Tuesday , October 24 2017
Home / اضلاع کی خبریں / سرسلہ میں ریت پر امتناع کے خلاف احتجاج

سرسلہ میں ریت پر امتناع کے خلاف احتجاج

کل جماعتی راستہ روکو مظاہرہ ، آج متاثرین کا اجلاس

سرسلہ۔/6جنوری، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سرسلہ میں مانیر ندی سے ریت کے حصول اور اس کے استعمال پر عائد امتناع کے خلاف کل جماعتی قائدین کے زیر اہتمام احتجاجی پروگرام منظم کیا گیا تھا۔ پولیس اسٹیشن کے پاس کریم نگر کاماریڈی سڑک پر راستہ روکو احتجاج منظم کیا گیا۔ بعدازاں آر ڈی او دفتر کے روبرو بھوک ہڑتال شرو ع کردی گئی۔ اس موقع پر مقامی کانگریس پارٹی دفتر میں کل جماعتی اجلاس منعقد کرتے ہوئے احتجاجی منصوبہ کا اعلان کیا گیا۔ بتایا گیا کہ 7جنوری سے احتجاج میں شدت پیدا کی جائے گی۔ ریت کی منتقلی پر امتناع عائد کئے جانے کے سبب تعمیرات کے کام میں خلل پڑرہا ہے جس کی وجہ یہاں مزدوری کرنے والوں کے روزگار پر اثر پڑا جس سے مزدور پریشان ہیں۔ روزگار متاثر ہونے والے مزدوروں کے ساتھ مزدور سنگھموں نے بھی اظہار یگانگت کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مقامی ملبوسات کے بیوپاری سنگھم بھون میں مشاورتی اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ سرسلہ مانیر ندی سے ریت ضلع سرحد پار کرتے ہوئے حیدرآباد و دیگر مقامات کو غیر مجاز طور پر منتقل کی جارہی ہے۔ چنانچہ کل جماعتی کمیٹی نے اس کے خلاف اپنی جدوجہد میں شدت پیدا کی ہے تاحال ٹریکٹرس کے مالکین کے احتجاجی پروگرام شروع کرچکے ہیں۔ بتایا گیا کہ رات کی تاریکی میں ریت منتقل ہورہی تھی چنانچہ مانیر ندی سے ریت نکال کر لے جانے پر پوری طرح سے امتناع عائد کردیا گیا ہے۔ اس کے باوجود چوری سے ریت نکالی جارہی ہے۔ اس کے خلاف مقامی افراد نے زبردست احتجاج شروع کیا ہے۔ اس لئے مقامی طور پر بھی تعمیراتی ترمیمی کام رک چکے ہیں اور تعمیراتی مزدوروں کے روزگار کا مسئلہ پیدا ہوچکا ہے۔ مقامی طور پر تعمیراتی ضروریات کے لئے ریت کی منتقلی کی اجازت دیئے جانے کا مطالبہ ضلع کلکٹر سے کیا گیا ہے۔ مقامی عوام میں بھی حکومت کے فیصلہ پر برہمی پائی جاتی ہے۔ چنانچہ وزیر پنچایت راج  و آئی ٹی مسٹر کے ٹی آر کے دورہ سرسلہ کی اطلاع کے باوجود یہاں عوام میں کوئی جوش و خروش نہیں پایا جاتا اور عوام نے اس تعلق سے کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے بلکہ یہاں کل جماعتی قائدین کی جانب سے احتجاجی پروگرام کا آغاز کرلیا گیا ہے۔ مقامی صدر کانگریس ایس سرینواس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مقامی تعمیراتی ضروریات کیلئے بھی ریت کی منتقلی کو روک دیا گیا ہے جس کی وجہ سے کئی تعمیراتی مسائل اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں 400 روپئے میں ٹپر خریدا جاتا تھا جبکہ اس کی قیمت 2900 روپئے ہوچکی ہے اور اس قیمت پر بھی  ریت حاصل نہیں ہورہی ہے۔ انہوں نے موجودہ حالات میں ریت پر سے امتناع برخواست کرنے کا پرزور مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT