Thursday , August 17 2017
Home / Editorial News / سرحدات پر امن سے اتفاق

سرحدات پر امن سے اتفاق

امن سے اتفاق ہو تو گیا
کاش قول و عمل بھی یکساں ہو
سرحدات پر امن سے اتفاق
ہندوستان و پاکستان کے مابین تعلقات میں کشیدگی اور سرد مہری عروج پر پہونچ گئی ہے ۔ دونوں ملکوں کے مابین معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگئی تھی ۔ اس کیلئے ہر دو فریقین نے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹہرایا ہے ۔پاکستان کا کہنا ہے کہ اس بات چیت کی تنسیخ کیلئے ہندوستان ذمہ دار ہے جبکہ ہندوستان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اوفا میں ہوئے اتفاق رائے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بات چیت کے التوا کو یقینی بنایاہے ۔اس صورتحال میں دونوں ملکوں کے مابین بارڈر سکیوریٹی فورس اور پاکستان رینجرس کے مابین اجلاس ہوا ۔ اس اجلاس کے انعقاد کے تعلق سے ہی اندیشے ظاہر کئے جارہے تھے۔ یہ امیدیں کم ہوگئی تھیںکہ سرحد پار سے تعلق رکھنے والے فوجی عہدیداران اس ملاقات کیلئے تیار ہونگے بھی یا نہیں۔ تاہم توقعات کے برخلاف بات چیت ہوئی اور وہ بھی خوشگوار ماحول میںہوئی ہے۔ فریقین کے مابین جس انداز میں بات چیت ہوئی ہے اس کی امید نہیں کی جارہی تھی۔تاہم دونوںملکوں کے سرحدی حکام نے سرحدات کو پرامن رکھنے اور یہاں سکون برقرار رکھنے کے تعلق سے فیصلہ کیا ہے ۔یہ فیصلہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں پیدا ہوئی کشیدگی اور سرد مہری کو دور کرنے کا باعث بھی ہوسکتا ہے ۔ شرط یہ ہے کہ جو فیصلہ ہوا ہے اس پر عمل آوری بھی کی جائے اور سرحدات پر حقیقی معنوںمیں امن قائم کیا جائے اور سکون کا ماحول پیدا کیا جائے ۔ جب تک سرحدات پر امن قائم نہیںہوگا اسوقت تک دونوںملکوںکے مابین باہمی اعتماد کی فضا پیدا نہیں ہوگی اور جب تک باہمی امن کی فضا پیدا نہیں ہوگی اس وقت تک کشیدگی کو ختم کرنے اور سرد مہری کو دور کرنے کا موقع نہیں ملے گا ۔ دونوںملکوںکیلئے ضروری ہے کہ وہ باہمی کشیدگی کو کم کرنے پر خاص توجہ دیں۔ سرحدات کا امن دونوںملکوں کیلئے انتہائی اہمیت کاحامل ہے ۔ سرحدات پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور فائرنگ کے تبادلوںسے حالات کو بہتر بنانے میںکوئی مدد نہیں ملتی بلکہ اس سے حالات مزید ابتر ہوتے جائیں گے ۔ حالات کا ابتر ہونا دونوںملکوںمیںکسی کیلئے بھی اچھانہیںہوسکتا ۔اس سے اعتماد بحال کرنے میںمشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
دونوںملکوںکے سرحدی حکام نے جہاں سرحدات پر امن برقرار رکھنے کے تعلق سے فیصلہ کیا ہے وہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ سرحد کے قریب گاووںمیںرہنے والے عوام کی سلامتی اور ان کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے۔یہ لوگ اگراپنے اپنے مکانات میں سکون کے ساتھ رہتے ہیں تواس  سے حالات بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے ۔ سرحد پار سے تجارت کے امکانات کو بھی سرحدی حکام بہتر بناسکتے ہیں۔عوام تا عوام رابطوں کے احیاء کے ذریعہ ہی ان عناصر کے عزائم کو ناکام بنایا جاسکتا ہے جو دونوںملکوں کے مابین دوستی کی فضا پیدا کرنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ یہ عناصر نہیںچاہتے کہ دونوں ملکوں کے مابین دوستی ہو۔ عوام تا عوام رابطے بحال ہوں۔ سرحدات سے تجارت کے راستے بحال ہوجائیں۔ اگر یہ سب کچھ ممکن ہو جائے توہند ۔پاک دوستی کے مخالف عناصر کے عزائم دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ دونوںملکوں کے مابین فی الحال جس نوعیت کے تعلقات ہیں وہ اچھے نہیںکہے جاسکتے ۔ دونوں ملک کے ہر ذمہ دار طبقہ اور گوشے کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تعلقات کو بہتر بنانے کے ہر ممکن اقدامات کریں۔ اپنی اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ سرحدات پر فائرنگ کا سلسلہ فوری بندہونا ضروری ہے۔ اس کیلئے سرحدی دستوں کاعزم بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ خاص طور پر پاکستانی رینجرس کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ بی ایس ایف حکام سے بات چیت میں انہوں نے جو وعدہ کیا ہے اسے بہر صورت پورا کیا جائے ۔ جب تک ان وعدوںپر سنجیدگی سے عمل نہیںکیا جائیگااورانہیںعملی جامہ نہیںپہنایاجائیگااس وقت تک اعتماد سازی کی کوششیں ثمر آور ثابت نہیں ہوسکتیں۔
جس طرح کشیدہ ماحول میں سرحدی دستوں نے ایک اچھی پہل کی ہے اس پہل کومزید سنجیدگی اور مثبت سوچ و فکر کے ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔دونوںملکوںکی سیاسی قیادت کو بھی اپنے اپنے رویہ میں لچک پیدا کرتے ہوئے سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔دونوںملکوںکی باہمی دوستی کسی ایک ملک کیلئے نہیں بلکہ دونوںہی کیلئے بہتر ہوسکتی ہے اور اس سے سارے جنوبی ایشیائی خطہ کوفائدہ ہوسکتا ہے ۔ سرحدات پر امن قائم ہوتا ہے تو دونوں ملک ترقیاتی اور تجارتی امور پر توجہ مرکوز کرسکتے ہیں۔ ایسے کئی گوشے ہیں جن میں دونوں ملک ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے مستفید ہوسکتے ہیں۔ سرحدات پر تجارتی سرگرمیوںکو فروغ مل سکتاہے۔باہمی اعتماد کی فضا پیدا ہوسکتی ہے اور ایک دوسرے سے تعاون کے نتیجہ میں دونوں ملکوں کے عوام ہی کا فائدہ ہوگااور ایسا کرنا دونوں ہی ممالک کا فریضہ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT