Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / سدھیر کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ میں تاخیر کا امکان

سدھیر کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ میں تاخیر کا امکان

بیوروکریسی کا عدم تعاون ، مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کا مسئلہ لیت و لعل کا شکار
حیدرآباد۔/9فبروری، ( سیاست نیوز) مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے مسئلہ پر قائم کردہ سدھیر کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ میں تاخیر کا امکان ہے۔ کمیشن آف انکوائری اگرچہ مقررہ وقت پر آئندہ ماہ رپورٹ پیش کرنے کیلئے آمادہ ہے لیکن سرکاری اداروں کے عدم تعاون کے سبب وہ رپورٹ کی تیاری کے موقف میں نہیں ہے۔ موجودہ صورتحال میں امکان ہے کہ کمیشن آف انکوائری کی میعاد میں مزید 6 ماہ کی توسیع کی جائے گی۔ ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار جی سدھیر کی قیادت میں قائم کئے گئے کمیشن آف انکوائری نے 25مارچ تک اپنی رپورٹ پیش کرنے کی تیاری کرلی تھی لیکن بیورو کریسی کے عدم تعاون کے سبب ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔ ایک طرف حکومت کی جانب سے گزشتہ آٹھ ماہ سے کمیشن کے ارکان کی تنخواہ جاری نہیں کی گئی اور مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی صورتحال کا سروے کرنے کیلئے درکار بجٹ جاری نہیں ہوا تو دوسری طرف سرکاری محکمہ جات اور ضلع کلکٹرس مسلمانوں کے بارے میں درکار مواد کی فراہمی سے گریز کررہے ہیں۔ ان تمام حالات کیلئے یقینی طور پر حکومت ذمہ دار ہے اور تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں حکومت کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان اُٹھتے ہیں۔ حکومت نے کمیشن قائم کرتے ہوئے چھ ماہ کی مہلت دی تھی لیکن کمیشن کو دفتر الاٹ کرنے میں 4ماہ لگ گئے جس کے بعد کمیشن میں دو نئے ارکان کو شامل کیا گیا۔ اس طرح کمیشن کے قیام کو 10ماہ مکمل ہوگئے لیکن کمیشن کے کام کے آغاز کو صرف 6ماہ ہوئے ہیں۔ حکومت کی عدم دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ آٹھ ماہ سے کمیشن کے ارکان تنخواہوں سے محروم ہیں اور کمیشن نے سیمپل سروے کیلئے حکومت سے بجٹ کی خواہش کی تھی لیکن آج تک بجٹ کمیشن کو جاری نہیں کیا گیا۔ تنخواہوں کی اجرائی اور سروے کیلئے بجٹ سے متعلق جی او جاری کئے گئے لیکن رقم آج تک کمیشن کو نہیں پہنچی ہے۔ کمیشن کی مقررہ میعاد آئندہ ماہ مارچ میں مکمل ہوجائے گی تاہم موجودہ صورتحال میں کمیشن رپورٹ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ حکومت مزید چھ ماہ کی توسیع کردے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیشن نے 70سرکاری محکمہ جات سے مسلمانوں سے متعلق موقف کی تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی لیکن ابھی تک صرف 5تا6 محکمہ جات نے رپورٹ روانہ کی ہے۔ اس کے علاوہ ضلع کلکٹرس کی جانب سے بھی درکار مواد روانہ نہیں کیا گیا۔ غیر اطمینان بخش اعداد و شمار سے غیر مطمئن کمیشن نے باقاعدہ پروفارما روانہ کیا ہے تاکہ اس کے مطابق تفصیلات روانہ کی جائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ غیرسرکاری ادارہ کے ذریعہ کمیشن نے تلنگانہ میں مسلمانوں کا سروے کرنے کا فیصلہ کیا لیکن ابھی تک اس کے لئے بجٹ جاری نہیں کیا گیا۔ متعلقہ این جی او نے سروے کے کام کیلئے محکمہ تعلیم سے وابستہ عہدیداروں کی خدمات طلب کی ہیں لیکن امتحانات قریب ہونے سے عہدیدار وقت دینے قاصر ہیں۔ سروے کے سلسلہ میں بعض ماہرین اور ریٹائرڈ اعلیٰ عہدیداروں کی خدمات حاصل کرنے کیلئے کمیشن نے حکومت سے اجازت طلب کی لیکن حکومت نے صرف ماہانہ 9 ہزار روپئے پر تقررات کی سفارش کی ہے جو انتہائی ناکافی رقم ہے۔ کمیشن کو آؤٹ سورسنگ کی بنیاد پر 4 ملازمین فراہم کئے گئے جبکہ اسے تجربہ کار افراد کی ضرورت ہے۔ اس طرح کمیشن کو تاحال بنیادی انفراسٹراکچر بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ کمیشن رپورٹ کی تیاری کے سلسلہ میں بعض ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیداروں کی خدمات حاصل کرنے کے حق میں ہے لیکن انہیں خاطر خواہ معاوضہ کی عدم منظوری کے سبب وہ خود کو بے بس محسوس کررہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیشن بہت جلد تاملناڈو، کیرالا اور مغربی بنگال کا دورہ کرے گا جس کیلئے حکومت کی منظوری کا انتظار ہے۔ کمیشن نے تلنگانہ کے تمام اضلاع کا دورہ مکمل کرلیا ہے تاہم رپورٹ کی تیاری کے سلسلہ میں اسے کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے جس کیلئے حکومت ذمہ دار ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو کمیشن آئندہ ماہ مارچ میں رپورٹ کی پیشکشی سے قاصر رہے گا اور حکومت کو کمیشن کی میعاد میں توسیع کیلئے مجبور ہونا پڑیگا۔

TOPPOPULARRECENT