Monday , June 26 2017
Home / اداریہ / سدھیر کمیشن کی رپورٹ

سدھیر کمیشن کی رپورٹ

پھر وہی شام وہی غم وہی تنہائی ہے
دل کو بہلانے تری یاد چلی آئی ہے
سدھیر کمیشن کی رپورٹ
تلنگانہ میں مسلمانوں کو تحفظات کے مسئلہ کا جائزہ لینے تشکیل دئے گئے سدھیر کمیشن نے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کردی ہے ۔ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ مسلمانوں کو ان کی سماجی اور تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے 9 تا 12 فیصد تحفظات فراہم کئے جانے چاہئیں۔ سدھیر کمیشن نے جو سفارشات پیش کی ہیں وہ مسلمانوں کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ۔ کمیشن نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ مسلمانوں میں 85 فیصد لوگ انتہائی پسماندہ ہیں۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت پسماندگی کا شکار ہے اور ان کی تعلیمی ‘ معاشی اور سماجی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے ضروری ہے کہ حکومت وقت آگے آئے ۔ انہیں تحفظات فراہم کئے جائیں ۔ ان کیلئے ایسے کئی اقدامات کئے جائیں جن کے نتیجہ میں انہیں سماجی اعتبار سے با اختیار بنایا جاسکتا ہے ۔ کمیشن نے جو سفارشات پیش کی ہیں ان میں یہ بھی بات اہمیت کی حامل ہے کہ مسلمانوں کیلئے بھی ایس سی ‘ ایس ٹی سب پلان کے طرز پر علیحدہ سے سب پلان تیار کیا جائے ۔ اس کا مطالبہ مسلمانوں کی جانب سے گذشتہ کئی سال سے کیا جا رہا ہے ۔ اب کمیشن نے بھی اس کی سفارش کی ہے ۔ کمیشن نے مسلمانوں کو روزگار اور تربیت فراہم کرنے کیلئے بھی اقدامات کرنے کو کہا ہے ۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کی معاشی حالت کو سدھارنے کیلئے انہیں ملازمتیں فراہم کی جانی چاہئیں ‘ انہیں ہنرمند بنانے تربیت دی جانی چاہئے اور انہیں آگے آنے کے مواقع فراہم کئے جانے چاہئیں۔ اس کے علاوہ کمیشن نے ایک اور اہم سفارش کی ہے کہ مسلمان تاجروں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے ۔ انہیں تجارت شروع کرنے کیلئے قرضہ جات فراہم کئے جانے چاہئیں۔ انہیں سماجی سطح پر پر اعتماد بنانے کیلئے انہیں اراضیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ کمیشن کی یہ جو سفارشات ہیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اگر ان سفارشات پر عمل آوری کی جاتی ہے تو پھر مسلمانوں کی حالت میں سدھار کی سمت پیشرفت ہوسکتی ہے ۔ مسلمان سیاسی ‘ سماجی ‘ معاشی اور تعلیمی اعتبار سے پسماندگی کو ختم کرتے ہوئے دیگر ابنائے وطن کی طرح ترقی کے ثمرات میں خود کو حصہ دار بناسکتے ہیں۔ مسلمان ان سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو منوانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
سدھیر کمیشن نے اردو زبان کو فروغ دینے اور اردو اساتذہ کے تقررات کی سفارش کی ہے ۔ یہ بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر حکومت کو فوری حرکت میں آنے کی ضرورت ہے ۔ اردو اساتذہ کی سینکڑوں جائیدادیں تقرر طلب ہیں۔ مسلم لڑکیوں کیلئے ہائی اسکول اور جونئیر کالجس قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور اس سے بھی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ ایک اور انتہائی اہمیت کی حامل سفارش یہ ہے کہ وقف اثاثہ جات کا تحفظ کرنے کیلئے ایک علیحدہ کمیشن قائم کیا جائے ۔ ساری ریاست میں ہزاروں کروڑ روپئے کی اوقافی جائیدادیں ہیں ۔ کئی جائیدادیں تباہ ہو رہی ہیں۔ ان پر ناجائز قبضے ہو رہے ہیں۔ انہیں فروخت کیا جا رہا ہے ۔ اس کا تحفظ کرنا ضروری ہے ۔ ان جائیدادوں کے تحفظ کے ذریعہ بھی مسلمانوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات ہوسکتے ہیں۔ سدھیر کمیشن نے جو جو سفارشات کی ہیں وہ ساری قابل عمل ہیں اور ان پر ریاستی حکومت کو پوری توجہ کے ساتھ کارروائی کرنے کی ضرورت ہے ۔ سب سے بنیادی پہلو تو تحفظات کی فراہمی کا ہے ۔ ساتھ ہی جو دیگر امور پر کمیشن نے رائے ظاہر کی ہے یا سفارش کی ہے اس کو دیکھتے ہوئے حکومت کو عملی اقدامات کیلئے پہل کرنا ہوگا ۔ جب تک حکومت کی جانب سے عملی اقدامات کا آعاز نہیں ہوگا اس وقت تک مسلمانوں کی حالت میں سدھار یا بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی ۔ صرف زبانی جمع خرچ یا دعووں سے حالات بدلنے والے نہیںہیں۔
جہاں تک تحفظات کی فراہمی کی بات ہے یہ کہا جاسکتا ہے کہ سدھیر کمیشن نے اپنی سفارشات کے ذریعہ اس کی راہ ہموار کردی ہے ۔ 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کیلئے ٹاملناڈو کے طریقہ کار کو اختیار کرنے کا جو مشورہ دیا گیا ہے وہ قابل عمل ہے اور اس کو اختیار کرتے ہوئے تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ ضرورت پڑنے پر دستور میں ترمیم سے متعلق مشورہ پر بھی عمل کیا جاسکتا ہے ۔چونکہ ریاستی حکومت نے  بی سی کمیشن بھی قائم کردیا ہے اس کیلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ کمیشن کے کام کاج کو بھی تیز کردیا جائے اور کمیشن کی سفارشات جلد از جلد حاصل کرتے ہوئے تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنایا جانا چاہئے ۔ جس طرح سدھیر کمیشن کی رپورٹ مل گئی ہے اسی طرح بی سی کمیشن کی سفارشات اور رپورٹ کو بھی حاصل کرتے ہوئے تلنگانہ کی چندر شیکھر راؤ حکومت کو مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کام میں اب کسی بھی پہلو سے تاخیر نہیں کی جانی چاہئے اور مسلمانوں کی حالت کو سدھارنے پر ساری توجہ مرکوز کی جانی چاہئے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT