Tuesday , June 27 2017
Home / اضلاع کی خبریں / سدی پیٹ کے اقبال مینار کی تزئین نو کیلئے ایک لاکھ روپئے منظور

سدی پیٹ کے اقبال مینار کی تزئین نو کیلئے ایک لاکھ روپئے منظور

(سیاست میں شائع خبر کا اثر)
سدی پیٹ کے اقبال مینار کی تزئین نو کیلئے ایک لاکھ روپئے منظور
ریاستی وزیر آبپاشی ٹی ہریش راؤ کی اردو دوستی کی زندہ مثال

سدی پیٹ 14؍ مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) علامہ اقبال شاعر مشرق کی یاد میں سدی پیٹ ضلع ہیڈکوارٹر میں قائم کردہ یاد گار اقبال مینار جو کہ مسٹر کے چندرشیکھرراؤ جو اس وقت کے رکن اسمبلی سدی پیٹ اور موجودہ چیف منسٹر تلنگانہ تھے عظیم الشان طریقے سے قائم کیا گیا تھا ۔ اس اقبال مینار کی تنصیب عمل میں لانے میں برصغیر و اردو دنیا کے نامور صحافی پدم شری بانی ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عابد علی خان صاحب مرحوم کا اہم رول رہا ۔ انہوں نے اردو کو قائم و دائم رکھنے کے لئے علامہ اقبال جیسے شاعر دوسروں کے لئے ایک نمونہ قرار دیتے ہوئے اقبال مینار قائم کرنے کے لئے سابق رکن اسمبلی و چیف منسٹر کے سی آر کو ترغیب دی تھی جس پر انہوں نے اقبال مینار اپنے حلقہ اسمبلی سدی پیٹ میں قائم کروایا ۔ جناب عابد علی خان نے اقبال مینار 5 ؍ مارچ 1992 کو رسم افتتاح کیا ۔ اس موقع پر سدی پیٹ میں جشن کا منظر تھا تقریباً کئی سالوں کے دوران اقبال مینار کی دیکھ بھال میں حد درجہ لاپرواہی برتی گئی ۔ اقبال مینار کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے روزنامہ سیاست میں 4 فبروری میں ایک نیوز کی اشاعت کے بعد موجودہ رکن اسمبلی وزیر آبپاشی مسٹر ٹی ہریش راؤ فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اقبال مینار کی آہک پاشی و مرمت کے لئے میونسپل چیرمین راج نرسو کو فنڈ کی منظور کرنے کی ہدایت دی جس پر میونسپل چیرمین نے ایک لاکھ روپئے جاری کرتے ہوئے اس کام کے لئے وارڈ کونسلر محمد وزیر کو ذمہ داری سونپی ۔ لیکن دوسری طرف افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ سدی پیٹ جسے مستقر مقام پر کئی تنظیمیں بشمول سیاسی سماجی تہذیبی مذہبی ادبی اور اسطرح کی دیگر تنظیمیں بھی اپنے اپنے شعبوں میں سرگرم عمل رہنے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کی اپنی خدمات کے دعوے اس وقت کھوکھلے ثابت ہوئے جب وہ ایک طویل عرصہ سے اقبال مینار کی طرف کوئی توجہ نہیں دیا ۔ علامہ اقبال جو کے ایک ایسے شاعر ہیں شاعری سے لوگوں سنگ دل کشادہ ہوجاتے ہیں لیکن یہاں سے رات دن گزرنے والے لوگوں کو اقبال مینار کی طرف کوئی توجہ نہیں کی گئی اگر ان کی نظر میں اس کا احساس بھی ہو تو دانستہ طور پر نظر انداز کیا گیا لیکن روزنامہ سیاست نے اقبال مینار کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو فوری بھانپ کر نیوز کی اشاعت کے ساتھ ہریش راؤ نے اس پر توجہ دی ان کی توجہ کے بعد اردو زبان بولنے والی تنظیموں پر ایک طمانچہ ثابت ہوا ۔ کیونکہ ایک اردو اخبار میں شائع ہونے والی نیوز پر غیر اردو داں وزیر نے فوری توجہ دیا جبکہ اردواں حضرات خواب غفلت کا مظاہرہ کر تے رہے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ علامہ اقبال مینار قائم ہو کر ایک دہے سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اقبال مینار کو دیکھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مینار کی یادگار لوگوں کو دعوت فکر دے رہی ہے کہ کبھی یہ یادگار اسطرح نیست و نابود ہو جائیگی ۔ لیکن روزنامہ سیاست کی سماجی ملی ادبی خدمت نے فوری توجہ دہانی کروایا اب امید ہے کہ یہ مینار اردو مادری زبان بولنے والوں کے لئے ایک دعوت فکر ہے ۔ اور شاہین جس کی نشانی ظاہر کی گئی ہے یہ ان کی اُڑان سے تشبیہی دیتا ہے اس کا مطلب انسان پستی کی طرف نہیں بلکہ اونچائی کی طرف بڑھے مجموعی طور پر یہ ترقی کی طرف اشارہ دیتا ہے ۔ شاہین جیسی یادگار لوگوں کے لئے باعث تقلید ہے ۔ امید ہے کہ لوگ اس کی دانشورانہ فکر کو محسوس کریں گے اور اپنے لئے ایک قابل تقلید بنائیں گے جس کا مقصد اگر عوام اسکو سمجھتے ہو تو نا صرف عوام بلکہ علاقے میں سماجی مذہبی ہر قسم کی ترقی ممکن ہوگی امید کہ مقامی حضرات مستقبل میں اقبال مینار جیسی یادگار کی برقراری میں کسی قسم کی لاپرواہی نہیں کریں گے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT