Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / سدھیر کمیشن آف انکوائری کے ارکان کی تنخواہیں منظور

سدھیر کمیشن آف انکوائری کے ارکان کی تنخواہیں منظور

حکومت کے قائم کردہ کمیشن کے لیے سیاست کی توجہ دہانی پر حکومت کا اقدام
حیدرآباد۔ 23 ۔ ڈسمبر ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں حکومت نے سدھیر کمیشن آف انکوائری قائم کیا اور اسے مسلمانوں کی سماجی ، معاشی اور تعلیمی صورتحال کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی۔ کمیشن نے  اگرچہ اپنی کارکردگی کا آغاز کردیا ہے ، تاہم گزشتہ 8 ماہ سے کمیشن کے ارکان تنخواہوں سے محروم تھے اور کمیشن بنیادی سہولتوں کیلئے حکومت کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ روزنامہ سیاست نے کمیشن آف انکوائری کو بجٹ کی عدم اجرائی کے بارے میں رپورٹ شائع کی تھی۔ آخر کار حکومت نے کمیشن کی جانب توجہ مبذول کی ہے اور 8 ماہ بعد کمیشن کو پہلی مرتبہ بجٹ منظور کیا گیا۔ حکومت نے تین کروڑ 78 لاکھ روپئے کمیشن کیلئے منظور کئے ہیں ، جو 3 مارچ 2015 ء کو کمیشن کے قیام کے بعد سے پہلی منظوری ہے ۔ اس سلسلہ میں کمیشن کی جانب سے حکومت کو بارہا توجہ دلائی گئی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی ۔ تاہم سیاست میں رپورٹ کی اشاعت کے بعد حکومت کو فوری حرکت میں آنا پڑا اور بجٹ جاری کیا گیا۔ ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار جی سدھیر کی قیادت میں 3 مارچ 2015 ء کو صرف ایک رکن کے ساتھ کمیشن تشکیل دیا گیا تھا جبکہ چار ماہ بعد کمیشن کیلئے دو نئے ارکان کا تقرر کیا گیا۔ اس طرح کمیشن نے قیام کے پانچ ماہ بعد اپنی کارکردگی کا آغاز کیا۔ حکومت نے کمیشن کی میعاد میں 31 مارچ 2016 ء تک توسیع کی ہے۔ اس مدت کے دوران 8 ماہ سے صدر نشین اور ارکان تنخواہوں سے محروم تھے اور کمیشن کو بنیادی سہولتیں جیسے انٹرنیٹ ، کمپیوٹرس اور ماتحت عملہ فراہم نہیں کیا گیا تھا۔ کمیشن کیلئے راحت کی بات یہ ہے کہ 8 ماہ بعد حکومت نے پہلی مرتبہ بجٹ جاری کیا ہے ۔ توقع ہے کہ نہ صرف ارکان کی تنخواہیں ادا کی جائیں گی بلکہ اس سے کمیشن کو درکار انفراسٹرکچر حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ کمیشن نے حکومت کے اس اقدام پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT