Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / سدرن پاور ڈسٹری بیوشن کے واحد مسلم ڈائرکٹر پر سنگین الزامات

سدرن پاور ڈسٹری بیوشن کے واحد مسلم ڈائرکٹر پر سنگین الزامات

ملازمین کے ساتھ غیر شائستہ رویہ ، چیف منسٹر اور مقامی جماعت سے اچھے تعلقات کا رعب ، ملازمین کا احتجاج
حیدرآباد۔23مارچ(سیاست نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹیڈمیں موجود واحد مسلم ڈائریکٹر جناب میر کمال الدین علی خان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں فی الفور برطرف کرنے کی خواہش کرتے ہوئے چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کو مکتوب روانہ کیا گیا ہے اور اس کی نقولات مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو بھی روانہ کی گئی ہیں۔ چیف منسٹر سے کی گئی نمائندگی میں ڈائریکٹر کے رویہ اور ملازمین کے ساتھ تعلقات کے مسئلہ پر شکایت کے ساتھ بدعنوانیوںمیں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ جناب میر کمال الدین علی خان جنہیں حکومت تلنگانہ نے ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل میں ڈائریکٹر نامزد کیا تھا۔ جناب میر کمال الدین علی خان کے خلاف روانہ کردہ شکایات میں بدعنوانیوں اور مسلم ملازمین کو ہراساں کرنے کے علاوہ دیگر طبقات کے ملازمین کے ساتھ غیر شائستہ رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کررہے ہیں۔ محکمہ برقی کے ملازمین کی جانب سے روانہ کردہ شکایت میں مسٹر ڈی وینکٹیشورلو نے الزام لگایا کہ ڈائریکٹر ایچ آر مقامی جماعت کے صدر سے اپنے قریبی روابط اور صدر کے چیف منسٹر سے قریبی روابط کا ادعا کرتے ہوئے من مانی کرنے لگے ہیں اور یہ بھی دعوی کررہے ہیں کہ ان کے سی ایم ڈی مسٹر ڈی پربھاکر راؤ سے قریبی روابط اور ان کیلئے دعوتوں کے اہتمام کے باعث وہ خود کو تمام عہدیداروں اور قوانین سے مستثنی تصور کرنے لگے ہیں۔ چیف منسٹر کو روانہ کردہ شکایت میں حکومت سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ شکایت میں عائد کردہ تمام الزامات کی تحقیقات کرواتے ہوئے انہیں فوری برطرف کیا جائے۔ڈائریکٹر ایچ آر کے مددگار خاص محمد جیلانی کی رشوت ستانی کا ثبوت دستیاب ہونے کے باوجود انہیں برطرف نہ کرنے اور ان کے خلاف شکایت درج نہ کروانے کے علاوہ کاروائی کے نام پر صرف تبادلہ کئے جانے کا بھی شکایت میں تذکرہ کرتے ہوئے کاروائی پر شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔ اعلی عہدیداروں کوتحفہ تحائف کے علاوہ ان کے لئے دعوتوں کا اہتمام کرنے کا بھی مسلم ڈائریکٹر پر الزام عائد کیا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ وہ مزید ترقی کے حصول کیلئے کوشاں ہیں ۔ ملازمین کے نام سے دی گئی اس درخواست میں کئی اور الزام لگائے گئے ہیں اور اس کی نقولات محکمہ کے اعلی عہدیداروں کے علاوہ ریاست کے سرکردہ قائدین اور روزناموں کو بھی روانہ کی گئی ہیں۔باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اس شکایت کو چیف منسٹر کے دفتر کی جانب سے تحقیقاتی ایجنسی کے حوالہ کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT