ملائم خاندان میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ وہ نیتاجی کے ساتھ ہیں اور وہ جو بھی ہدایت دیں گے اُس پر عمل کریں گے۔ شیوپال اخباری نمائندوں کے سوالوں کے جواب سماج وادی پارٹی کے ہیڈکوارٹرس پر دے رہے تھے جہاں انتہائی ڈرامائی واقعات اور بدنما واقعات پیش آئے تھے اور شیوپال نے اپنے بھتیجے اکھیلیش کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے اُن کا مائیکرو فون چھین لیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT