Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / سدی پیٹ میونسپلٹی کے نتائج ،ٹی ہریش راؤ کو ٹی آر ایس میں سیاسی طور پر دھکا

سدی پیٹ میونسپلٹی کے نتائج ،ٹی ہریش راؤ کو ٹی آر ایس میں سیاسی طور پر دھکا

وزیر آبپاشی کے حامیوں کی کے ٹی آر گروپ میں شمولیت کا امکان
حیدرآباد۔ 11۔ اپریل ( سیاست نیوز) سدی پیٹ میونسپلٹی کے نتائج سے وزیر آبپاشی ہریش راؤ کو پارٹی میں سیاسی طور پر دھکا لگا ہے۔ سدی پیٹ حلقہ کی نمائندگی کرنے والے ریاستی وزیر  نے میونسپلٹی کی تمام 34 نشستوں پر کامیابی کے ذریعہ ریکارڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ پارٹی میں ان کا قد مزید بلند ہوسکے لیکن نتائج سے ان کے عزائم کو دھکا لگا ہے۔ حالیہ عرصہ میں ٹی آر ایس پارٹی میں کے ٹی آر اور ہریش راؤ کے درمیان مسابقت کی اطلاعات عام تھیں تاکہ چیف منسٹر کے بعد دوسرے پوزیشن کو حاصل کیا جائے۔ حکومت کی تشکیل کے ابتدائی مرحلہ میں ہریش راؤ کو حکومت میں دوسرا مقام حاصل تھا لیکن حالیہ عرصہ میں کے ٹی آر اور کویتا نے یہ مقام حاصل کرلیا۔ اس طرح ہریش راؤ کے گروپ کو دھکا لگا۔ اطلاعات کے مطابق سدی پیٹ کے نتیجہ سے ایک طرف ہریش راؤ مایوس ہیں تو دوسری طرف کے ٹی آر کے حلقوں میں خوشی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ہریش راؤ خود اپنے حلقہ انتخاب میں گرفت ہونے لگے ہیں جس کا اظہار میونسپلٹی کے نتائج سے ہورہا ہے۔ پارٹی کے قائدین نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ سدی پیٹ کا نتیجہ ہریش راؤ کے سیاسی عزائم کو کمزور کرسکتا ہے۔ اس نتیجہ کے بعد ہریش راؤ کے وفادار قائدین اور ارکان اسمبلی توقع ہے کہ کے ٹی آر کیمپ میں شمولیت اختیار کرلیں گے۔ سدی پیٹ میونسپلٹی کی جملہ 34 نشستوں میں ٹی آر ایس کو اگرچہ اکثریت حاصل ہوئی لیکن 7 آزاد امیدواروں کی کامیابی نے ہریش راؤ کے خلاف عوامی رائے عامہ کو ظاہر کیا ہے۔ رائے دہی سے قبل ہریش راؤ نے 6 وارڈس میں پارٹی امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب کرلیا تھا۔ انہیں یقین تھا کہ 34 نشستوں میں تمام پر ٹی آر ایس کامیابی حاصل کرے گی۔ اس کے لئے انہوں نے نہ صرف دن رات محنت کی بلکہ کئی وزراء اور دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے میئرس ، ڈپٹی میئرس اور کارپوریٹرس کو انتخابی مہم میں شامل کیا تھا۔ کے ٹی آر اور کویتا سدی پیٹ کی انتخابی مہم سے دور رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس اور بی جے پی کو دو دو نشستوں پر کامیابی سے ہریش راؤ کے کمزور موقف کا اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے اسمبلی انتخابات میں 92,000 کی ریکارڈ اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی، جو چیف منسٹر کے سی آر سے زیادہ اکثریت ہے۔ 28 وارڈس کیلئے رائے دہی ہوئی جس میں 16 نشستوں پر ٹی آر ایس کو کامیابی حاصل ہوئی۔ بلا مقابلہ منتخب 6 نشستوں کو ملاکر ٹی آر ایس ارکان کی تعداد 22 ہوچکی ہے۔ 28 نشستوں پر رائے دہی میں 7 نشستوں پر باغی آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی اور ہریش راؤ انہیں مقابلہ سے دستبردار کرانے میں ناکام رہے۔ بی جے پی اور کانگریس کو دو دو اور مجلس کو ایک نشست حاصل ہوئی۔ دیکھنا یہ ہے کہ سدی پیٹ کے نتیجہ کا حکومت اور پارٹی میں ہریش راؤ کے موقف پر کیا اثر پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT