Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / ستمبر میں خونی چاند ، دنیا کی تباہی کے اندیشے

ستمبر میں خونی چاند ، دنیا کی تباہی کے اندیشے

عیسائیوں کے دلائل کو امریکی خلائی ادارہ نے مسترد کردیا
بنگلورو /11 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) دنیا میں محتلف گوشوں سے اگرچہ وقفہ وقفہ سے دنیا کے خاتمہ اور قیامت کے اندیشوں کا اظہار کیا جاتا رہا ہے ایسے میں بعض گوشوں نے اب 28 ستمبر تک کسی وقت دنیا کی قیامت خیز تباہی اور خاتمہ کی پیش قیاسی کی ہے ۔ عیسائیوں کی مقدس کتاب انجیل کے مذہبی اسکالرس نے اپنے عقائد اور دلائیل کی بنیاد پر دعوی کیا ہے کہ ’’ خونی چاند کے دوران 28 ستمبر پیر تک( نعوذ و باللہ) ساری دنیا تباہ ہوجائے گی ۔ خونی چاند دراصل مکمل چاند گہن کہا جاتا ہے جب کردہ ارض کا سایہ مکمل چاند پر پڑتا ہے ۔ روشنی ماند پڑنے کے بعد چاند سرخ نظر آتا ہے ۔ بعض عیسائی گروپوں نے اپنی مقدس کتاب کے حوالہ سے کہا کہ 21 تا 28 ستمبر کے دوران کرہ ارض تباہ ہوجائے گا ۔ کیونکہ 15 اپریل 2014 کے بعد سے یہ لگاتار چوتھا چاند گہن ہوگا ۔ دوسرا چاند گہن 7 اور 8 اکٹوبر 2014 کی درمیانی شب ہوا تھا ۔ تیسرا چاند گہن 4 اپریل 2015 کو ہوا تھا اور آئندہ چاند گہن چوتھا ہوگا تاہم امریکی خلاء ادارہ ناسا نے ان افواہوں اور قیاس آرائیوں کو سختی کے ساتھ مسترد کردیا اور کہا کہ تازہ ترین آثار و قرائین کے مطابق آئندہ سینکڑوں سال کے دوران کرہ ارض پر کوئی بڑا شہاب ثاقب گرنے کا امکان نہیں ہے۔ چنانچہ خلاء سے گرنے والے کسی بڑے آتش فشاں گولے سے کرہ ارض کے ٹکرائے جانے کا کوئی اندیشہ نہیں ہے ۔ یہ خونی چاند گہن یہودیوں کی مقدس رات کو واقع ہو رہا ہے ۔ خونی چاند گہن کو نہ صرف عیسائیوں اور یہودیوں بلکہ امریکی تاریخ میں بھی نمایاں اہمیت حامل ہے ۔ ان دونوں کے مذہبی اسکالرس کا خیال ہے کہ امریکہ کیلئے یہ نیک شگون نہیں ہوگا ۔ یہودی عقائد کے مطابق چار خونی چاند کی گردش سات سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہے ۔ 1980، 1987 ، 1994 میں خونی چاند کے اثرات سے امریکی معشیت بری طرح متاثر ہوئی تھی اور جنگی محاذوں پر خون خرابہ بھی ہوا تھا اور2001 کے دوران قیامت خیز 9/11 دہشت گرد حملے ہوئے تھے ۔ 2007 کے دوران امریکی معیشت سے عالمی معاشی بحران پیدا ہوا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT