Tuesday , September 19 2017
Home / اضلاع کی خبریں / سربراہی آب میں کوتاہی کے خلاف عہدیداروں پر برہمی

سربراہی آب میں کوتاہی کے خلاف عہدیداروں پر برہمی

گلبرگہ میں سٹی میونسپل کارپوریشن کا خصوصی اجلاس ، مئیر بھیم ریڈی پاٹل کا خطاب
کلبرگی:/11 اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ٹائون ہال کلبرگی میں 10اگست کی صبح سٹی میونسپل کارپوریشن کا ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا ۔ اس اجلاس میں شہر میں پینے کے پانی کی قلت کو دور کرنے لئے سربراہی آب کے ضمن میںتبادلہ خیال کیا گیا ۔ مئیر کلبرگی مسٹر بھیم ریڈی پاٹل نے اجلاس کی صدارت کی ۔ تمام کارپوریٹرس نے اپنی پارٹیوںکو بالائے طاق رکھتے ہوئے سربراہی آب کے ضمن میں ہونے والی کوتاہی کے لئے عہدہ داران کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ صدر جلسہ مسٹر بھیم ریدی پاٹل نے کہا کہ بارش کی کمی کے سبب ضلع گلبرگہ قلت آب کا شکار ہوا ہے ۔ زیر زمین پانی کی سطح میں کافی کمی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہزیر زمین پانی کی سطح میں کمی ہونے کے سبب بھی پینے کے پانی کی قلت محسوس کی جارہی ہے ۔ انھوںنے کہا کہ اس معاملہ میں عہدہ داران سے تبادلہ خیال کرکے پانی کی قلت کو دور کرنے سے متعلق فوری طور پر حکومت کو روانہ کردی جائیں گی۔ کارپریتر ناگراج نے کہا کہ واٹر سپلائی بورڈ کو شہر میں پانی کی سربراہی کے ضمن میں صحیح معلومات اور اعداد و شمار فراہم کرنے ہوں گے ۔ کارپوریٹر ارتی تیواری نے کہا کہ شہر میں بہت سے مقامات پر پینے کا پانی بلا وجہ ضائع ہورہا ہے لیکن عہدہ داران اس پر توجہ نہیں دے رہے ہیں ۔ ایسے عہدہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے ۔ مئیر گلبرگہ نے اس موقع پر واٹر سپالئی بورڈ کے عہدہ داران امیش پنچال اور ملیکارجن برادر کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں عہدہ داران کی عدم تشفی بخش کار کدگی کے خلاف واٹر بورڈ کو کارروائی کرنی چاہئے ۔ اس موقع پر مسٹرواٹر سپلائی بورڈ کے عہدہ دار اشوک ماڈیالکر نے کہا کہ شہر کے لئے 100ایم ایل ڈی پانی کی ضرورت ہے ۔ بھیما ندی سے 55ایم ایل ڈی اور بینی تھورا ندی سے 18ایم ایل ڈی پانی لیا جاتا ہے ۔ اس طرح یہ پانی جملہ تیس تا چالیس دنوں کے لئے کافی ہوتا ہے۔ اس کے بعد پانی کی قلت شروع ہوجاتی ہے ۔ کرشنا ندی سے بھیما ندی کے لئے نہر کے ذریعہ پانی پہنچانے کی کوشش چل رہی ہے ۔ اگر بارش بالکل نہ ہوئی تو اس صورت میں اجین ڈیام سے 4ٹی ایم سی پانی حاصل کرنے کی تجویز رکھی جائیگی۔ اجلاس میں ڈپٹی مئیر ۔ کارپوریشنکے کمشنر ، قائمہ کمیٹیوں کے صدور ، اور دیگر عہدہ داران شریک تھے ۔

TOPPOPULARRECENT