Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / ’سخت جاں محمد علی نے اپنے اصولوں کیلئے ہرسختی کو برداشت کیا ‘

’سخت جاں محمد علی نے اپنے اصولوں کیلئے ہرسختی کو برداشت کیا ‘

افسانوی باکسر اپنے سیاسی ، سماجی و مذہبی عقائد پر ثابت قدم رہے ، عالمی قائدین ، اسپورٹس شخصیات اور سوگوار عوام کا خراج

لوئی ویل ۔ /5 جون (سیاست ڈاٹ کام) شہرہ آفاق باکسر محمد علی کئی برس ہلے ہی اپنے جلوس جنازہ کا منصوبہ تیار کرچکے تھے اور اب وہ اس دارفانی سے کوچ کرگئے ہیں لیکن برسوں قبل اپنے ہی تیار کردہ منصوبہ کے مطابق ’’عالمی شہری ‘‘ کی حیثیت سے اپنے گاؤں پہونچیں گے جہاں 74 برس قبل وہ ایک عیسائی لڑکے کاسیوس مارسیلس کلے کی حیثیت سے پیدا ہوئے تھے اور بعد میں حلقہ بگوش اسلام ہوگئے تھے ۔ آئندہ جمعہ کو وہ اپنے ہی گاؤں کی سرزمین میں پیوند خاک ہوجائیں گے جہاں وہ پلے اور بڑے تھے ۔ انہوں نے 1960 ء میں پہلا اولمپکس گولڈ میڈل حاصل کرتے ہوئے اپنے گاؤں اور ملک کا نام روشن کیا تھا ۔ محمد علی کے خاندانی ذرائع نے کہا کہ دو دن تک لوئی ویل میں وہ مرحوم باکسر کے جسد خاکی کے ساتھ رہیں گے اور جمعرات کو جنازہ کی تجہیز و تکفین کی اسلامی روایات کے مطابق خاندانی رسومات ادا کی جائیں گی ۔ جمعہ کو جلوس جنازہ نکالا جائے گا اور اس موقع پر منعقد شدنی تعزیتی تقریب میں تمام افراد کو شرکت کا موقع دیا جائے گا ۔ مسلم امام ، اسلامی روایات کے مطابق نماز جنازہ پڑھائیں گے لیکن دیگر مذاہب کے نمائندوں کو بھی دعائیہ اجتماع میں شامل کیا جائے گا ۔ محمد علی کا گزشتہ روز سپٹک شاک کے سبب انتقال ہوگیا تھا ۔ سیپٹک شاک میں مریض کا بلڈ پریشر کسی انفیکشن کے باعث خطرناک حد تک گر جاتا ہے۔

سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے ایک تقریب میں محمد علی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے ساری زندگی مذہبی اور سیاسی اعتقاد کے ساتھ گزاری جس کی وجہ سے انھیں چند کڑے فیصلے بھی کرنے پڑے اور انھیں ان کے نتائج برداشت کرنا پڑے۔مشہور فٹبالر پیلے نے کہا کہ کھیل کی دنیا کو عظیم نقصان ہوا ہے۔باکسنگ کے سابق لیجنڈ محمد علی کے انتقال پر انھیں دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات ملنے کا سلسلہ جاری ہے اور کھیلوں کی دنیا کی اس عظیم شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنے والوں میں امریکی صدر براک اوباما اور عظیم باکسر جارج فورمین شامل ہیں۔وہ سانس کی تکلیف کے باعث دو دن سے امریکی ریاست ایریزونا کے شہر فینکس کے ایک ہسپتال میں داخل تھے۔ انھیں پارکنسنز کا مرض بھی لاحق تھا جس کی وجہ سے ان کی سانس کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا تھا۔ صدر براک اوباما کے بقول ’علی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔‘دوسری جانب جارج فورمین کا کہنا تھا کہ ’محمد علی آپ کو مجبور کر دیتے تھے کہ آپ ان سے پیار کرنے لگیں۔محمد علی کو خراج تحسین پیش کرنے والوں میں برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرن، معروف موسیقار سر پال میکانٹی، باکسنگ کی دنیا کے مشہور نام مائیک ٹائسن اور فلوئڈ میویدر کے علاوہ گالف کے عالمی چیمپئن ٹائیگر وْڈز بھی شامل ہیں۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں صدر براک اوباما نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ مشیل اوباما ’دعاگو ہیں کہ دنیائے باکسنگ کی عظیم شخصیت کی روح ابدی سکون میں رہے۔‘’اس کرہ ارض کے ہر انسان کی طرح میں اور مشیل اس موت پر سوگوار ہیں لیکن ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں محد علی کو جاننے کا موقع دیا چاہے ان کے ساتھ یہ تعلق ایک لمحے کا ہی تھا۔ ہم اسے خدا کی طرف سے اپنی خوش بختی سمجھتے ہیں کہ اس نے اِس عظیم کھلاڑی کو ہماری زندگیوں، ہمارے وقت میں بھیج کر اس دور کو جلا بخشی۔‘ صدر اوباما کا مزید کہنا تھا کہ محمد علی اس صف میں کھڑے تھے جس میں مارٹن لوتھر کنگ اور نیلسن منڈیلا جیسی سیاہ فام لوگوں کے حقوق کی علمبرداور بڑی بڑی شخصیات کھڑی تھیں کیونکہ یہ لوگ اس وقت سیا فاموں کے حقوق کے لیے کھڑے ہوئے جب ایسا کرنا بہت مشکل تھا، انھوں نے اس وقت آواز بلند کی جب باقی اس کی ہمت نہیں کر پائے۔ ’یہاں تک کہ باکسنگ رِنگ کے باہر کی جنگ کی وجہ سے محمد علی کو اپنے اعزازات اور عوامی پزیرائی کی قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔‘امریکی صدر کے بقول ویتنام کی جنگ میں جانے سے انکار کی وجہ سے ’دائیں بازو اور بائیں بازو کے حامیوں، دونوں میں کئی لوگ محمد علی کے دشمن ہو گئے، انھیں برا بھلا کہا اور یہاں تک کہ یہ لوگ محمد علی کو جیل بھیجنے پر تیار ہو گئے تھے، لیکن وہ اپنے پاؤں پر کھڑے رہے۔ اور پھر ان لوگوں پر محمد علی کی فتح سے ہمیں اْس امریکی (معاشرے) میں رہنے کا حوصلہ ملا جو آج امریکہ کی شناخت ہے۔‘

TOPPOPULARRECENT