Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / سدھیر کمیشن رپورٹ کی تیاری میں شب و روز مصروف

سدھیر کمیشن رپورٹ کی تیاری میں شب و روز مصروف

تلنگانہ میں صرف 2.5% مسلمان تعلیم حاصل کررہے ہیں، اقلیتی کالجس میں مسلمانوں کی تعداد 50% سے بھی کم
سرکاری اسکیمات سے عدم استفادہ ، بینکوں کا قرض دینے سے گریز ، سروے میں حیرت انگیز انکشافات
حیدرآباد۔21 جولائی (سیاست نیوز) مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کا جائزہ لینے کے لئے قائم کردہ سدھیر کمیشن آف انکوائری توقع ہے کہ آئندہ ماہ حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کردے گا۔ کمیشن آف انکوائری میں رپورٹ کی تیاری کا کام شروع کردیا ہے اور اگست کے پہلے ہفتہ میں وہ بہرصورت چیف منسٹر کے حوالے کرنے کا خواہاں ہے۔ کمیشن کے صدرنشین ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار جی سدھیر اور دیگر ارکان رپورٹ کی تیاری میں شب و روز مصروف ہیں اور وہ اپنی سفارشات کو بھی تقریباً قطعیت دے چکے ہیں۔ تحفظات کے بارے میں مسلمانوں میں شعور بیداری اور حکومت پر بڑھتے ہوئے دبائو کو دیکھتے ہوئے کمیشن آف انکوائری نے بھی اپنے کام میں تیزی پیدا کردی ہے۔ کمیشن کے صدرنشین چاہتے ہیں کہ میعاد کی تکمیل سے ایک ماہ قبل ہی حکومت کو رپورٹ پیش کردی جائے۔ کمیشن کی میعاد 30 سمتبر کو ختم ہوگی اور کمیشن اگست کے ابتداء میں اپنی رپورٹ پیش کردے گا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کمیشن نے مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کی سفارش کو شامل کیا ہے تاہم تحفظات کے فیصد کے تعین کا اختیار حکومت پر چھوڑ دیا جائے گا۔ کمیشن کا یہ احساس ہے کہ تعلیمی اور معاشی شعبہ جات میں مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرتے ہوئے ان کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر مسلمانوں میں تعلیم کے حصول کا شعور بیدار کرنے کے لئے باقاعدہ مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ کمیشن آف انکوائری نے تعلیم میں تحفظات کے ساتھ ساتھ انہیں حکومت کی جانب سے مختلف ترغیبات اور مراعات فراہم کرنے کی سفارش کو اپنی رپورٹ میں شامل کیا ہے۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے حالیہ دنوں میں اعلان کیا تھا کہ سدھیر کمیشن کی رپورٹ ملتے ہی حکومت اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرے گی اور تحفظات کے حق میں قرارداد منظور کی جائے گی۔ یہ قرارداد مرکزی حکومت کو روانہ کرتے ہوئے دستوری تحفظ فراہم کرنے کی سفارش کی جائے گی۔ کمیشن کے ذرائع کے مطابق تحفظات پر عمل آوری کے سلسلہ میں سفارش کا اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ ماہرین قانون و دستور سے اس سلسلہ میں مشاورت کرتے ہوئے عمل آوری کے طریقہ کار و حکمت عملی کو طے کرے۔ سدھیر کمیشن نے سرکاری محکمہ جات سے عدم تعاون کے باوجود اپنے کام میں تیزی پیدا کرتے ہوئے درکار مواد اور مسلمانوں کی پسماندگی کے بارے میں سروے رپورٹ کی بنیاد پر اپنی سفارشات کی تیاری کا کام شروع کردیا ہے۔ کمیشن نے سنٹر فار گوڈ گورننس کے ذریعہ تلنگانہ میں مسلمانوں کے موقف کا پتہ چلانے کے لئے سامپل سروے منعقد کیا تھا جس کے نتائج کمیشن کو حاصل ہوچکے ہیں۔ 10 اضلاع میں تقریباً 9 ہزار خاندانوں پر مشتمل اس سروے میں مسلمانوں کی پسماندگی کے بارے میں کئی حیرت انگیز انکشافات منظر عام پر آئے ہیں۔ کمیشن خود بھی پسماندگی کی اس صورتحال پر حیرت زدہ ہے۔ اس سروے میں ہر خاندان کا مالی اور سماجی موقف جاننے کے علاوہ ہر فرد خاندان کی تعلیمی قابلیت اور گھر کی حالت و گھر میں موجود سہولتوں کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں۔ رپورٹ میں بتایاگیا کہ بیشتر خاندان تعلیم سے محروم ہیں اور مسلمانوں میں اعلی تعلیم کے حصول کا رجحان نہیں کے برابر ہے۔ سروے کے مطابق تلنگانہ میں صرف 2.5 فیصد مسلمان اعلی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تعلیم سے دوری کے لئے خانگی اقلیتی ادارے بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ اقلیتی کالجس میں اقلیتی طلبہ کی تعداد 50 فیصد سے کم پائی گئی۔ حالانکہ حکومت کے احکامات کے مطابق ان کالجس میں طلبہ کی اکثریت کا تعلق اقلیت سے ہونا چاہئے۔ اس طرح غیر سرکاری اداروں میں بھی مسلمانوں میں تعلیمی رجحان کو فروغ دینے میں کوئی رول ادا نہیں کیا۔ سرکاری ملازمتوں اور نیم سرکاری اداروں میں مسلمانوں کی نمائندگی صرف 6.5 فیصد پائی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ملازمتیں کم درجے کے عہدوں پر مشتمل ہے جیسے اٹینڈنر، ڈرائیور، کلرک، یو ڈی سی اور سپرنٹنڈنٹ عہدوں پر مسلمان دیکھے گئے۔ جبکہ اسسٹنٹ سکریٹری، ڈپٹی سکریٹری، ایڈشنل سکریٹری اور جوائنٹ سکریٹری جیسے اعلی عہدوں پر بمشکل ہی کوئی مسلمان عہدیدار موجود ہے۔ کمیشن کا احساس ہے کہ صرف تحفظات کی فراہمی سے مسلمانوں کی پسماندگی دور نہیں کی جاسکتی بلکہ انہیں سرکاری اسکیمات میں دیگر طبقات کے مساوی حصہ داری دی جانی چاہئے جب تک اسکیمات کے فوائد حقیقی مستحقین تک نہیں پہنچتے اس وقت تک تحفظات بھی مسلمانوں کی پسماندگی کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہیں گے۔ کمیشن کا ماننا ہے کہ معاشی پسماندگی کے خاتمہ کے لئے مسلمانوں کو قومیائے ہوئے بینکوں سے قرض فراہم کرنے پر توجہ دی جانی چاہئے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بینکوں کو اس بات کے لئے پابند کرے کہ غریب مسلمانوں کو کاروبار کے آغاز یا مزید فروغ کے لئے مناسب قرض جاری کرے۔ بینکوں سے قرضہ جات کی اجرائی میں مسلمان کافی پسماندہ ہیں بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ بینکوں تک مسلمانوں کی رسائی نہیں کے برابر ہے۔ بینکوں کے علاوہ کمیشن آف انکوائری نے حکومت کے مالیاتی اداروں پر ذمہ داری عائد کی کہ وہ قرض اور امداد کی اجرائی کے سلسلہ میں نئی اسکیمات مدون کریں۔ کمیشن کو موصولہ رپورٹ میں مسلم لڑکوں میں تعلیم ترک کرنے کے رجحان پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ لڑکوں سے زیادہ لڑکیوں میں تعلیم کے حصول کا رجحان زیادہ ہے اور جب تک مسلمان لڑکے تعلیم سے وابستہ نہیں ہوں گے اس وقت تک مسلمانوں کی اجتماعی معاشی پسماندگی کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ کمیشن کے ذرائع کے مطابق سروے میں پتہ چلا کہ زیادہ تر مسلمان حکومت کی اسکیمات سے لاعلم ہیں۔ سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسکیمات کے بارے میں بہتر تشہیر کریں۔

TOPPOPULARRECENT