Monday , October 23 2017
Home / پاکستان / سراج الدین حقانی ملا منصور سے بھی زیادہ خطرناک ؟

سراج الدین حقانی ملا منصور سے بھی زیادہ خطرناک ؟

پشاور ۔ 23 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ یہ بات تقریباً یقین ہوچکی ہے کہ طالبان سربراہ ملا منصور اختر ڈرون حملوں میں ہلاک ہوچکے ہیں وہیں امکانی جانشین کے طور پر افغان گوریلا کمانڈر سراج الدین حقانی کا نام لیا جارہا ہے لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہیکہ حقانی حکومت افغانستان اور اس کے امریکی حلیفوں کیلئے ملامنصور اختر سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ حقانی کو زندہ یا مردہ پکڑنے پر 5 ملین امریکی ڈالرس کا انعام مقرر ہے اور طالبان شورش میں امریکہ اور افغانستان کو سب سے زیادہ خطرناک تصور کرتے ہیں کیونکہ اب تک جتنے بھی خونریز حملے ہوئے ہیں ان کے پس پشت حقانی ہی کارفرما رہا ہے جس کی ایک مثال گذشتہ ماہ کابل میں ہوا خونریز حملہ ہے جس میں 64 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اگر حقانی کو طالبان کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا تو شاید طالبان کی صفوں میں اس کی تائش ہی کی جائے گی کیونکہ وہ ایک ایسی فیملی کے رکن بن جائیں گے جو گذشتہ دو دہوں سے افغانستان میں خونریزی کی ذمہ دار ہے۔ سراج الدین حقانی کے والد جلال الدین حقانی جو اپنی لمبی داڑھی کیلئے مشہور تھے، نے افغانستان میں سوویت افواج کے خلاف بھی مقابلہ کیا اور مجاہدین کے قائد تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب 1979ء اس وقت کی سوویت یونین نے افغانستان پر فوج کشی کی تھی۔ سراج الدین حقانی طالبان کا ڈپٹی کمانڈر بن گیا تھا اور اس طرح اس نے اپنا علحدہ حقانی نیٹ ورک شروع کیا جس نے خوف و ہراس کے  نئے باب کھول دیئے۔ 2001ء میں جس وقت طالبان کو افغانستان سے نکال باہر کیا گیا، اس وقت بھی افغانستان کے جتنے حصوں پر اس کی حکومت نہیں تھی، آج طالبان زیادہ تر علاقوں پر قابض ہے۔ امریکہ بار بار افغانستان حکومت سے اصرار کررہا ہیکہ طالبان کے ساتھ  امن مذاکرات کی جائے لیکن طالبان چاہتے ہوئے بھی اس مذاکرات کو کامیاب ہوتے نہیں دیکھ سکی کیونکہ مذاکرات کی بعض شرائط پر سمجھوتہ نہیں ہوسکا تھا اور نتیجہ تشدد میں اضافہ کی صورت میں سامنے آیا جس نے خونریزی کومزید ہوا دی۔ حقانی نیٹ ورک کو امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بھی انتہائی خطرناک قرار دیا اور سراج الدین حقانی کو بھی ایک مخصوص درجہ کا عالمی دہشت گرد قرار دیا۔

TOPPOPULARRECENT