Monday , October 23 2017
Home / Editorial News / سدھیر کمیشن کا اجلاس

سدھیر کمیشن کا اجلاس

تلنگانہ حکومت کو اس امر کا احساس ہے یا نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا جو وعدہ کیا گیا تھا اس کو پورا کرنے کیلئے شدید دباؤ بڑھتا جارہا ہے ۔ سدھیر کمیشن کی جانب سے شہر میں منعقدہ اجلاس اور ملک کے مختلف ماہرین اور اسکالرس کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے مسلمانوں کی پسماندگی کی وجوہات اور اس کے سدباب کے سلسلہ میں تجاویز حاصل کی گئی ہیں۔ سدھیر کمیشن نے ماہرین سے مشاورت تو کرلی ہے ، اس کمیشن کے سامنے اب تک کئی نمائندگیاں پہونچ چکی ہیں مگر اسے اپنی میعاد31 مارچ 2016 تک رپورٹ تیار کرنے میں کامیابی ملے گی یہ اس کی مستعدی پر منحصر ہے ۔ سابق خصوصی چیف سکریٹری جی سدھیر کی زیرقیادت اس کمیشن نے اب تک تلنگانہ کے تقریباً نصف درجن اضلاع میں عوامی سماعت کی ہے ۔ وقت مقررہ سے قبل اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لئے وہ تیزی سے کام انجام دیتے دکھائی دے رہا ہے ۔ اس کمیشن کو 3 مارچ 2015 کو تشکیل دیا گیا تھا تاکہ مسلمانوں کو سماجی ، معاشی اور تعلیمی حالات کا جائزہ لے کر ریاستی حکومت کو رپورٹ پیش کرے۔

اس رپورٹ کی بنیاد پر حکومت اپنی پالیسیاں وضع کرتے ہوئے مسلمانوں کو ترقی دینا چاہتی ہے۔کمیشن کا فریضہ تب ہی پورا سمجھا جائیگا جب وہ مسلمانوں کو 12 فیصد دینے کی تجویز پیش کرے لیکن سدھیر کمیشن کو درمیان میں ہی رپورٹ تیار کرنے کیلئے رکاوٹیں حاصل ہورہی ہیں کیوں کہ جون 2014 ء میں تشکیل پائے تلنگانہ ریاست میں مسلمانوں کی سماجی ، تعلیمی اور سماجی پسماندگی پر کوئی ڈاٹا ریکارڈ نہیں ہے اور اب تک اس سلسلہ میں کوئی سروے یا جائزہ رپورٹ بھی تیار نہیں کی گئی ایسے میں اس کمیشن کو سخت محنت کرنی پڑ رہی ہے ۔ وہ وقت پر رپورٹ پیش کرسکے گی یہ کہنا مشکل ہے ۔ شہر میں کمیشن کے منعقدہ اجلاس میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی اور تجاویز پیش کیں ۔ اس اجلاس کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں سچر کمیٹی میں خدمات انجام دینے والے ماہرین بشمول مختلف کمیشنوں کے ماہرین بھی شریک تھے ۔ تلنگانہ حکومت نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کے پابند عہد ہونے کا ایک سے زائد مرتبہ اعادہ کیا ہے اور یہ بھی کہا کہ کمیشن آف انکوائیری کی رپورٹ کے بعد علحدہ بی سی کمیشن قائم کیا جائے گا ۔ ان کمیشنوں کی رپورٹس کے آنے تک سرکاری ملازمتوں میں یکطرفہ طورپر تقررات عمل میں لائے جائیں تومسلمانوں کے ساتھ یہ بڑی ناانصافی ہوگی ۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ کمیشنوں کی رپورٹس آنے تک حکومت عبوری طورپر تحفظات فراہم کرتے ہوئے سرکاری ملازمتوں میں تقررات کے عمل کے ذریعہ مسلمانوں کو فائدہ پہونچائے ۔

بلاشبہ حکومت کی نیت تلنگانہ کے مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی ترقی پرخصوصی توجہ دینے پر مرکوز نظر آتی ہے مگر اس سلسلہ میں جب تک دکھائی دینے والے اقدامات نہیں کئے جاتے یا سرکاری ملازمتوں میں تقررات کا عمل روک کر کمیشنوں کی سفارشات آنے کے بعد تحفظات کا اعلان کرتے ہوئے مسلمانوں کو بھی ملازمتیں فراہم کرنے کو یقینی بنائے تو اس سے انتخابی وعدہ پورا ہوگا ۔ تلنگانہ کی تشکیل جس طرح ایک سچے اور دیانتدار سیاستداں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے اس طرح مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے لئے بھی اس سچائی اور دیانتداری کے مظاہرے کی ضرورت ہے ۔ سدھیر کمیشن کی کوششوں اور حکومت کی نیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو معاشی ، تعلیمی اور سماجی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے ٹھوس رپورٹ تیار کی جائے گی ۔ سدھیر کمیشن کی سفارشات اور بی سی کمیشن کی تشکیل کے بعد قانونی رکاوٹوں سے پاک راستہ اختیار کرتے ہوئے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے ذریعہ معاشی ، تعلیمی اور سماجی فوائد پہونچانے پاتے ہیں تو تلنگانہ کی تشکیل کے ثمرات کا حقیقی مشاہدہ کرنے اور اس ریاست کے وسائل سے استفادہ کرنے والوں میں مسلمان بھی شریک ہوں گے ۔ مگر اقلیتوں کے نام پر فنڈس کے مزے لوٹنے والوں سے بھی چوکسی رکھنا خود اقلیتوں کی ذمہ داری ہے ۔ مسلمانوں کے حق میں سب سے زیادہ درد رکھنے کا ادعا کرنے والی سیاسی جماعت کے گال پر جب تک رائے دہندوں کا تھپڑ رسید نہیں ہوگا مسلمانوں کی پسماندگی کا مسئلہ غیریقینی حالات سے یوں دوچار ہوتا رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT