Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / سدھیر کمیشن کی رپورٹ کے بعد بی سی کمیشن کا قیام

سدھیر کمیشن کی رپورٹ کے بعد بی سی کمیشن کا قیام

چیف منسٹر سے نمائندگی کرنے ٹی آر ایس رکن کونسل محمد سلیم کا فیصلہ
حیدرآباد۔/22جولائی، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل محمد سلیم نے بتایا کہ مسلمانوں کی پسماندگی کے بارے میں سدھیر کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ کی حکومت کو پیشکشی کے بعد وہ چیف منسٹر سے نمائندگی کرتے ہوئے بی سی کمیشن کی تشکیل کی درخواست کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے سلسلہ میں سنجیدہ ہیں اور سدھیر کمیشن کی رپورٹ کے بعد حکومت مزید پیشرفت کرے گی۔ محمد سلیم نے کہا کہ وہ چیف منسٹر کو یادداشت پیش کرتے ہوئے بی سی کمیشن کی تشکیل کی اپیل کریں گے تاکہ بی سی کمیشن سے مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں سفارشات حاصل کی جائیں۔ تحفظات کی فراہمی کیلئے بی سی کمیشن کی رپورٹ اور سفارشات لازمی ہیں لہذا وہ اس سلسلہ میں چیف منسٹر سے نمائندگی کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چیف منسٹر تحفظات کیلئے ضروری دستوری اور قانونی اُمور کی تکمیل کریں گے اور بی سی کمیشن قائم کیا جائے گا۔ محمد سلیم جنہوں نے گذشتہ دنوں اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی کے اجلاس میں 12 فیصد تحفظات کے مسئلہ کو پیش کیا تھا مزید بتایا کہ ان کے نزدیک مسلمانوں کی ترقی اور پسماندگی کا خاتمہ اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے سیاسی زندگی میں کبھی بھی عہدوں اور کرسی کی پرواہ نہیں کی اور مسلمانوں کے مفادات سیاسی اور سرکاری عہدوں سے بالاتر ہیں۔ وہ اپنی زندگی مسلمانوں کی بھلائی اور ترقی پر وقف کرنے کا عہد کرچکے ہیں اور سابق میں بھی انہوں نے صدرنشین وقف بورڈ کی حیثیت سے بلامعاوضہ خدمات انجام دی تھیں۔ محمد سلیم نے بتایا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اپنے وعدہ پر عمل آوری کیلئے جانے جاتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ تلنگانہ میں مسلمانوں کو تحفظات ضرور حاصل ہوں گے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ تحفظات کی فراہمی سے مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہے۔ سدھیر کمیشن کی رپورٹ کے بعد وہ پارٹی کے دیگر مسلم عوامی نمائندوں کے ساتھ چیف منسٹر سے نمائندگی کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT