Sunday , September 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / سحری کھانے میں برکت ہے

سحری کھانے میں برکت ہے

مرسل : ابوزہیر نظامی

رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ سحری کھاؤ اس لئے کہ سحری کھانے میں برکت ہے ‘‘۔
(صحیحین بروایت حضرت انس بن مالک ؓ)
حضرت عدی بن حاتم ؓ نے کہا کہ جب سورۂ بقرہ کی یہ آیت نمبر ۱۸۷ نازل ہوئی (یعنی یہاں تک کہ ظاہر ہوجائے تمہارے لئے سفید ڈورا سیاہ ڈورے سے صبح کے وقت) (۱۸۷)تو ہم نے سیاہ رنگ کے ڈورے (تاگے) لے کر تکیہ کے نیچے رکھ لیں ۔ میں رات کو دیکھتا رہا لیکن اس کا رنگ ظاہر نہ ہوسکا صبح کے وقت میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں پہنچا اور یہ حال بیان کیا تو آپ نے فرمایا ’’اس سے مراد رات کی سیاہی اور صبح کی سفیدی ہے ‘‘۔
حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب آیت  ’’وکلوا وشربوا حتی یتبین لکم‘‘ الخ نازل ہوئی من الفجر کا لفظ نازل نہ ہوا تھا اور لوگ جب روزہ رکھنے کا ارادہ کرتے تو بعض لوگوں نے اپنے پاؤں میں سفید اور سیاہ دھاگا باندھ لیا اور برابر کھاتے رہے جب تک ان کا رنگ نہ کھلا (یعنی سیاہ اور سفید صاف دکھائی دینا)  تو اللہ تعالیٰ نے من الفجر کا لفظ نازل فرمایا اب لوگوں نے جان لیا کہ اس سے مراد رات اور دن ہے ۔
مسلم شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ کے دو موذن تھے (حضرت) بلال ؓ اور (حضرت) ابن ام مکتوم ؓ تو رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ بلال ؓ رات کو اذان دیتے ہیں سو تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ اذاں دیں ابن ام مکتوم ؓ ‘‘ ۔ ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ بلال ؓ رات کو اذان دیتے ہیں (تاکہ تہجد پڑھنے والے کھانے کو جانیں اور سحر سے فارغ ہوجائیں) سو تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن مکتوم کی اذان سنو (اور وہ نابینا تھے جب لوگ کہتے کہ صبح ہوئی صبح ہوئی تب اذان دیتے) ۔
حضرت عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کے لقمہ کا فرق ہے ۔ سنن ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی یہ روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’ دن کے روزے میں مدد لو سحری کے کھانے سے اور رات کی نماز میں مدد لو دوپہر کے سونے سے (یعنی سحری کھانے کا یہ فائدہ ہے کہ روزہ آسان ہوجائے گا اور اسی طرح دن میں کچھ دیر سونے سے رات کی نماز تہجد کی ادائیگی میں سہولت ہوگی) سحری کھانے کی احادیث مطہرہ میں بڑی تاکید اور فضیلت آئی ہے ۔ یہ رحمت دو عالم ﷺ کا اپنی امت پر کرم خاص ہے کہ رمضان شریف کی راتوں میں کھانا کھانے اور پانی پینے کی تاکید فرمائی تاکہ امت کو روزہ رکھنے میں آسانی رہے اور رات کے کھانے پینے کا ثواب بھی ملے۔ گویا ہم خرما و ہم ثواب والا معاملہ ہے ۔ جب روزے فرض ہوئے تو حکم یہ تھا کہ رمضان کی راتوں میں سونے سے پہلے کھا پی سکتے تھے اگر کوئی ذرا بھی سوجاتا تو اب اگلی شام تک کھا پی نہیں سکتا تھا اس صورت میں کافی مشقت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔ خدائے ذوالمنن نے اپنے محبوب کی امت پر دوسری امتوں کے برخلاف یہ کرم فرمایا کہ انہیں طلوع فجر تک کھانے پینے کی اجازت مرحمت فرمادی اس کو سحری کہتے ہیں ۔ جو اہل کتاب کو مرحمت نہیں فرمائی گئی تھی ۔ رسول اکرمﷺ نے اس اجازت کو اپنی امت کے لئے سنت ٹھہراتے ہوئے ضروری اور باعث برکت قرار دے دیا تاکہ ایک جانب اس کھانے پینے کا ثواب ملے اور دوسری طرف روزے میں کافی حد تک آسانی ہوجائے ۔ (حاشیہ سنن ابی داؤد تحت حدیث سحر) سنن نسائی میں فضل السحورکے تحت یہ حدیث شریف سحری کھانے کی فضیلت میں ہے کہ ایک صحابی سرکار دوعالمﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اس وقت حضورانورِﷺ سحری تناول فرما رہے تھے آپ نے ارشاد فرمایا ’’ یہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی برکت ہے اسے تم ترک نہ کرو ‘‘ ۔ حضرت عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ رمضان شریف کے مبارک مہینے میں سحری کے لئے بلاتے تھے اور ارشاد فرماتے ’’ صبح کے مبارک کھانے (یعنی سحری)کے لئے آؤ ‘‘ ۔(’’ سحری کھانا سنت ہے اور موجب برکت ۔ بھوک نہ ہو تو بھی ایک دو لقمہ کھالیں ، ایک گھونٹ پانی ہی پی لیں۔ سحری کا وقت رات کا آخری یا چھٹا حصہ ہے یعنی صبح صادق سے پہلے پہلے لہذا صبح صادق سے تھوڑی دیر پہلے سحری کھالینا چاہئے ۔ اس قدر تاخیر کرنا کہ طلوع صبح کا شک ہوجائے مکروہ ہے ‘‘)۔
(بحوالہ نصاب اہل خدمات شرعیہ)

TOPPOPULARRECENT