Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / سدبھاؤنا یاترا کی یادگار کو نقصان پہونچانے کیخلاف احتجاج

سدبھاؤنا یاترا کی یادگار کو نقصان پہونچانے کیخلاف احتجاج

کانگریس قائدین کا چارمینار کے دامن میں احتجاج پر یادگار کی دوبارہ تنصیب
حیدرآباد۔5فروری(سیاست نیوز) ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے شروع کردہ ’ سدبھاؤنا یاترا ‘ کے موقع پر پرچم کشائی کیلئے لگائے گئے کھمبے کو تلنگانہ جاگرتی کے مشاعرہ کے نام پر اکھاڑ پھینکنے کے خلاف کانگریس قائدین نے آج چارمینار کے دامن میں پر امن احتجاج منظم کرتے ہوئے سدبھاؤنا یادگار کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔ رکن پارلیمنٹ آنند بھاسکر‘ مسٹر ایم ششی دھر ریڈی ‘ مسٹر سدھاکر ریڈی ‘ مسٹر وشنو وردھن ریڈی ‘ جناب سید یوسف ہاشمی‘ جناب محمد موسی ‘ جناب مجاہد کے علاوہ مسٹر نرنجن و دیگر نے گذشتہ شب مشاعرے کیلئے سدبھاؤنا یادگار پر موجود پرچم کشائی کے کھمبے اکھاڑ نے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ خاطیوںکے خلاف کاروائی کی جانی چاہئے کیونکہ جس وقت ملک میں فرقہ وارانہ افراتفری کا ماحول پیدا ہوا تھا اس وقت آنجہانی راجیو گاندھی نے ملک بھرمیں رتھ یاترا کی وجہ سے کشیدہ ہونے والے ماحول کو بہتر بنانے کیلئے سدبھاؤنا یاترا منعقد کیا تھا اور 1990میں تعمیر کردہ اس سدبھاؤنا یادگار سے آندھرا پردیش میں یاترا کی شروعات کی گئی تھی لیکن گذشتہ شب مشاعرے کے نام پر اس یادگار کو نقصان پہنچانے سے ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے۔ کانگریس قائدین نے ڈپٹی چیف منسٹر جنا ب محمد محمود علی اور رکن پارلیمنٹ کے کویتا سے اس عمل پرغیر مشروط معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ کانگریس قائدین کے احتجاج میں پیدا ہونے والی شدت کو دیکھتے ہوئے پولیس نے حرکت میں آکر فوری پرچم کشائی کے اس کھمبے کو دوبارہ اسی جگہ نصب کردیا۔ مسٹر آنند بھاسکر نے بتایا کہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کی علامت کے طور پر اس سدبھاؤنا یادگار کو تعمیر کیا گیا تھا اور آنجہانی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے آخری مرتبہ اسی مقام پر چارمینار کے دامن میں پرچم کشائی کی تھی اسی لئے اس یادگار کو کافی اہمیت حاصل ہے اس یادگار کے ساتھ اس طرح کا کھلواڑ ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے کھلواڑ کے مترادف ہے اسی لئے ایسا کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جانی چاہئے۔ مسٹر ایم ششی دھر ریڈی نے اس واقعہ کو بد بختانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 1990سے اب تک کئی حکومتیں آئی اور چلی گئیں لیکن اس جگہ سے کسی نے چھیڑ چھاڑ نہیں کی اور تلگو دیشم دور حکومت میں بھی ایسا نہیں کیا گیا بلکہ اس مقام کے تحفظ کے اقدامات کئے گئے موجودہ حکومت کے دور میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کی اس علامت کو تہس نہس کرنے کی کوشش کی جانا معیوب ہے۔ مسٹر سدھاکر ریڈی اور مسٹر وشنو وردھن ریڈی نے بھی احتجاج کرتے ہوئے خاطیوں کے خلاف کاروائی اور ڈپٹی چیف منسٹر اور رکن پارلیمنٹ نظام آباد سے غیر مشروط معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ جناب یوسف ہاشمی نے کہا کہ ملک میں جب فرقہ وارانہ منافرت پھیلائی جا رہی تھی اس وقت راجیو گاندھی نے حالات کو قابو میں رکھنے اور تمام طبقات کے درمیان یکجہتی کی برقراری کیلئے یہاں سے سدبھاؤنا یاترا شروع کی تھی لیکن افسوس کے سیکولر حکومت کا ادعا کرنے والوں نے اس یادگار کو نقصان پہنچاتے ہوئے اپنے جھکاؤ کی تصدیق کردی ہے۔ تلنگانہ جاگرتی کے سربراہ کی حیثیت سے مسز کے کویتا اور ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی کو اس مسئلہ پر وضاحت کرتے ہوئے معذرت خواہی کرنی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT