Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / سدھیر کمیشن رپورٹ کی آج چیف منسٹر کے سی آر کو پیشکشی

سدھیر کمیشن رپورٹ کی آج چیف منسٹر کے سی آر کو پیشکشی

تلنگانہ میں مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی و سماجی پسماندگی کا اعتراف، حالات میں بہتری کیلئے مختلف سفارشات متوقع، 12 فیصد تحفظات پر تجسس برقرار

حیدرآباد 9 اگسٹ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی و سماجی پسماندگی کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف شعبوں میں تحفظات کی فراہمی کی سفارشات پیش کرنے حکومت تلنگانہ کی طرف سے تشکیل شدہ سدھیر کمیشن آف انکوائری کل 10 اگسٹ کو چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ سے ملاقات کرتے ہوئے اپنی رپورٹ پیش کردے گی۔ ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر مسٹر ٹی سدھیر کی قیادت میں تشکیل شدہ اس کمیٹی کے ارکان میں مسٹر محمد عامر اللہ خان، مسٹر عبدالشعبان اور مسٹر ایم اے باری شامل ہیں۔ واضح رہے کہ ماقبل انتخابات ٹی آر ایس کے سربراہ کلوا کنٹلہ چندرشیکھر راؤ نے مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ نئی ریاست میں ان کی پارٹی کو اقتدار ملنے کی صورت میں اندرون چار ماہ 12 فیصد تحفظات فراہم کئے جائیں گے۔ تاہم ان کا یہ وعدہ لیت و لعل کا شکار رہا۔ بعدازاں نیوز ایڈیٹر سیاست مسٹر عامر علی خاں نے اس وعدہ کی تکمیل کے لئے ریاستی حکومت بالخصوص چیف منسٹر کی توجہ مرکوز کرنے کے مقصد سے ریاست کے تمام 10 اضلاع میں بڑے پیمانے پر دستخطی مہم شروع کی تھی جو توقعات سے کہیں زیادہ کامیاب رہی۔ چنانچہ سدھیر کمیشن جو اُس وقت تک دفتر اور درکار انفراسٹرکچر سے محرومی کے سبب ایک برائے نام ادارہ تھی، فی الفور حرکت میں آگیا۔

تاہم اس وقت تک اس کی میعاد ختم ہوچکی تھی جس کے پیش نظر چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے اس کمیٹی کو تفویض کردہ ذمہ داری کی تکمیل کے لئے درکار سہولتیں اور انفراسٹرکچر کی فراہمی کے ساتھ میعاد میں دو مرتبہ توسیع کی اور آخری میعاد آئندہ ماہ ستمبر میں ختم شدنی ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ سدھیر کمیشن آف انکوائری نے جس کو ایک دستوری ادارہ کی حیثیت حاصل ہے، اپنی جامع رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ تلنگانہ کے مسلمان تعلیمی، معاشی اور سماجی شعبوں میں پسماندہ ہیں جن کی ترقی کے لئے حکومت کی خصوصی توجہ اور سرکاری مراعات درکار ہیں۔ تاہم سدھیر کمیشن نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کے بارے میں واضخ طور پر کچھ نہ کہتے ہوئے غالباً اس کا فیصلہ ٹی آر ایس حکومت اور چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ کی مرضی پر چھوڑ دیا ہے۔ سدھیر کمیشن کے سربراہ اور ارکان نے حالیہ عرصہ کے دوران نہ صرف ریاست کے کئی اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے حالات کا شخصی طور پر جائزہ لیا بلکہ اپنے دفتر میں نمائندہ شخصیات سے تبادلہ خیال اور مشاورت کے ذریعہ مسلمانوں میں تعلیم و روزگار، تجارت اور سماجی اُمور و مسائل پر تفصیلات سے واقفیت حاصل کی اور حقیقی صورتحال کے بغور مشاہدہ کے بعد ہی جامع رپورٹ مرتب کی گئی ہے۔ توقع ہے کہ 10 اگسٹ چہارشنبہ کو اس رپورٹ کی پیشکشی کے بعد باضابط طور پر حقائق اور سفارشات کا انکشاف ہوجائے گا۔

TOPPOPULARRECENT