Thursday , August 17 2017
Home / مضامین / سرزمین ہند پر ایک اور فتنہ

سرزمین ہند پر ایک اور فتنہ

محمد ریاض احمد
آجکل صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں یہ دیکھا جارہا ہے کہ شہرت حاصل کرنے کے خواہاں عناصر کو ہزاروں لاکھوں ڈالرس یا روپئے خرچ کرتے ہوئے اپنی تشہیر کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ شہرت، دولت حاصل کرنے کے خواہاں مرد و خواتین صرف ایک شیطانی فارمولہ پر عمل کرتے ہوئے دنیا کی ہر نعمت حاصل کررہے ہیں اور یہ شیطانی فارمولہ اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی ہے۔ چنانچہ وقفہ وقفہ سے ایسے بدبخت مرد اور عورتیں منظر عام پر آرہی ہیں جو نعوذ باللہ سارے جہانوں کے خالق اللہ عزوجل، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، دین اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگل کر اپنے ناپاک دنیاوی مقاصد حاصل کررہے ہیں۔ انھیں اسلام دشمنی کے باعث اقتدار پر بٹھایا جارہا ہے، وسیع القلب اور وسیع الذہن قرار دے کر ان کی پذیرائی کی جارہی ہے۔ میڈیا میں انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا جارہا ہے۔ انسانیت کے دشمن اور کفر و شرک کی گندگی میں لپٹے عناصر اہل ایمان کے خلاف انھیں کھڑا کرنے میڈیا کا بھی بڑی عیاری و مکاری سے استعمال کررہے ہیں۔ اب ساری دنیا میں چاہے وہ امریکہ ہو یا ہماا ملک ہندوستان اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والا راتوں رات مقبولیت کی بلندیوں اور اقتدار کے ایوانوں میں پہنچادیا جاتا ہے اور ماحول میں شیطانی افکار کا تعفن پھیلانے کی خاطر اس طرح کے عناصر کی جو حقیقت میں شیطان کے چیلے ہوتے ہیں ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور یہ  لوگ اعتدال پسند اسلام، اصلاح پسند اسلام، روشن حیال مسلمان، مسلم خواتین کے حقوق، صنف نازک کو بااختیار بنانے، تعداد ازدواج، تین طلاق، خواتین کی ختنہ، لڑکیوں کی تعلم، عصری علوم اور حجاب ( حجاب کی مخالفت میں ) کے نعرے بلند کرتے ہوئے ان کی آڑ میں اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرتے ہیں۔ اسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں میں سے ہی ایسے نام نہاد مسلمانوں کو کھوج نکالتی ہیں جن کے رگ و پے میں خود غرضی، موقع پرستی، عیاشی اور دین بیزاری کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے لیکن ان عناصر کا جو حشر ہوتا ہے اسے دنیا نے ہر دور میں دیکھا ہے۔ ان اسلام دشمن طاغوتی طاقتوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مسلمان کولاکھ براکہا جائے، اس پر تنگ ذہنی، بنیاد پرست، انتہا پسند ہونے کا لیبل چسپاں کیا جائے، دروغ گوئی کا سہارا لیکر اسے دہشت گرد قرار دیا جائے، اسے ناکردہ گناہوں کی سزائیں دی جائیں، اس کے جسم کو لاٹھیوں سے مار کر زخمی اور گولیوں سے چھلنی کردیا جائے، بم دھماکوں کے ذریعہ اس کے جسم کے چیتھڑے اُڑادیئے جائیں، بے قصور ہونے کے باوجود اسے سولی پر چڑھادیا جائے،

اس کی نظروں کے سامنے اس کی اولاد کو ذبحہ کردیا جائے، اس کی عصمت و عفت کو پامال کیا جائے، اس کی املاک کولوٹا جائے، یہ سب کچھ مسلمان برداشت کرسکتا ہے لیکن اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں وہ گستاخی ہرگز برداشت نہیں کرسکتا، شان اقدس ؐ میں جس کسی نے گستاخی کی اس کا کیا حشر ہوا یہ دنیا نے دیکھا، دیکھ رہی ہے اور دیکھتی رہے گی کیونکہ حق و باطل، نیکی و برائی، انسانیت اور شیطانیت کی یہ لڑائی رہتی دنیا تک جاری رہے گی۔ دنیا نے اچھی طرح دیکھ لیا کہ ملعون سلمان رشید نے اپنی کتاب ’ شیطانی کلمات ‘ “SATANIC VERSES” کے بہانہ دین مبین اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تو اسے اپنی جان بچانے کیلئے دردر کی ٹھوکریں کھانی پڑی، تاریک کوٹھریاں، بند کمرے اور کھڑکیاں اس کا مقدر بن گئیں۔ خوف و دہشت نے اس عیاش کو ہر روز مر مر کر جینے پر مجبور کردیا۔ ڈنمارک کے Jylland-Posten میں گستاخانہ کارٹونس شائع کرنے والے بدقماش کارٹونسٹ Kust Westerguard کو ہر طرف موت نظر آنے لگی، اس کے خوف و دہشت کا عالم یہ ہے کہ وہ اپنے گھر میں بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے، فرانسیسی میگزین چارلی ہیڈو نے جب گستاخانہ کارٹونس کی اشاعت عمل میں لاکر بام عروج پر پہنچنے کی کوشش کی اس کے بعد کیا ہوا اس سے بھی ساری دنیا واقف ہے۔ بنگلہ دیش کی بوالہوس مصنفہ تسلیمہ نسرین نے بنگالی ناول ’ لجا ‘ کے ذریعہ قرآن اور اسلامی تعلیمات کے بارے میں جب گستاخی کی اور شریعت کا مذاق اُڑایا ، اس کی ذلت و رسوائی کا آغاز ہوگیا اور 1994 سے وہ اپنا ملک بنگلہ دیش چھوڑ کر دردر کی ٹھوکریں کھارہی ہے۔ اگرچہ اس نے سویڈن کی شہرت حاصل کرلی ہے لیکن اپنی جان چلے جانے کے خوف سے بار بار مقامات بدلتی رہتی ہے۔

اسلامی تعلیمات سے مذاق نے اس سے اس کا چین و سکون اور قرار چھین لیا ہے۔ سلمان رشدی، امریکی پادری ٹیری جونس اور ملعون کارٹونسٹ کرسٹ ویسٹر گارڈ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی شان میں گستاخی کرکے زندگی کی بھیک نہیں مانگ رہے ہیں بلکہ بہت سارے گستاخ خوف و دہشت میں مبتلا ہیں، ان میں خوف ہے کہ کوئی عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اچانک نمودار ہوکر ان کا کام تمام کردے گا۔ ان گستاخوں کی فہرست میں یوگانڈا نژاد کنیڈین ارشاد مانجھی، ترکی نژاد جرمنی شہری ینکلا کیلپ، پاکستانی نژاد و کنیڈین راحیل رضا، امریکی شہری زہدی جامیر، ہسپانوی شہری خالد درون ( اس کے والدین مراقشی نژاد ہیں اور اس نےIslamic Fascism کی اصطلاح متعارف کروائی ) صومالیائی نژاد حارث ہے۔ مساجد میں خواتین کی امامت کی وکالت کرنے والی شیرین خاسکان، صالحہ میری ، آمینہ ودود، اسریٰ قرۃ العین نعمانی، پامیلا گیلر، گیرٹ والڈر جیسے خبیث شامل ہیں ان خبیثوں کی فہرست میں ایک اور نام بڑی تیزی کے ساتھ آگے بڑھا ہے اور وہ ہے پاکستانی نژاد کنیڈین شہری طارق فتح جس کی ذہنی خباثت کا یہ حال ہے کہ اسے اپنے ماں باپ پر بھی اعتراض ہے۔ طارق فتح کے خیال میں اس کے ماں باپ نے اس کا نام طارق فتح رکھ کر غلطی کی ہے، اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو اس کے ماں باپ نے صرف اس کا نام طارق فتح رکھ ہی نہیں بلکہ اسے پیدا کرکے ہی غلطی کی ہے۔ طارق فتح زی نیوز پر ’ طارق فتح کا فتویٰ ‘ نامی ایک پروگرام پیش کررہا ہے اس پروگرام کے ذریعہ دراصل اس کا اور اس کے آقاؤں کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کی تذلیل کرنا اور دیگر آبنائے وطن میں اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے۔ جہاں تک طارق فتح اور اس کے قبیل کے ملعون عناصر کا سوال ہے یہ حقیقت میں دشمنان اسلام کی سرکس کے وہ سنگ ہیں جو ہمیشہ اپنے آقاؤں کے اشاروں پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھونکتے رہتے ہیں۔ طارق فتح اگرچہ پاکستان میں پیدا ہوا لیکن اپنے شیطانی خیالات اور نظریات کے نتیجہ میں اسے وہاں دو مرتبہ جیل جانا پڑا، وہاں سے وہ سعودی عرب منتقل ہوا، اس پاک سرزمین پر بھی وہ ایمان کی دولت سے محروم رہا، وہاں سے امریکہ اور پھر کنیڈا منتقل ہوا اور پھر اسلام مخالف نظریات کے ذریعہ شہرت و دولت حاصل کرلی۔ طارق کی ذہنی خباثت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اللہ عزو جل، ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ، قرآن مجید، بخاری شریف، صحابہ کرامؓ کی شان میں بار بار گستاخی کرتا ہے۔ خداترس مسلم حکمرانوں بشمول حضرت اورنگ زیب عالمگیرؒ کے علاوہ شاعر مشرق علامہ اقبال، اخوان المسلمون کے بانی حسن بناء، سید قطب اور جماعت اسلامی کے بانی مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے تعلق سے ناشائستہ الفاظ استعمال کرتا ہے۔ تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرکے علماء کا مضحکہ اُڑاتا ہے۔ حجاب کی مخالفت کرتے ہوئے اسے جہالت کی علامت قرار دیتا ہے۔ دین اسلام میں اصلاحات کی باتیں کرتا ہے۔ دشمنان اسلام کا یہ شیطانی آلہ کار شریعت کی شدت سے مخالفت کرتا ہے۔ ریزروبینک آف انڈیا نے جب ہندوستان میں تابع شریعت بینکنگ کے منصوبوں کا اعلان کیا تب اس نے آر بی آئی پر شدید تنقید کی اور اسلامی بینکنگ کی مخالفت میں بکواس شروع کردی۔ طارق فتح آزاد خیالی حقوق نسواں کے نام پر اپنی بیٹیوں کی بے راہ روی، بیوی نرگس تیال کی بدقماشی کو بھی وسیع القلبی کی علامت مانتا ہے۔ اس کی نظر میں زنا کوئی برائی نہیں ہے۔ اس نے اپنی ایک بیٹی نتاشا کو ایک عیسائی شخص کے داد عیش کا سامان بنادیا ہے، ایک اور بیٹی نادیہ کو بے راہ روی کی راہ کا مسافر بنادیا جبکہ اس کی بیوی بوہرہ خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ طارق فتح کو سیف علی خاں اور کرینہ کپور کے اپنے بیٹے کا نام تیمور رکھنے پر بھی اعتراض ہے۔ وہ مساجد اور نمازیوں کا دشمن ہے چنانچہ کنیڈا میں اس نے اپنے مضامین کے ذریعہ مسلم سرپرستوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو مسجد جانے سے روکیں۔

اس ملعون کی ان حرکتوں سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ شیطان کے آلہ کار کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا ہے کیونکہ مسجد کو جانے سے شیطان ہی تو روکتا ہے۔ طارق فتح اپنے ہی ملک پاکستان کا وفادار بھی نہیں، وہ خود کہتا ہے کہ وہ پاکستان میں پیدا ہوا ایک ہندوستانی ہے۔ اسلام میں پیدا ہوا ایک پنجابی ہے اور سلمان رشدی کےMidnights Children میں سے ایک ہے ۔ کنیڈا کی سیاست میں بھی اس نے قسمت آزمائی اونٹاریو نیو ڈیموکریٹک پارٹی سے 17برس تک وابستہ رہا۔ انتخابات بھی لڑا لیکن ہار گیا۔ 1977 میں جنرل ضیاء الحق نے اس کے خلاف بغاوت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ وہ سکھ طلباء کو خالصتانی اور کشمیری طلبہ کو دہشت گرد کہتا ہے۔ وہ دنیا کے سامنے خود کو ایک اعتدال پسند مسلم ظاہر کرتا ہے لیکن حقیقت میں اسلام اور مسلمانوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں، اس کی اسلام دشمنی کے باعث ہندوستان میں خود ساختہ قوم پرست اور فرقہ پرست عناصر اور میڈیا اسے ہاتھوں ہاتھ لے رہے ہیں۔ کولکتہ پولیس کو نامرد کہنے والے طارق فتح کی 4برسوں سے ہندوستان میں کافی پذیرائی کی جارہی ہے۔وہ سنگھ پریوار کی تنظیموں کا نور نظر ہے۔ گزشتہ سال راجستھان میں انڈیا فاؤنڈیشن کے زیراہتمام انڈین آئیڈیاز انکلیو کا اہتمام کیا گیا جس میں دائیں بازو کے مفکرین کے ساتھ ساتھ بطور خاص طارق فتح کو مدعو کیا گیا۔ بھوپال میں 2014 میں ہی لوک متھان چوٹی اجلاس سے اس نے خطاب کیا۔ اب زی نیوز جسے ملک کے انصاف پسند عوام  بکاؤ چیانل کا نام دیتے ہیں، مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کیلئے طارق فتح کو استعمال کررہا ہے افسوس کے اس شو میں جو علماء، مفتیان اور دانشور شرکت کرتے ہیں وہ طارق فتح کی مکاری، اس کی عیاری کا باآسانی شکار ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ اس کے شو میں آزاد خیال خواتین اور نام نہاد دانشور بھی شریک ہوتے ہیں جبکہ وہ شہریار شیخ جیسی شخصیتوں کے ساتھ مباحث سے کتراتا ہے۔ طارق فتح جس طرح خالق انسانیت، اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم، قرآن مجید، خانہ کعبہ، بخاری شریف، صحابہ کرامؓ اور علماء کے بارے میں مضحکہ خیز گستاخانہ باتیں کررہا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ بہت جلد اس کے نام کے ساتھ آنجہانی جڑنے والا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ عنقریب دوسرے گستاخوں کیلئے نشان عبرت بن کر تاریخ کے اوراق میں ایک لعنتی کی حیثیت سے گم ہوجائے گا۔ قارئین، اگر ہم مذکورہ تمام گستاخوں بشمول طارق فتح کا تفصیلی جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان میں  ہر لحاظ سے یکسانیت پائی جاتی ہے۔ وہ تمام کے تمام اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اورغیرفطری عمل ہم جنس پرستی، مرد سے مرد اور عورت سے عورت کی شادیوں، شراب نوشی، ذہنی و جسمانی عیاشی، اچاریہ رجنیش کی طرح فری سیکس ( زنا ) کی وکالت کرتے ہیں اور ان سب کا ذہن ان گندگیوں سے پُر ہوتا ہے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT