Friday , June 23 2017
Home / ہندوستان / ستی مخالف قانون کی طرح طلاق ثلاثہ مخالف قانون کی ضرورت

ستی مخالف قانون کی طرح طلاق ثلاثہ مخالف قانون کی ضرورت

شیعہ بورڈ کا بیان ، طلاق ثلاثہ مسئلہ مذہبی نہیں سماجی اصلاح : نقوی ، اکثریت کی آمریت مسلط کرنا غلط :جے ڈی یو
لکھنو ۔ 17 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) کل ہند شیعہ پرسنل لاء بورڈ نے آج کہاکہ حکومت یوپی کو طلاق ثلاثہ کے خلاف ایک سخت قانون مدوین کرنا چاہئے جیسا کہ ستی کے خلاف مدوین کیا گیا تھا تاکہ مسلم خواتین ظلم و جبر کا شکار نہ ہوسکیں۔ بورڈ کے ترجمان مولانا یعقوب لداف نے کہا کہ صرف شرعی وجوہات کے بغیر طلاق دینے والوں کا بائیکاٹ متاثرہ قانون کو انصاف نہیں دلاسکتا ۔ ایک نشست میں طلاق ثلاثہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اُن کا تبصرہ کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے ایک قرارداد کی منظوری کے ایک دن بعد منظرعام پر آیا ، جس میں کہا گیا تھا کہ شرعی وجوہات کی بناء پر طلاق ثلاثہ میں ملوث افراد کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے گا ۔ رامپور سے موصولہ اطلاع کے بموجب مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے آج طلاق ثلاثہ کے حساس مسئلہ کو مذہبی مسئلہ قرار نہیں دیا بلکہ کہا کہ یہ جامع معاشرتی اصلاح کا ایک حصہ ہے اور وقت کا تقاضہ ہے ۔ انھوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی ستائش کی کہ انھوں نے موجودہ قومی کمیشن برائے پسماندہ طبقات کی جگہ قومی کمیشن برائے سماجی و تعلیمی پسماندہ طبقات کو دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مجوزہ نئے کمیشن کو دستوری اختیارات بھی دیئے جائیں گے تاکہ مسلمانوں کو بھی فائدہ پہونچ سکے ۔ وہ بی جے پی کارکنوں کے ایک کنونشن سے خطاب کررہے تھے ۔ انھوں نے کہاکہ اس طرح پسماندہ طبقات کے ساتھ انصاف کے دیرینہ مطالبہ کی یکسوئی ہوجائے گی ۔ تاہم اپوزیشن پارٹیاں بشمول کانگریس ، ایس پی ، بی ایس پی ، ٹی ایم سی ، بائیں بازو کی پارٹیاں اور جے ڈی یو نے لوک سبھا میں اس بل کی منظوری کے باوجود راجیہ سبھا میں اس میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب جنتادل ( یونائیٹیڈ ) نے آج اکثریت کے نقطہ نظر کو اقلیتوں کے مذہبی عمل پر زبردستی مسلط کرنے کی کوشش پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مملکت کو یکساں سیول کوڈ کے لئے قانون سازی کرنی چاہئے تاہم پرزور انداز میں کہا کہ یہ وسیع تر اتفاق رائے کی بنیاد پر ہونا چاہئے اور آمرانہ طریقہ سے اسے مسلط نہیں کیا جانا چاہئے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کل یہ کہتے ہوئے کہ مسلم خواتین کو انصاف حاصل ہونا چاہئے یہ مسئلہ اُٹھایا تھا ، جس کے نتیجہ میں بی جے پی قائدین بشمول چیف منسٹر یوپی یوگی آدتیہ ناتھ نے طلاق ثلاثہ کے خلاف اپنی مہم میں شدت پیدا کردی ہے ۔ جے ڈی یو کے ترجمان کے سی تیاگی نے کہا کہ صدر جے ڈی یو چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے لاء کمیشن کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی پارٹی مثبت تبدیلیوں کا خیرمقدم کرتی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT