Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / سرحد کے شہری علاقوں پر پاکستان کی شلباری، 3 افراد ہلاک

سرحد کے شہری علاقوں پر پاکستان کی شلباری، 3 افراد ہلاک

جموں /28 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی رینجرس کی جانب سے دو بار جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور سرحدی چوکیوں کے علاوہ شہری آبادیوں پر آر ایس پورہ اور ارنیا سیکٹرس میں جو ضلع جموں میں ہیں، بین الاقوامی سرحد کے پاس زبردست شلباری کی وجہ سے کم از کم تین افراد ہلاک اور دیگر 17 زخمی ہو گئے۔ بی ایس ایف جوابی کارروائی پر مجبور ہو گئی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نرمل سنگھ نے پاکستان کی شلباری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو پاکستان کو دہشت گرد مملکت قرار دے دینا چاہئے، کیونکہ وہ ہندوستان پر دہشت گرد حملوں کی اور شہری آبادیوں پر فائرنگ اور شلباری کی سازشوں میں ملوث ہے۔ شلباری اور فائرنگ میں تین شہریوں کی ہلاکت کے علاوہ  دیگر 17 زخمی ہو گئے ہیں، جن میں سے چار کی حالت نازک ہے۔ کثیر تعداد میں مویشی زخمی ہیں اور بعض عمارتوں کو فائرنگ سے نقصان پہنچا ہے۔ ڈپٹی کمشنر جموں سمرین دیپ سنگھ نے کہا کہ سرحد کے محافظ بی ایس ایف فوجیوں نے جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں فائرنگ کا زبردست تبادلہ شروع ہو گیا، جو تازہ ترین اطلاعات پہنچنے تک جاری تھا۔ بی ایس ایف کے فوجیوں نے پاکستان کی سرحدی علاقوں پر فائرنگ کا، جو خط قبضہ کے پاس کی گئی، منہ توڑ جواب دیا ہے، جس سے انھیں زبردست نقصان پہنچا۔

 

پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دیا جائے
بین الاقوامی ڈپلومیسی کیلئے دہشت گردی کو آلہ کار بنایا جارہا ہے
جموں ۔ 28 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی فوج کی جانب سے شلباری کی مذمت کرتے ہوئے جس میں 3 شہری ہلاک اور دیگر 17 زخمی ہوئے ہیں، جموں کشمیر کے ڈپٹی چیف منسٹر نرمل سنگھ نے آج کہا کہ اب وقت آ گیا ہیکہ عالمی برادری پاکستان کو ایک ’’دہشت گرد ملک‘‘ قرار دیں کیونکہ یہ ملک بین الاقوامی ڈپلومیسی کے آلہ کے طور پر دہشت گردی کو استعمال کررہا ہے۔ انہوں نے اخباری نمائندوں بات کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہیکہ عالمی برادری پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دے۔ نرمل سنگھ جنہوں نے جموں میں گورنمنٹ میڈیکل کالج ہاسپٹل کا دورہ کیا اور پاکستانی فائرنگ میں زخمی ہونے والے افراد سے ملاقات کی، کہا کہ میں پاکستان کی اس فائرنگ کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ پاکستان نے سرحدی پٹی پر شلباری کرتے ہوئے شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔ پاکستان اب دہشت گردی کی حمایت کرنے والا ملک ثابت ہوا ہے۔ عالمی برادری کے سامنے وہ بے نقاب ہوچکا ہے۔ نرمل سنگھ نے زخمیوں کو تیقن دیا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ان کی ہر ممکنہ مدد کی جائے گی اور زخمی افراد کو معاوضہ بھی دیا جائے گا۔ پاکستان کی یہ کارروائی مایوسانہ حرکت ہے۔ اب پاکستان عالمی برادری کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے۔ اس کے دہشت گرد حملوں کے باعث دنیا میں اس کا چہرہ پہچان لیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی سرپرستی اور حمایت کرنے والے ملکوں کی تائید نہیں کرنی چاہئے۔ ہندوستان ایسی حرکتوں کو ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔ وہ لوگ مارٹر شلباری کررہے ہیں اور فائرنگ کے ذریعہ معصوم افراد کو ہلاک کررہے ہیں۔ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے الزام میں پاکستان کے دو شہری گرفتار ہوئے ہیں جس کے بعد پاکستان بے نقاب ہوچکا ہے۔

 

پاکستانی سربراہ فوج نے خط قبضہ پر فائرنگ کو
ہندوستان کی دہشت گردی قرار دیا
اسلام آباد ۔ 28اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے خط قبضہ پر فائرنگ کے واقعہ کو ہندوستان زیرسرپرستی دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی ہے جبکہ فوج کے بموجب پاکستان کے 8 شہری ہندوستانی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ جنرل راحیل شریف کے یہ تبصرہ اس وقت منظرعام پر آئیں جبکہ انہوں نے رینجرس کے ہیڈکوارٹرس کا دورہ کیا جہاں انہیں خط قبضہ پر تازہ ترین صورتحال سے واقف کروایا گیا۔ سربراہ فوج نے الزام عائد کیا کہ ہندوستان نے خط قبضہ اور بین الاقوامی سرحد پر کھلے عام جنگ بندی کی خلاف ورزیاںکی ہیں اور دہشت گردی کی تمام حدود پار کرچکا ہے۔ پاکستان کی شہری آبادی بین الاقوامی کنونشنوں اور معیاروں کی اس خلاف ورزی پر برہم ہے۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل اسیم کلیم باجوا نے کہا کہ ہم ہندوستان کی جانب سے دہشت گردی کی سرپرستی کے ٹھوس ثبوت رکھتے ہیں۔ خط قبضہ پر مقیم کئی شہری اس فائرنگ کا نشانہ بنے ہیں۔ ہندوستان فائرنگ اور جنگ بندی کی خلاف ورزی اور شہریوں پر فائرنگ بلااشتعال، غیراخلاقی، غیرذمہ دارانہ اور بزدلانہ حرکت ہے۔ باجوا نے دعویٰ کیا کہ 8 پاکستانی بشمول ایک خاتون اور ایک بچہ ہندوستانی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے جبکہ 47 افراد بشمول 24 خواتین اور 11 بجے زخمی ہیں۔ سربراہ فوج نے مشترکہ فوجی ہاسپٹل سیالکوٹ کا دورہ کرکے زخمیوں کی عیادت کی۔ قبل ازیں دن میں پاکستان کے معتمد خارجہ اعزاز احمد چودھری نے ہندوستان کے سفیر ٹی سی اے راگھون کو طلب کرکے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں پر ہندوستان سے زبردست احتجاج کیا اور دعویٰ کیا کہ ہندوستان کی فائرنگ سے 8 پاکستانی شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ ہندوستان کا دعویٰ ہیکہ پاکستانی فائرنگ سے 3 ہندوستانی شہری ہلاک اور دیگر 17 زخمی ہوگئے ہیں۔ پاکستان نے جموں کے علاقہ میں زبردست فائرنگ اور شلباری آدھی رات کے بعد رات کے آخری پہر میں کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT