Tuesday , September 19 2017
Home / شہر کی خبریں / سدھیر کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ تقریبا تیار ہوگئی

سدھیر کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ تقریبا تیار ہوگئی

کسی بھی لمحہ حکومت کو پیشکشی ، مسلمانوں کو تحفظات کا اولین حقدار کی سفارش
حیدرآباد ۔ 8۔ اگست (سیاست  نیوز) مسلمانوں کی تعلیمی ، معاشی اور سماجی پسماندگی کا جائزہ لینے والے سدھیر کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ تقریباً تیار ہوچکی ہے اور کسی بھی لمحہ حکومت کو پیش کردی جائے گی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق رپورٹ کی پیشکشی کیلئے کمیشن کو چیف منسٹر کی جانب سے وقت مقرر کئے جانے کا انتظار ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار ٹی سدھیر کی قیادت میں تین رکنی ارکان نے رپورٹ کو قطعیت دیدی ہے ۔ توقع ہے کہ اندرون ایک ہفتہ چیف منسٹر کی جانب سے وقت کا تعین کردیا جائے گا۔ ہریتا ہارم پروگرام اور بعض دیگر مصروفیات کے سبب چیف منسٹر کا وقت ملنے میں تاخیر ہورہی ہے۔ کمیشن کی میعاد ستمبر میں ختم ہوجائے گی۔ لہذا صدرنشین اور ارکان مزید کسی توسیع کے بغیر رپورٹ کی پیشکشی کے حق میں ہیں۔ ماہرین کی کمیٹی کے ساتھ اجلاس میں کمیشن نے رپورٹ کو قطعیت دی اور لمحہ آخر میں بعض ترمیمات کی گئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیشن نے مسلمانوں کو تحفظات کا اولین حقدار قرار دیا ہے اور سفارش کی ہے کہ تعلیمی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کئے جائیں۔ کمیشن نے اگرچہ تحفظات کے فیصد کی سفارش نہیں کی تاہم اس نے تعلیمی اور معاشی پسماندگی کے بارے میں اعداد و شمار کیساتھ جامع رپورٹ تیار کی ہے۔ کمیشن کا احساس ہے کہ تعلیم اور روزگار میں مسلمانوں کی صورتحال انتہائی پسماندہ ہے اور خاص طور پر اعلیٰ تعلیم میں نمائندگی کافی کم ہے۔ تعلیمی مواقع فراہم کرنے کیلئے مختلف اقدامات کی سفارش کرتے ہوئے کمیشن نے کہا کہ تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کے ذریعہ معاشی پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہے۔ کمیشن نے مختلف محکمہ جات کیجانب سے پیش کئے گئے اعداد و شمار کو اپنی رپورٹ میں شامل کیا ہے ۔ اس کے علاوہ سنٹر فار گڈ گورننس کے ذریعہ مسلمانوں کے حالات پر سیمپل سروے کا اہتمام کیا گیا۔ واضح رہے کہ انتخابات سے قبل کے چندر شیکھر راؤ نے مسلمانوں کو اقتدار کے چار ماہ کے اندر 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد میں حکومت نے سدھیر کمیشن آف انکوائری قائم کیا جس کی میعاد میں دو مرتبہ توسیع کی گئی۔ کمیشن کے دیگر ارکان میں عامر اللہ خاں ، پروفیسر عبدالشعبان اور ایم اے باری شامل ہیں۔

 

نئی قومی تعلیمی پالیسی اور اقلیتوں کو
خدشات پر آج سمینار اور مباحثہ
حیدرآباد ۔ 8 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : مرکزی حکومت جاریہ سال 2016 میں نئی قومی تعلیمی پالیسی تدوین کرنے کے لیے سفارشات طلب کی ہیں اور کئی ترمیمات اور پالیسی سازی میں اقلیتوں میں کئی خدشات پیدا ہوگئے ہیں ۔ اس ضمن میں تعلیمی اداروں کے سربراہان اور تعلیمی شعبہ سے وابستہ افراد کا ایک خصوصی سمینار اور مباحثہ کومی کانفیڈریشن آف میناریٹی انسٹی ٹیوشن اور روٹری کلب چارمینار کے باہمی اشتراک سے 9 اگست بعد نماز مغرب سلامہ سنٹر پرانی حویلی پر رکھا گیا ہے ۔ اس میں اقبال احمد انجینئر ، محمد ساجد علی اور خلیل الرحمن مخاطب کریں گے ۔ کنوینر منطور احمد اور ایم ایس فاروق نے شرکت کی اپیل کی ۔۔

TOPPOPULARRECENT