Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / سرحد یں ختم کرکے دونوں کشمیروں کوایک کردیا جائے

سرحد یں ختم کرکے دونوں کشمیروں کوایک کردیا جائے

پرچم کشائی کے بعد یوم آزادی پر چیف منسٹر محبوبہ مفتی کا حاضرین سے خطاب
سرینگر ، 15 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں گذشتہ 39 دنوں سے جاری ‘آزادی حامی’ احتجاجی لہر کے درمیان ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ہندوستان اور پاکستان سے اپیل کی کہ وہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں اطراف کے کشمیروں کو ایک دوسرے کے ملائیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اتنا خون بہہ چکا ہے کہ دریائے جہلم کی مزید خون سمانے کی سکت بھی ختم ہوچکی ہے ۔ محترمہ مفتی نے یہاں بخشی اسٹیدیم میں منعقدہ یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہند و پاک سے اپیل کی کہ وہ دونوں کشمیروں کی سرحدوں کو ختم کرکے اسے امن اور ترقی کا نمونہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس مذاکرات کے بغیر کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے ۔ محترمہ مفتی نے کہا ‘میں آج کے دن اپنے ملک اور پاکستان کی لیڈر شپ سے اپیل کرنا چاہتی ہوں کہ یہاں بہت خون بہہ چکا ہے اور اب ہمارے جہلم میں اس خون کو سمانے کی سکت نہیں ہے ‘۔ انہوں نے دونوں ممالک سے ایک جٹ ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ‘آپ دونوں اکٹھے ہوجائیں۔ آپ (پاکستان) کے وہاں بھی بہت مشکلات ہیں۔ غریبی ، مفلسی ، بے روزگاری اور بے کاری ہے ۔ ہمارے یہاں بھی اسی قسم کے مشکلات پائے جارہے ہیں’۔ محترمہ مفتی نے کہا ‘ اگر آپ واقعی جموں وکشمیر سے پیار کرتے ہو اور اسے پسند کرتے ہوتو یہ کشمیر اور وہ کشمیرجیسے اٹل بہاری واجپائی کہتے تھے کہ ہم دوست بدل سکتے ہیں ہمسایہ نہیں، جیسے ڈاکٹر من موہن سنگھ نے کہا تھا کہ ہم سرحدیں تبدیل نہیں کرسکتے مگر سرحدوں کو ختم کرسکتے ہیں، مل جل کر اِن دونوں کشمیریوں کی سرحدوں کو ختم کرکے اورکسی بھی ملک کی سالمیت کو زک پہنچانے بغیر جموں وکشمیر کو امن اور ترقی کا نمونہ بنائیں’۔ وزیر اعلیٰ نے متحدہ کشمیر (آر پار کشمیر) کو سارک کا گڑھ بنانے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا ‘سارک یونیورسٹی بنائی ہے تو جموں وکشمیر میں بنائیں۔ سارک ہینڈی کرافٹس سنٹر بنایا ہے تو جموں وکشمیر میں بنائیں۔ نیپال یا سری لنکا کو کچھ بنانا ہے تو وہ یہاں بنائیں۔ آپ کے سارک ممالک کی کرنسی کونسی ہونی چاہیے ، یہاں سے شروع کریں’۔ انہوں نے وادی کشمیر اور جموں کو پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر اور پاکستان سے ملانے والے تمام قدیم اور تجارتی راستوں کو کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ‘ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے پرانے راستے کھول دیے جائیں۔ کرگل اسکردو، سچیت گڑھ جموں اور استور راستوں کو کھول دیا جائے ‘۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس بات کے بغیر کوئی دوسرا متبادل راستہ نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT