Wednesday , August 16 2017
Home / سیاسیات / سرحدپار سے مداخلت کاری پر بی جے پی اور کانگریس میں ٹکراؤ

سرحدپار سے مداخلت کاری پر بی جے پی اور کانگریس میں ٹکراؤ

صرف انتخابات میں ہی بنگلہ دیشی کیوں یاد آتے ہیں ، چیف منسٹر کا سوال
گوہاٹی ۔ 7 ۔ اپریل : ( سیاست ڈاٹ کام ) : آسام میں گذشتہ 40 سال کے دوران تمام انتخابات میں مداخلت کاری کا مسئلہ موضوع بحث رہا اور جاریہ اسمبلی انتخابات میں بھی کوئی استثنیٰ نہیں دیا گیا ۔ اگرچیکہ بی جے پی نے اس مسئلہ کو حل کرنے کا عزم کیا ہے لیکن حکمران کانگریس نے یہ ادعا کیا ہیکہ یہ مسئلہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس سے رجوع کرایا گیا ہے ۔ بی جے پی انتخابی مہم کی قیادت کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ سرحد پار سے مداخلت کاری کی اجازت نہیں دی جائیگی اور اس مسئلہ کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا تاہم چیف منسٹر ترون گوگوئی نے پورے وثوق کیساتھ کہا ہیکہ ریاست میں ایک بھی بنگلہ دیشی نہیں ہے اور شہریوں کی از سر نو شناخت اور اندراج کیلئے میری حکومت ، این آر سی سے رجوع ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے رجسٹریشن کا کام مکمل ہونے کے بعد بنگلہ دیش سے مداخلت کاری کا مسئلہ حل کرلیا جائیگا ۔ تاہم بعض لوگ ہنوز یہ تصور کرتے ہیکہ سرحدوں پر خاردار تار لگانے اور بی ایس ایف کی سرگرم پٹرولنگ کے باوجود مداخلت کاری کا سلسلہ جاری ہے ۔ ریاست میں انتخابی مہم کے دوران مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے عوام سے یہ اپیل کی تھی کہ حکومت کو تھوڑی بہت مہلت دیں تاکہ مداخلت کاری کی روک تھام کیلئے ہند ۔ بنگلہ دیش سرحد کو مہر بند کردیا جائے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ سرحد پار سے مداخلت کاری کے ساتھ بڑے پیمانے پر جعلی کرنسی بھی لائی جارہی ہے جسکے نتیجہ میں ہمارے ملک کی معیشت متاثر ہورہی ہے ۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہیکہ بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات اب خوشگوار ہیں جو پہلے کبھی نہیں تھے اور بی جے پی مداخلت کاری کے مسئلہ کا حل تلاش کرے گی کیوں کہ یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے ۔

بی جے پی کی حلیف جماعت آسام گن پریشد نے بھی آسام معاہدہ کی تمام دفعات پر عمل آوری کی جائے اور مداخلت کا مسئلہ حل کیا جائے ۔ آسام گن پریشد نے بنگلہ دیشی تارکین وطن کو روکنے اور واپس بھیجنے کے لیے 6 سال طویل احتجاجی تحریک چلائی تھی جس کے نتیجہ میں 1985 میں آسام معاہدہ پر دستخط کئے گئے تھے ۔ تاہم کانگریس اور اپوزیشن آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کو اقلیتوں کی روایتی حمایت حاصل ہے اور خبردار کیا کہ بیرونی شہریوں کی نشاندہی کے نام پر حقیقی ہندوستانیوں کی ہراسانی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ چیف منسٹر ترون گوگوئی نے کہا کہ این آر سی کی تجدید کے ساتھ ہند ۔ بنگلہ دیش متصل دیہاتوں کی ترقی کے لیے اقدامات اور فلڈ لائٹس اور بارڈر فیسنسگ کا کام جاری ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کو مداخلت کاری کا مسئلہ انتخابات سے قبل ہی یاد آتا ہے ۔ چیف منسٹر نے جوابی حملہ کرتے ہوئے یہ دریافت کیا کہ آسام گن پریشد نے جو کہ ریاست میں دو میقات کیلئے برسر اقتدار رہی ہے اس کی حلیف بی جے پی نے مرکز میں 6 سال تک حکمرانی کی ۔ مداخلت کاری کے مسئلہ کو حل کیوں نہیں کیا ۔ کانگریس اس عہد پر کاربند ہے کہ آسام میں مقیم تمام فرقوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے ۔ توقع ہے کہ این آر سی ، 1971 کے بعد آسام میں غیر قانونی طریقہ سے داخل ہونے والوں کی نشاندہی کرے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT